نیلسن منڈیلا کی یاد میں یوم عبادت، ہمارے خاندان کا ستون چلا گیا: فیملی ترجمان

09 دسمبر 2013

نیو یارک +جوہانسبرگ (نمائندہ خصوصی +بی بی سی/ ایجنسیاں) نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت بننے والے نیلسن مینڈیلا کی یاد میں آج جنوبی افریقہ میں یومِ عبادت و سوگ منایا جائے گا۔ صدر جیکب زوما جوہانسبرگ میں ایک گرجا گھر میں سروس میں شریک ہوں گے جبکہ دن بھر مختلف مذاہب کی جانب سے خصوصی عبادات کے پروگرام بنائے گئے ہیں۔ منگل کو ایک قومی میموریل سروس ہو گی اور 15 دسمبر کو ریاستی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ منگل کی میموریل سروس میں امریکی صدر بارک اوباما، ان کی اہلیہ اور تین سابق امریکی صدور جارج بش، بل کلنٹن اور جمی کارٹر بھی شریک ہوں گے۔ منڈیلا کے انتقال پر جنوبی افریقہ کے علاوہ دنیا کے اکثر ملکوں میں قومی سوگ کا اعلان کیا گیا اور کئی ممالک کے پرچم اس عظیم رہنما کی موت پر سرنگوں ہیں۔ ادھر جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کے انتقال کے بعد پہلی بار ایک بیان جاری کرتے ہوئے نیلسن منڈیلا کے خاندان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل تھیمبا نے کہا کہ ہمارے خاندان کا ستون چلا گیا تاہم وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں ہمارے ساتھ رہیں گے۔ انہوں نے نیلسن منڈیلا کا موازنہ ایک ایسے درخت سے کیا جو ان کے خاندان کو سایہ اور تحفظ فراہم کرتا تھا۔ جاری ہونے والے بیان میں ترجمان نے کہا کہ گذشتہ دو روز ہمارے خاندان کے لیے آسان نہیں تھے اور آنے والا ہفتہ بھی مشکل ہو گا تاہم جنوبی افریقہ اور پوری دنیا سے ملنے والی ہمدردی سے ہمارے خاندان کو حوصلہ ملا ہے۔ واضح رہے نیلسن مینڈیلا کی آخری رسومات میں پاکستانی صدر ممنون حسین، امریکی صدر بارک اوباما سمیت دنیا کے کئی رہنما شرکت کریں گے۔ جنوبی افریقہ کی حکومت نے مینڈیلا کی وفات پر نو روز کے سوگ کا اعلان کیا۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، پرنس چارلس اور ممکنہ طور پر پرنس ولیم بھی جنوبی افریقہ جائیں گے۔ ان کے علاوہ چین، کیوبا، ایران، اسرائیل اور فلسطین کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔ عظیم جنوبی افریقی رہنما نیلسن منڈیلا کی یاد میں تقاریب اور خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جوہانسبرگ میں مادیبا کے گھر کے باہر ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ آنے والے اپنے ساتھ گلدستے بھی لائے۔ گانوں اور رقص کے ذریعے نیلسن منڈیلا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ کیپ ٹاﺅن کی مقامی بیکری نے تو نیلسن منڈیلا کی یاد میں کپ کیکس متعارف کرائے۔ پورٹ الزبتھ کے نیلسن منڈیلا سٹیڈیم میں جنوبی افریقہ اور کینیڈا کے میچ سے پہلے جنوبی افریقہ کا ترانہ پڑھا گیا اور کھلاڑیوں نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ اسی طرح کیپ ٹاﺅن میں بھی باسکٹ بال کلب کے میچ میں کھلاڑیوں نے بازو¿وں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر نیلسن منڈیلا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اے ایف پی کے مطابق جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ منڈیلا کی آخری رسومات میں 53 ملکوں کے سربراہان شرکت کرینگے۔ ایرانی میڈیا نے صدر روحانی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ منڈیلا کی تدفین میں شریک نہ ہوں۔ اخبار کیہان نے کہا ہے کہ جوہانسبرگ میں ان کا اوباما سے آمنا سامنا ہو سکتا ہے جو عظیم شیطانی حکومت کے سربراہ ہیں۔ جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر اور نوبل امن انعام یافتہ نیلسن منڈیلا کے کسی بھی ٹی وی کو دئیے جانے والے پہلے انٹرویو کی وڈیو منظر عام پر آ گئی۔ نیلسن منڈیلا نے برطانیہ کے نجی ٹی وی چینل انڈیپنڈنٹ ٹیلی ویژن نیوز INT کو یہ انٹرویو مئی 1961ء میں 42 سال کی عمر میں دیا تھا۔ جب وہ گرفتاری سے بچنے کے لئے کسی خفیہ مقام پر رو پوشی اختیار کئے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 27 سال اسیری میں گزارنے کے بعد آزادی پائی۔ دلائی لاما جنہیں 2009ءکے بعد سے دو مرتبہ جنوبی افریقہ کیلئے ویزا جاری نہیں کیا گیا تھا، اپنے ساتھی نوبل انعام جیتنے والے منڈیلاکی تدفین میں شرکت کا منصوبہ نہیں رکھتے، یہ بات ان کے ترجمان نے اتوارکے روز بتائی۔مغربی کنارے کے فلسطینی شہر رملا میں فلسطینیوں کی جانب سے نیلسن منڈیلا کی یاد میں ایک دعائیہ تقریب منعقد کی گئی یہ تقریب ہولی فیملی کیتھولک چرچ میں ہوئی جس میں پی ایل او کے سینئر رہنماﺅں نے بھی شرکت کی۔ بیت اللحم کے سینٹ کیتھرائن کیتھولک چرچ میں بھی دعائیہ تقریب منعقد ہوئی۔ پی ایل او کے مطابق دیگر شہروں میں بھی دعائیہ تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں۔
منڈیلا
منڈیلا