غربت کے خاتمہ کے لئے اقدامات !

09 دسمبر 2013

چوہدری فرحان شوکت ہنجرا
ملک میں زراعت کے شعبے سے وابستہ پھلوں ،سبزیوں ، پھولوں کی پیداوار میں اضافے اور لائیو سٹاک کے شعبے میں پیداوار بڑھا کر باآسانی اربوں ڈالرزرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے کاشت کار، کاروباری حضرات، تاجر، مزدور کی حالت میں خاطر خواہ بہتری لائی جا سکتی ہے۔ دیہی علاقوں میں مہنگائی کے سدباب کے لیے زراعت و لائیو سٹاک کے شعبے کو ترقی دےکر اس پرباآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔ حکومت کی عدم توجہ، زراعت و لائیو سٹاک محکموں کی عوام الناس کی راہنمائی کے لیے مناسب فورم نہ تشکیل دینے اور خود کسانوں کا روایتی فصلوں سے ہٹ کر پھلوں سبزیوں، پھولوں لائیو سٹاک میں دلچسپی نہ رکھنے سے ان کا معیار زندگی روز بروز گر رہا ہے۔
یہ کھلی حقیقت ہے کہ مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے۔ انسانی خوراک کی بنیادی ضرورت آٹا، گھی، چاول، دالیں، گوشت، دودھ، سبزیوں میں مرکوز ہے۔ اگر پاکستان کی 65فی صد آبادی جو خالصتاً دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔ جن کا کاشت کاری سے براہ راست تعلق ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ 65فی صد آبادی پر مشتمل کی اکثریت کاشتکار، مزدور، نان کاشتکار طبقہ دودھ، سبزیاں ، گو شت اور ڈیری مصنوعات بھی مارکیٹ سے خرید کر لاتے ہےں، جو کہ باعث حیرت ہے۔ امریکہ یورپ میں تو کاشتکار طبقہ اپنے گھروں اور کھیتوں میں سبزی اور دیگر لوازمات کے لیے کچن گارڈننگ کو فروغ دے کر اپنے گھریلو بجٹ کو متوازن بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے مگر ہم صرف باتوں تک ہی محدود ہیں۔
دودھ، گوشت، سبزیوں کے فروغ کے کلچر کے لیے پاکستان کے کاشتکاروں کے کرنے کے کام فرض کرلیں کہ ایک دیہات جن میں 200گھرانے آباد ہیں اور اس کی اوسط آبادی 2000ہے۔ ظاہر ہے اس 200گھرانے پر مشتمل ایک گاو¿ں میں ہرکسی کے پاس تو زرعی زمین نہیں ہوتی لیکن زمین نہ رکھنے والے افراد کسی نہ کسی کاشتکار کے پاس ملازمت ضرور اختیار کرتے ہیں۔ اس کی زمین میںفصلوں اور جانوروں کی نگہداشت کرنے والے بھی ہوتے ہیں اور کئی افراد سرکاری ملازمتوں کے علاوہ محنت مزدوری کے لیے فیکٹریوں کارخانوں میں جاتے ہیں۔ کاشتکار چاہے بڑے زرعی رقبے کا مالک ہو یا اوسطاً 5ایکڑ تک اگر وہ صرف اپنی زرعی زمین میں 1کنال زمین موسم گرما و موسم سرما کی مناسبت سے سبزیوں کے لیے مختص کردے اور ان سبزیوں کی کاشت ان کی کیاریوں کی تیاری، گوڈی، پانی دینے کے عمل پر اگر اپنے گاﺅں کے کسی فرد یا اپنے مزارع کو اس کی نگرانی پر لگا دے تو کاشتکار اور مزارع مزدور کو گھر میں روزانہ سبزی میسر آسکتی ہے آج اوسطاً 7افراد پر مشتمل گھر انے کے لیے سبزی کی بازار سے خریداری پر اوسطاً 120روپے خرچ آتا ہے جو کہ ماہانہ 4200روپے بنتا ہے۔ سبزیاں کاشت کرنے سے یہ اخراجات بالکل ختم ہوسکتے ہیں۔
دودھ بنیادی ضرورت لیکن اس کا حصول سب کے لیے کیسے ممکن
