لاہور میں چند ماہ کے دوران 10 اہم مذہبی شخصیات ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنیں

09 دسمبر 2013

لاہور (میاں علی افضل سے) صوبائی دارالحکومت میں گزشتہ چند ماہ میں 10اہم مذہبی شخصیات کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا دیا گیا جبکہ لاہور پولیس اہم مذہبی شخصیات پر حملے کرنیوالے کسی ایک ٹارگٹ کلر کو گرفتار نہیں کر سکی سازش کے تحت مذہبی شخصیات کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر شہر میں فساد برپا کرنے کی کوششیں کرنے والے خطرناک ملزمان کی گرفتاری کی بجائے لاہور پولیس مہنگے داموں سبزیاں اور کم مقدار میں پٹرول فروخت کرنے والے افراد کے خلاف کارووائی میں مصروف عمل ہے فرقہ واریت پھیلانے کی بھرپور کوششیں کرنے والے ٹارگٹ کلرز کے خلاف لاہور پولیس کی جانب سے مختلف تھانوں میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات تو درج کر لئے گئے لیکن تفتیش آگے نہیں بڑھ سکی نہ کسی ملزم کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی کوئی چالان پیش ہوا۔ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناتے ہوئے ڈاکٹر شبیہ الحسن کو قتل کر دیا گیا جس کے خلاف تھانہ شمالی چھاونی میں مقدمہ درج کیا گیا۔ شاکر علی رضوی ایڈووکیٹ کو ٹارگٹ گلنگ کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کرنے پر تھانہ پرانی انارکلی میں مقدمہ درج کیا گیا۔ مسعود عابد نقوی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے پر تھانہ مزنگ میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ڈاکٹر سید علی اور سید مرتضی علی حیدر کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کرنے پر تھانہ گلبرگ میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے حسین نقوی کو قتل کیا گیا جس کا مقدمہ تھانہ گڑھی شاہو میں درج کیا گیا۔ ٹارگٹ گلنگ کے ذریعے سید ارشد علی کو قتل کرنے پرتھانہ مصری میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ڈاکٹر صغیر اصغر بلوچ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے پر تھانہ ریس کورس میں مقدمہ درج کیا گیا۔ غلام رضا جعفری کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے پر تھانہ شالیمار میں مقدمہ درج کیا گیا جبکہ حافظ شمس الرحمان معاویہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے پر تھانہ روای روڈ میں ٹارگٹ کلرز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔  
ٹارگٹ کلنگ مقدمات