بھارتی حکمران قیادت کی بڑھکیں اور حقیقتِ حال

09 دسمبر 2013

 کچھ دن قبل بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھارتی عوام کو گمراہ کرتے ہوئے اور اپنی فوجی طاقت کی غلط فہمی میں انتخابی مجبوریوں کے تحت یہ بیان دے دیا کہ میری زندگی میں پاکستانی فوج جنگ نہیں جیت سکتی! اور نہ طاقت کے استعمال سے پاکستان کامیاب ہو گا۔ اگلے دن بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بیان داغ دیا کہ ’’کشمیر بھارت کا ’’پھُول‘‘ ہے! کسی صورت ’’مسلنے‘‘ نہیں دیں گے۔ پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں حملے کرائے جا رہے ہیں! چند دن بعد اب بھارتی وزیر داخلہ شوشیل کمار شندے کے ’’مڑوڑ‘‘ اٹھے ہیں اور پاکستان پر بلاثبوت الزامات لگاتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ ’’پاکستانی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے امریکہ سے مل کر ’’کارروائیوں‘‘ سے گریز نہیں کریں گے!! امریکہ ممبئی حملوں کے ملزمان بے نقاب کرنے میں بھرپور مدد فراہم کر رہا ہے!
بھارتی وزیراعظم کا یہ کہنا کہ میری زندگی میں بھارتی فوج سے پاکستانی فوج جنگ نہیں جیت سکتی، بھارتی عوام کو دھوکے میں رکھ کر، غلط فہمی کا شکار کروا کر، تباہ کرانے کی سوچ ہے اور یہ اشارہ ہے کہ بھارتی لالوں کے ذہن میں پاکستان سے جنگ کے ’’جراثیم‘‘ موجود ہیں لیکن عملی طور پر زمینی صورتِ حال مختلف ہے! بھارتی وزیراعظم کو ابھی کل  کے کارگل، دراس، لیہہ اور دیگر بھارتی برفانی  مورچوں پر پاکستانی مجاہدین اور فوجی شیروں کے ’’قبضے‘‘ اور پاکستانی فوج کی فتح کیوں بھول گئی ہے! پاکستانی فوج نے بھارتی فوج کو شکست دے کر ہی 21 ہزار فٹ بلندی کے بھارتی دفاعی اور حملہ آور تمام نظام کو کئی ہفتے تاریخی سبق سکھائے رکھا ہماری بہادر  بٹالین NLI نمبر 6 اور مجاہدین نے بھارت  کے سینکڑوں جوانوں اور افسروں کی ’’ہلاکت اور شکست‘‘ ساری دنیا کو دکھا دی تھی حالانکہ پاکستانی فوج کی 20 ہزار فٹ تک سپلائی لائن مکمل طور پر جاری نہ رہی پھر بھی بھارتی فائٹر فضائی طیارے 3 عدد گرا کر بھارتی ائرفورس کو اگلے حملے سے روک دیا کہ کوئی جہاز واپس نہیں گیا تھا! اربوں روپے کا گولہ بارود بھارت نے جھونک دیا لیکن پاکستانیوں سے فتح کئے ہوئے پہاڑ، پوزیشن اور سڑک نہیں چھُڑا سکے اور  جب بھارتی فوج کے کشمیر میں (5 لاکھ) ’’قید گھیرے‘‘ میں آنے کا خطرہ واضح ہوا تو واجپائی نے بل کلنٹن کو واشنگٹن میں ’’خرافات‘‘ بھی بکیں اور ساتھ ہی ترلے کر کے پاکستانی وزیراعظم میاں نوازشریف کو واشنگٹن بلا کر جنگ بندی اور بھارتی علاقے خالی کرنے پر زور دیا اور ایسا ہی ہوا! یہ تلخ ترین لیکن ’’سچ ترین‘‘ اصل حقیقت ہے!
پاکستانی افواج 1999ء کے مقابلے میں 2013ء میں فضائی، برّی، بحری، میزائل دفاع و حملے تباہ کاری کے لئے بھارت کے میدان میں آنے کے انتظار میں ہیں اگر پاکستان پر حملہ ہوا  تو 1971ء کے ’’پرانے قرض‘‘ کو بھی بھارتی تباہ کاری سے اُتار دیا جائے گا۔ 2002ء سے پہلے واجپائی نے پاکستانی بارڈرز پر اپنی تمام تر حملہ آور صلاحیت اور فوج ’’آگے‘‘ تعینات کر دی تھی جو ایک سال وہاں ’حملے‘ کا حکم ملنے کا انتظار کرتی رہی لیکن  عملاً کچھ نہ ہو سکا۔  اور آج  من موہن سنگھ کا بھی یہی حال ہے وجہ صاف ہے کہ پاکستانی ایٹمی میزائل ’’بھارتی ایمپائر‘‘ کو 6 تا 18 منٹ میں پتھر کے دور سے بھی پیچھے پہنچا سکتے ہیں۔ ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہندوئوں، بھارتی عوام کو بے وقوف بنانا حقیقت سے آنکھیں چُرانا ہے اس لئے  لالہ کبھی دنیا میں امن بھائی چارے مذاکرات کی بات کرتا ہے کبھی بغل میں چھُری  دکھا کر انتخابات میں ووٹ لیتا ہے پاکستان پر کھلی جنگ  تھوپنے کی بھارتی لالے کبھی  جرأت  نہیں کریں گے۔
بھارتی وزیر داخلہ سلمان خورشید بھی غلط فہمی کا شکار ہیں اُن کو واجپائی اور وزیر خارجہ (1999ئ) سے رابطہ کرنا چاہئے جب لاہور کے گورنر ہائوس میں واجپائی نے پاکستانی وزیر خارجہ سرتاج عزیز کو ہندو اکثریتی اضلاع (جموں اور چند دوسرے) بھارت کو دے کر سودا بازی کرتے ہوئے باقی تمام مقبوضہ کشمیر آزاد کرانے کا وعدہ دے کر جلد از جلد ’’پیشرفت‘‘ کرنے کا کہہ دیا تھا۔  واجپائی اِس طرح کشمیر کا قضیہ ختم کرانے پر تیار تھے آج بھی بیک چینل ڈپلومیسی ’’کچھ لو اور دو‘‘ پر چل رہی ہے! کشمیر (مقبوضہ) تو سلمان خورشید کو چھوڑنا ہے البتہ ’’پھول‘‘ کشمیر کو سلمان خورشید اور فوج نے آگ، بارود، ایندھن، بموں، گولوں میں ’’اڑا‘‘ دیا اب وہ کس مُنہ سے کشمیر کو ’’پھول‘‘ کہتے ہیں بارود، بھارتی فوجیوں، سرحدی فورس کی دہشت گردی میں ’’پھول‘‘ کہاں اب تو ’’کانٹوں کے باغ‘‘ لگا دئیے جو بھارتی فوج اور سرکار کو ’’چُننے‘‘ ہیں!! باقی امریکہ سے مل کر پاکستان میں کارروائیوں کی دھمکیاں ہمارے لئے چیلنج ہیں جسے پاکستانی عوام، فوج اور حکمران قبول کرتے ہیں۔