نیلسن منڈیلا کیلئے سینٹ میں دعائے مغفرت؟

09 دسمبر 2013

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے نیلسن منڈیلا کے ساتھ ہندو لیڈر گاندھی جی کا ذکر کیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ نیلسن نے انتقام کی بجائے اتحاد کو اپنایا۔ گاندھی نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے انتقامی سیاست کی۔ یہ انتقام بھارتی مسلمانوں سے اب تک لیا جا رہا ہے۔ پاکستان انتہا پسند ہندو¶ں کے لئے آج بھی قابل قبول نہیں۔ منڈیلا نے دکھ دینے والے گوروں کو معاف کر دیا۔ ہمارے حکمران برا وقت پڑنے پر معافی مانگ لیتے ہیں مگر مخالفوں کو معاف نہیں کرتے۔ وہ معافی کی طاقت کو نہیں سمجھتے۔ خلیل جبران نے لکھا ہے کہ قاتل کے لئے یہی سزا کافی ہے کہ اسے معاف کر دیا جائے۔ وہ اندر سے مر جائے گا۔ کالوں سے بڑھ کر گوروں نے انہیں جنوبی افریقہ کا صدر منتخب کر لیا۔ انہیں جیل بھیجا تو وہ دہشت گرد تھے باہر نکلے تو صدر بنے۔ اس طرح تو ان کے ساتھ آصف زرداری کا ذکر برمحل ہے۔ زرداری صاحب کرپشن کے الزام میں جیل گئے انہیں ٹین پرسنٹ اور ہنڈرڈ پرسنٹ کہا گیا۔ وہ جیل سے نکلے تو ایوان صدر پہنچا دئیے گئے۔ ان کے مخالفوں نے پانچ سال کی مدت پوری کرنے کے لئے پورا تعاون کیا۔ ”صدر“ زرداری نے مفاہمت کی سیاست کی اور اپنوں اور غیروں کو حیران کیا پریشان بھی کیا۔ سابق صدر کے طور پر بھی ان کی سیاست جاری و ساری ہے۔
نیلسن منڈیلا کی شخصیت کے لئے کھل کر کوئی بات کرنا مشکل ہے۔ متنازعہ آدمی سے محبوب آدمی تک انہوں نے ناقابل فراموش سفر کیا۔ زندگی کو ایک اور زندگی بلکہ زندگیاں بنانے کی کوشش کی۔ جبکہ ہمارے ہاں حکمرانوں نے یہ حال کر دیا ہے کہ استاد دامن نے کہا
ایتھے کیویں گزرایئے زندگی نوں
ایہو سوچدے سوچدے گزر گئی
دنیا بھر میں اور پاکستان میں ان کا ذکر ایک دل والے درد مند اور دانا آدمی کی طرح ہو رہا ہے۔ ان کی موت پر سینٹ میں ڈاکٹر بابر اعوان نے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیلسن منڈیلا نسلی امتیاز کے ”آئی کون“ ہیں۔ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہونے والے نیلسن منڈیلا نے پرامن جدوجہد کی۔ جوانی میں جیل گئے۔ رہا ہوئے تو بوڑھے ہو چکے تھے۔ ایک واضح کامیابی کے بعد بھی انہوں نے مفاہمت کی سیاست کی۔ یہ بہت بڑی بات تھی کہ صدارت کی ایک ٹرم پورا ہونے کے بعد سیدھے گھر چلے گئے۔ تاحیات صدر بنائے جانے کے مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی سیاست اور حکومت سے ریٹائر ہونے کے لئے کوئی تیار ہی نہیں ہوتا۔ ریٹائرمنٹ کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور ہمارے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے مرنا ہی نہیں ہے۔ بار بار وزیراعظم بننے کا جواز اس لئے کہ اقتدار کی باری ہماری ہے۔ انہیں نیلسن منڈیلا کو خراج تحسین پیش کرنے کا کیا حق ہے؟ ڈاکٹر بابر اعوان نے جب یہ کہا کہ آج کل پاکستان صدارتی آرڈیننس کی فیکٹری بن چکا ہے۔ مخالف لوگوں کے ٹیلی فون ٹیپ کئے جا رہے ہیں۔ پولیس وارنٹ کے بغیر کسی گھر میں چھاپہ مار سکتی ہے۔ جس آدمی کو چاہیں کئی مہینوں تک قید میں رکھ سکتے ہیں۔ یہ وہ قوانین ہیں کہ جو حکمران بناتا ہے پھر وہ اپوزیشن میں خود ان کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان کی باتوں سے گھبرا کر حکومتی سینیٹر راجہ ظفر الحق نے نیلسن منڈیلا کے لئے دعائے مغفرت کرانا شروع کر دی۔ بیٹھے بٹھائے راجہ صاحب اچانک لبرل ہو گئے وہ تو انہیں مرحوم کہنے والے تھے کہ سینیٹ میں شور مچ گیا۔ شکر ہے کہ نماز جنازہ کا خیال کسی کو نہ آیا۔ آنجہانی نیلسن منڈیلا کی غائبانہ نماز جنازہ کی امامت راجہ صاحب کرتے۔ برادر کالم نگار فضل اعوان نے لکھا ہے کہ شاید وہ لوگ باوضو نہ تھے۔ یہ لوگ نماز کے لئے وضو کی شرط کو ضروری نہیں سمجھتے۔ زندگی میں سب کچھ پا لینے والے کو دعائے مغفرت کی کیا ضرورت ہے؟ آنجہانی نیلسن منڈیلا کا فیصلہ بھی اللہ کی عدالت میں چلا گیا۔ غیر مسلم کی خوبیاں اوصاف اور کارکردگی کی بنیاد پر ان کے لئے دعائے مغفرت کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔ گاندھی جی کے مرنے پر قائداعظم جیسے کشادہ فطرت اور عالیٰ ظرف آدمی نے صرف یہ کہا کہ ایک گریٹ ہندو لیڈر مر گیا۔ نیلسن منڈیلا مر کر بھی نہیں مرے کہ ان کا ذکر ہوتا رہے گا۔ بلاشبہ وہ ایک عظیم اہل درد لیڈر تھے۔
راجہ صاحب کیلئے سینیٹر طلحہ محمود نے سخت اعتراض کیا۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کے لئے دعائے مغفرت ہو سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی۔ یہ فیصلہ کرنے کا حق راجہ ظفر الحق کا نہیں ہے۔ حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے والے کی مذمت کرنے والے اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔
سینیٹر اعتزاز احسن سینیٹ میں بھی اسی طرح بات کرتے ہیں جیسے چیف جسٹس کی بحالی کے لئے تحریک کے آخری دنوں میں وکلاءسے خطاب کرتے تھے اور وکلاءشرم سے مسکراتے رہتے تھے۔ اعتزاز نے جب یہ کہا کہ نیلسن منڈیلا نے اصولی سیاست کی تو اکثر سینیٹرز مسکرانے لگے۔ دو ایک کی ہنسی بھی نکل گئی۔ پاکستان میں اصولی سیاست اور ”وصولی“ سیاست میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سیاست اور وکلاءلیڈری کی بیک وقت کوشش نے اعتزاز کی ساکھ راکھ میں ملا دی چیف جسٹس کا ڈرائیور اب ان سے الوداعی ملاقات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔
امریکہ کے کالے صدر اوباما نیلسن منڈیلا کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔ تو پھر وہ نیلسن منڈیلا بن کر بھی دکھائیں۔ دونوں کے لئے گوروں نے بھی ووٹ ڈالا تو پھر اوباما کی ظالمانہ اور خوف زدہ سیاست نیلسن منڈیلا کی دوستانہ اور دلیرانہ سیاست سے مختلف کیوں ہے؟ نیلسن منڈیلا صدر نہیں ہیں پھر بھی لوگ ان سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ صدر اوباما جب صدر نہیں رہیں گے تو لوگ انہیں اس طرح بھی یاد نہیں رکھیں گے جیسے وہ صدر بش کو بھلا چکے ہیں۔ ظلم و ستم بے انصافی اور اپنی طاقت کے لئے صدر اوباما صدر بش سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ وہ سابق صدر ہو کر صدر بش سے پیچھے رہ جائیں گے۔ وہ صدر کینیڈی اور صدر ابراھام لنکن نہ بن سکے۔ وہ مرنے سے ڈرتے ہیں۔ تبدیلی کی خواہش بھی ان کے اندر نہیں۔ کوشش وہ خاک کریں گے۔ وہ ایک محبوب اور کامیاب صدر کے طور پر جی نہیں سکے تو مر کے ہی دکھا دیں۔ بہت فرق نیلسن منڈیلا اور صدر اوباما میں ہے فرق تو مارٹن لوتھر کنگ اور صدر اوباما میں بھی ہے۔ وہ صدر نہ بن کے بھی کنگ ہیں اوباما صدر بن کے بھی کنگ نہیں بن سکے۔ حکومت دلوں پر ہوتی ہے۔ کمزوروں پر نہیں ہوتی۔ مارٹن لوتھر اپنے مقصد کیلئے قتل ہو گیا۔ اوباما صدر بن گیا۔ صدر تو نیلسن منڈیلا بھی بن گیا تھا مگر سابق صدر ہو کر کم کم لوگ ہوتے ہیں کہ دنیا ان کی محبت میں زندہ ہو۔ نیلسن منڈیلا لیڈر تھے اور اوباما حکمران ہیں۔ منڈیلا کو جو شخص ملتا گورا ہو یا کالا۔ وہ خود کو پہلے سے بہتر آدمی سمجھتا۔ کیا صدر اوباما نے نیلسن منڈیلا سے ملنے کے بعد کچھ محسوس کیا تھا؟ نیلسن منڈیلا سے نواز شریف بھی ملے تھے تو پھر؟ شاید یہ بات ڈاکٹر بابر اعوان کے ذہن میں نہ آئی تھی؟ نیلسن منڈیلا کے لئے ایک شعر کا دوسرا مصرعہ
وہ شخص دھوپ میں دیکھو تو چھا¶ں جیسا ہے