مولانا شمس الرحمن کے قتل کیخلاف کئی شہروں میں مظاہرے جاری، ریلیاں

09 دسمبر 2013

لاہور+ فیصل آباد (خصوصی نامہ نگار + نامہ نگاران + نمائندہ خصوصی) اہلسنت والجماعت پنجاب کے صدر مولانا شمس الرحمان معاویہ کے قتل کیخلاف حافظ آباد، فیصل آباد، قلعہ دیدار سنگھ سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری رہے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ مظاہرین نے احتجاجی بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر قاتلوں کی گرفتاری کے مطالبوں پر مشتمل نعرے درج تھے جبکہ سرگودھا اور کمالیہ میں ہڑتال کی گئی۔ اہلسنت و الجماعت کے قائم مقام سیکرٹری جنرل مولانا مسعود الرحمن عثمانی نے کہا کہ مولانا شمس الرحمان کے قتل کو 2 دن سے زائد گزر جانے کے باوجود قاتلوں کی عدم گرفتاری انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مولانا شمس الرحمان کی شہادت امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ اگر حکومت نے قاتلوں کی گرفتاری کے وعدے کو پورا نہ کیا تو آئندہ جمعہ کے روز تمام ملک کی اہم شاہراہوں پر دھرنے دئیے جائیں گے جبکہ اگلے لائحہ عمل کیلئے 15دسمبر کو جنرل کونسل کے اجلاس ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قائم مقام صوبائی صدر مولانا اشرف طاہر، جمیل معاویہ، مولانا حسین احمد، شیخ اکمل اور قاری ایوب کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا مسعود الرحمان عثمانی نے کہا کہ اہلسنت و الجماعت نے قیام امن کیلئے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا مگر ہماری امن کوششوں کا جواب جارحیت سے دیا گیا ہے۔ بہاولپور سے نامہ نگار کے مطابق چوک فوارہ پراحتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوا ئے وقت کے مطابق اہلسنت و الجماعت کے ضلعی صدر ملک اختر حسین کی قیادت میں فیصل پلازہ سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ شرکاءنے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ ضلعی دفتر سے شروع ہونیوالی ریلی گوجرانوالہ روڈ، فوارہ چوک اور کچہری بازار سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی۔ شرکاءریلی نے بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔ قلعہ دیدارسنگھ سے نامہ نگار کے مطابق اہلسنت و الجماعت کے زیراہتمام ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ احتجاجی جلوس مکی مسجد سے مین بازار گلہ اعجاز والا مین گوجرانوالہ حافظ آباد روڈ سے ہوتا ہوا لاری اڈا پر اختتام پذیر ہوا۔ مقررین نے حکومت سے ملزمان گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ رہنماﺅں نے کہا کہ عالمی قوتیں ملک میں خانہ جنگی کروانا چاہتی ہیں۔ حکومت دینی مدارس اور علماءاکرام کو تحفظ دے اور دہشت گردوں کو بے نقاب کرے۔ دےپالپور سے نامہ نگار کے مطابق جامعہ رحمےہ سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ سرگودھا سے نامہ نگار کے مطابق سرگودھا میں ہڑتال کی گئی، شہر کے اہم بازار بند رہے اور احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی۔ کمالیہ سے نامہ نگار کے مطابق کمالےہ مےں شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی گئی اور اقبال بازار، صدر بازار، رےلو ے روڈ سمےت تمام مارکےٹوں اور تجارتی اداروں کاروبارِ زندگی بند رہا۔ چیچہ وطنی سے نامہ نگار کے مطابق جامع مسجد بلاک 12سے احتجاجی ریلی نکالی۔ ٹوبہ ٹےک سنگھ سے نامہ نگار کے مطابق احتجاجی رےلی نکالی گئی جس کی قےادت ضلعی صدر حافظ اوےس نے کی۔ علاوہ ازیں فیصل آباد میں بھی اہلسنت و الجماعت کے ضلعی صدر قاری حبیب الرحمن کی قیادت میں ضلع کونسل چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگا کر ٹریفک بلاک کردی جبکہ شدید نعرے بازی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت علماءکرام کو بھی تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ احتجاج کے باعث 2 گھنٹے تک ٹریفک بلاک رہی۔
احتجاجی مظاہرے/ ہڑتال