گیلپ سروے آف پاکستان کے مطابق پاکستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والے 80%افراد کے پاس ممالیہ جانور ہیں جن میں گائے، بھینس، بکری، اونٹنی وغیرہ اور کاشتکار حضرات کے لیے دودھ کا حصول اس لیے آسان اور منافع بخش کاروبار ہے کہ وہ اپنی زرعی زمین کا کچھ حصہ مال مویشی کے چارے کی کاشت کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ گندم کی فصل سے اسے خشک چارہ توڑی، چاول کی فصل سے پرالی وغیرہ حاصل ہوجاتی ہے۔ لہٰذا جس گھر میں سے 3سے 5لٹر کھلے دودھ کی قیمت 325روپے روزانہ اور ماہانہ 9750روپے بنتی ہے۔ ان اخراجات سے نجات مل سکتی ہے۔
دوسری جانب دیہات میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے پاس زرعی رقبہ مال مویشی نہیں ہے کہ جس سے ان کو دودھ میسر آسکے ۔ اس کے لیے اگر کاشتکار حضرات ایک دودھ دینے والا جانور گائے یا بھینس زمین نہ رکھنے والے کو دے کہ وہ اس کی دیکھ بھال کرے اور آدھا دودھ جانور پالنے والے کا آدھا مال مویشی دینے والے میں تقسیم ہو تو یہ انتظام دین اسلام کی ہدایت کے مطابق کمزور کی مالی مدد کا احسن طریقہ ہے۔
گوشت کا حصول
کاشتکار حضرات گائے بھینس، بھیڑ، بکریوں کو زیادہ سے زیادہ پالنے کا اہتمام کریں۔ اچھے نسل بالخصوص دو غلی نسل کے جانوروں کا انتخاب کریں۔ بھیڑ، بکریوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو پالیں اس سے لحمیات کا حصول ہو سکے گا اور یہ منافع بخش کاروبار بھی ہے اسے وہ فروخت کرکے باآسانی ایک چھوٹے جانور کو فروخت کرکے 10سے 12ہزار میںفروخت کرسکتے ہیں۔ آج بکرے کا گوشت 600روپے کلو گائے بچھڑے کا گوشت 300روپے کا ہے جو کہ عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہے۔ غلہ بانی کو فروغ دے کر دیہی علاقوں کے لوگ نا صرف گوشت کے حصول میں خود کفیل ہوسکتے ہیں بلکہ یہ کام ذریعہ روز گار اور گوشت کی پیداوار میں بھی اضافے کا باعث ہو گا۔
 غلہ بانی کا فروغ
مال مویشی پالنا انبیاؑ کی سنت ہے اگر کاشتکار اور کاروباری حضرات دیہی علاقوں میں رہنے والے بے زمین مزدور طبقے کی معیار زندگی بلند اور خود بھی مالی فائدہ چاہتے ہیں اور گوشت کی ایکسپورٹ کرکے ملک کو اور اپنے سرمایہ میں اضافہ چاہتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ لائیو سٹاک کے شعبہ میں سرمایہ کاری کریں۔ بکری یا بھیڑ کا ایک ماہ کا بچہ فی کس 5000روپے میں منڈی مویشی یا لائیو سٹاک فارمر سے مل جاتا ہے اگر 60 کی تعداد میں بھیڑ بکری کے بچے جو تقریباً 3لاکھ روپے مالیت کے بنتے ہیں ان کو پالنے کے لیے کسی گاﺅں کے فرد کو دے دیے جائیں تو ایک سال کے بعد اگر انھیں فروخت کیا جائے تو اوسطاً فی کس جانور 18ہزار روپے میں فروخت ہوگا یعنی 60جانور 10لاکھ 80ہزار روپے میں فروخت ہوں گے۔ اس میں سے جانوروں کی قیمت خرید 3لاکھ نکال دی جائے تو 7لاکھ 80ہزار روپے یعنی ایک فرد کو 3لاکھ 90ہزار روپے منافع جو کہ ماہانہ 30ہزار روپے بنتا ہے۔ اور پورے ملک کے دیہاتوں میں اس کلچر کو فروغ دیا جائے تو پاکستان میں گوشت کی پیداوار میں انقلاب اور پاکستان کے تاجر سرمایہ دار بیرون ملک بالخصوص حج کے موقع پر قربانی کے جانور فروخت کرکے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ خود اور ملک کے لیے حاصل کرسکتے ہیں۔
حکومت کے کرنے کے کام
حکومت دیہی علاقوں میں کم آمدنی والے افراد کو لائیو سٹاک کی مد میں 3لاکھ روپے مالیت کے بلا سود قرضے فی کس شخص کو جانور خریدنے کی مد میں دے تو ان شاءاللہ ان جانوروں کی فروخت سے وہ مالی لحاظ سے بھی خوشحال ہوجائےں گے اور اللہ کے فضل و کرم سے زکوٰة و عشر دینے والا بن جائیں گے اور اگر حکومت کے ادارے ان افراد سے خود جانور خرید ے اور گوشت ایکسپورٹ کرکے بیرون ممالک کو فروخت کرکے زرمبادلہ حاصل کرسکتی ہے۔
