جناب ِبھٹو اور میاں نواز شریف!

09 دسمبر 2013

مَیں نے جنوری 1970ء میں مرکزی جمعیت عُلماء اسلام کے قائد مولانا احتشام اُلحق تھانوی کے دورہء مشرقی پاکستان کی کئی شہروں میں 18دِن کوریج کی۔ اُن دِنوں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن کے ’’بنگلہ نیشنل ازم اور سوشلزم‘‘ کا بہت چرچا تھا۔ مولانا احتشام اُلحق تھانوی واحد مذہبی راہنما تھے جو اپنی تقریروں میں (اُس دَور کے) نوجوانوں کے مسائل بھی  ہمدردانہ طور پر بیان کیا کرتے تھے۔ مولانا تھانوی خُوش اُلحان تھے اور حسبِ حال شعربھی ترنم سے پڑھا کرتے تھے۔ یہ شعر مرحوم کی ہر تقریر میں سجا ہوتا تھا کہ۔۔
’’سنبھالا ہوش تو، مرنے لگے، حسِینوںپر ۔۔۔۔ ہمیں تو، موت ہی آئی ،شباب کے بدلے‘‘
دسمبر 1970ء کے عام انتخابات میں  عوامی لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اِس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ نوجوان طبقہ نے اُن دونوں پارٹیوں کی کامیابی کے لئے بھر پور جدوجہد کی تھی ۔ پاکستان میں صدر اور پھر وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اور اُن کے بعد وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو اور اُن کے بعد صدر زرداری نے اپنے اپنے دَور میں پارٹی کے چند ایک نوجوانوں کو کسی نہ کسی حیثیت سے اقتدار میں شامل کرکے  سمجھ لیا تھا کہ انہوں نے نوجوانوں کے مسائل حل کر دئیے۔ جنابِ زرداری نے اپنے بیٹے بلاول زرداری کو ’’بھٹو‘‘ کا خطاب دے کر ’’قائدِ عوام ثانی‘‘ بنانے کی ناکام کوشش کی لیکن اب اُن کے پاس صِرف ’’سندھ کارڈ‘‘ رہ گیا ہے اور وہ بھی نہ جانے کب پھِسل جائے؟ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے دونوں ادوار میں کرپشن عروج پر تھی لیکن جنابِ زرداری کے دونوں وزرائے اعظم اور حُکمران پارٹی کے اکثر لوگوں نے لُوٹ مار کا عالمی ریکارڈ قائم کر دِیا۔ 23 دسمبر 2012ء کو وزیرِاعظم راجا پرویز اشرف نے کہا تھا کہ ’’صدر زرداری کا پانچ سالہ دور پاکستا ن کا سنہری دور ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اپنی کارکردگی کی بنا پر آئندہ انتخابات میں"Sweep" کرے گی‘‘۔  اب ’’سنہری دور‘‘ کے سبھی حُکمران قانون اور قدرت کے شکنجے میں آنے سے خوفزدگی کے عالم میں ہیں۔
7 دسمبر 1970ء کو قومی اسمبلی کے عام انتخابات میں مغربی پاکستان سے جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں دوسری اکثریتی پارٹی بن کر ابھری تھی اور اُس کے ٹھیک 43 سال بعد 7 دسمبر کو وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے اسلام آباد میں ’’نوجوانوں کے لئے قرض پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے جنابِ بھٹو کو یاد کِیا۔ جب کہا کہ ’’بھٹو صاحب کی نیشنلائزیشن کی پالیسی سے مُلک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ اداروں کو سرکاری تحویل میں دینے سے ملکی مُعیشت تباہ و برباد ہُوئی۔ نیشنلائزیشن کی پالیسی نہ ہوتی تو آج خِطّے میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والا مُلک پاکستان ہوتا۔ جنوبی کوریا اور کئی دوسرے مُلک ہم سے آگے نِکل گئے ہیں۔ شرم کا مقام یہ ہے کہ 60ء کی دہائی میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا لیکن 70 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے 32 بڑی اور دیگر چھوٹی صنعتوں کو سرکاری تحویل میں لے کر مُلکی مُعیشت کا بیڑا غرق کر دِیا‘‘۔ جناب نواز شریف نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے پہلے دَور کی یاد بھی دِلائی جب کہا کہ ’’مَیں نے 1990ء میں اقتدار میں آکر نجکاری کا عمل شروع کِیا اور جو بنک اُس وقت کروڑوں روپے منافع کما رہے ہیں‘‘۔ 60ء کی دہائی یعنی صدر ایوب کے دَور میں، ہونے والی ترقی کے بارے میں عوامی شاعر حبیب جالب ؔ نے کہا تھا۔۔۔
’’بِیس گھرانے ہیں آباد، صدر ایوب زندہ باد‘‘
اُس دَور میں بھی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچے تھے۔ آٹا 20 روپے من ہُوا تو لوگ بلبلا اُٹھّے تھے۔ 24مارچ 1943 کو اجلاس مسلم لیگ نئی دہلی سے خطاب کرتے ہُوئے مستقبل کے پاکستان کا نقشہ کھینچتے ہُوئے قائدِ اعظم ؒ نے کہا تھا۔ ’’اگر سرمایہ دار اور زمیندار عقل مند ہیں تو وہ اپنے آپ کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لیں گے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو پھر خُدا اُن کے حال پر رحم کرے۔ ہم اُن کی کوئی مدد نہیں کریں گے‘‘۔ سوشلزم /اسلامی سوشلزم کا نفاذ جنابِ بھٹو کی پارٹی کا منشور تھا لیکن انہوں نے ’’اپنے سے بھی بڑے سوشلسٹ‘‘ وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن کے مشورے سے مُلک میں "Mixed Economy" (مخلوط مُعیشت) رائج کی۔ یعنی آدھا تِیتر اور آدھا بٹیر۔ موجودہ وزیرِ خزانہ جناب محمد اسحق ڈار بھی مُغل بادشاہ ہمایوں پھر شیر شاہ سُوری اور اُس کے بعد ’’اکبر بادشاہ‘‘ کے وزِیرِ خزانہ اور 22 صوبوں کے دیوان راجا ٹوڈر مل کی طرح ’’ہر فن مولا‘‘ نہیں ہیں۔ غریب آدمی اب بھی ’’دو جمع دو‘‘  کا حاصل  چار روٹیاں سمجھتا ہے اور اب ایک روٹی آٹھ روپے میں مِلتی ہے۔ یعنی 20 روپے میں اڑھائی روٹیاں!۔
وزیرِاعظم نواز شریف کی نوجوانوں کے لئے قرض سکِیم قابلِ تعریف ہے۔ قائدِاعظم کی خواہش کے مطابق ’’فلاحی مملکت‘‘ کی طرف ایک چھوٹا سا  قدم۔ وزیرِاعظم تسلِیم کرتے ہیں کہ ’’پاکستان میں 10 کروڑ اور 80 لاکھ نوجوان ہیں۔ ظاہر ہے یہ سب کے سب بے روزگار تو نہیں ہوں گے اور نہ ہی سرکاری قرض کے طلبگار پھر بھی  100 ارب روپے میں سے ’’میرٹ کی بنیاد پر‘‘ کتنے نوجوانوں کو قرض دِیا جا سکے گا؟۔ اور جِن بے روزگار نوجوانوں کو اس پروگرام کے تحت قرض نہ مِل سکا اُن کے دِلوں پر کِیا گُزرے گی؟۔اگر نوجوانوں کے لئے قرض پروگرام وفاقی اور صوبائی وزرائ، ارکانِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی اور با اثر بیورو کریٹس کی دست بُرد سے محفوظ رہا اور واقعی میرٹ پر نوجوانوں کو قرض دِیا گیا تو وہ سب اور اُن کے خاندان کے سبھی افراد  وزیرِ اعظم نواز شریف اور یوتھ بزنس قرض پروگرام کی چیئرپرسن مریم نواز کو  دُعائیں دیں گے۔ یہ میاں نواز شریف کے لئے کسی نہ کسی کی دُعا ہی تھی کہ اُن کا جناب  ذوالفقار علی بھٹو کا سا حشر نہیں ہُوا اور وہ  14سال بعد وزیرِاعظم کی کرسی پر رونق افروز ہیں۔ خلیفہ چہارم حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے اپنے گورنر مالک بِن اُشتر کو لِکھا تھا کہ ’’اگر یہ کُرسی جِس پر تُم بیٹھے ہو مستقل ہوتی تو تُم تک کیسے پہنچتی؟‘‘۔