محکمہ زراعت و لائیو سٹاک کا اصل ہدف
صنعت کے بعد ملکی معیشت کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت پر مشتمل محکمہ زراعت و لائیو سٹاک اگر دیہات، مشمولہ جات میں ان محکموں کے افسران و فیلڈ ورکرز نمبردار، آئمہ کرام کی مدد سے کاشتکاروں اور عام افراد کو سبزیوں کی کاشت غلہ بانی کے فروغ، دودھ گوشت کی پیداوار کیسے حاصل کی جاسکتی ہے پر لیکچرز دیں اور زرعی فصلوں کی کاشت کے ساتھ کاشتکاروں کو دودھ، گوشت کی پیداوار بڑھانے اور مالی خوشحالی کے لیے جانور پالنے کو ترجیح میں شامل کروادیں تو پاکستان سے غربت کا با آسانی خاتمہ ہوسکتا ہے۔
 الحمد للہ پاکستان میں سال کے ہر ماہ میں لا تعداد قسم کے پھل مارکیٹ میں آتے ہیں۔ دوسرے ملک کے پھلوں کے مقابلے میں ہمارے پھل ذائقے کے اعتبار سے اللہ کے فضل و کرم سے سب سے بہترین ہیں۔ لیکن پنجاب میں باغات کے رقبے اور کاشت میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ ضلع لاہور میں امرود و الیچی کے باغات سگیاں، شرقپور روڈ پر واقع باغات تیزی سے ختم رہے ہیں اور نئی پرائیویٹ ہاﺅسنگ سوساٹیاں ان باغات پر غالب آگئی ہیں۔ کبھی یہ دنیا کے لیے خوبصورت ایڈونچر تھا کہ سڑک کے دائیں بائیں الیچی، امرود، فالسے کے باغات تھے آج وہاں ہاﺅسنگ سوسائٹیاں نظر آرہی ہیں۔ میں حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کسی بھی قسم کی ہاﺅسنگ سوسائٹی یا کمرشل کاروبار کے لیے باغات کا کاٹنے پر پابندی عائد کرنے کا قانون منظور کرے۔ٹنل فارمنگ کے زرےعے سبزےوں کی کاشت ملک بھر مےں ٹنل فارمنگ کے زرےعے بے موسمی کاشت کے زرےعے سنزےوں کا حصول سارا سال جاری رہنے کا عمل بڑی تےزی سے فروغ پا رہا ہے لےکن ےہ سبزےاں عام صارف کو سستی دستےاب نہےں ہوتےں اور ان کی وہ غذائےت قدرتی موسم کی مناسبت سے کوئی مماثلت نہےں رکھتی لہذا کاشت کار حضرات کوشش کرےں کہ اگر انہوں نے غےر معمولی زرمبادلہ حاصل کرنا ہے تو ان سبزےوں کو وہ بےرون ملک اےکسپورٹ کرےں ۔
مہنگائی سے بچنے کے لےے شہری اور دےہی آبادی سبزےوں کی کاشت کو فروغ دےں
پاکستان مےں جس تےزی سے مہنگائی بڑھ رہی ہے دنےا مےں اس کی مثال کم ملتی ہے ےہاں تو آلو،ٹماٹر،پےاز،مٹر اور دےگر سبزےوں کی فی کلو قےمت اےک امرےکی ڈالر سے بھی بڑھ گئی جس سے غرےب متوسط طبقہ ہی نہےں امےر طبقہ بھی شدےدمتاثر ہوا۔پاکستان کے دےہی علاقوں مےں رہنے والی آبادی بھی اگر سبزی بازار سے خرےد کر لائےں تو ےہ حےرت کی باتکاشت کار حضرات اپنی زرعی زمےن مےں صرف 2 کنال سبزی کی کاشت کے لےے وقف کر دےں تو سارا سال موسم سرما،گرما،اور بہار کی سبزےاں تازہ حاصل کر سکتے ہےں ۔دھنےا،پودےنہ ،ٹماٹر،پےاز،لہسن تو شہر کے رہنے والے افراد بھی گملوں مےں اگا سکتے ہےں گھرےلو بجٹ دےکھا جائے تو اےک 5 افراد کے گھرانے مےں سبزی پکانے کے لےے دھنےا،پودےنہ،لہسن،پےاز،ٹماٹر 50 روپے ےعنی 500 روپے ماہانہ اور بڑے گھرانے کےلئے 100 روپے3000 روپے ماہانہ پڑتا ہے اگر ےہ گھر کے صحن اور گملوں مےں کاشت کر لی جائے تو سارا سال موج مہنگائی کا مقابلہ کفاےت شعاری سے با آسانی کےا جا سکتا ہے حکومت پنجاب اور دےگر صوبائی حکومتےں دےہی اور شہری آبادےوں کو کچن گارڈننگ کے فروغ کے لےے بھر پور تشہری مہم چلائےں ۔