لہسن کی فصل کو بیماریوں سے بچانے کی تدابیر

09 دسمبر 2013

 نوید عصمت کاہلوں
لہسن کا شمار دنیا کی قدیم ترین سبزیوںمیں ہوتا ہے۔ اقتصادی طور پر یہ ایک انتہائی منافع بخش فصل ہے۔ لہسن کو عموماً کھانے کا ذائقہ بڑھانے کےلئے بطور مصالحہ جات استعمال کیا جاتا ہے۔ پیاز کی طرح اس کے گٹھے کے اوپر بھی جھلی ہوتی ہے، جھلی کے اندر 40-40 پوتھیاں ہوتی ہیں۔ ان پوتھیوں کے اوپر پھر علیحدہ جھلی ہوتی ہے اور اس جھلی کے اتار کر لہسن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ طبی لحاظ سے لہسن جسم میں موجود کولیسٹرول کو صاف کر کے انسان کو دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کےلئے انتہائی مفید ہے اس کے علاوہ اس کا استعمال بخار، کھانسی اور جلدی بیماریوں اور کان کے درد میں مفید سمجھا جاتا ہے۔آب وہوا اور کاشت : لہسن کے پودے کو زمین کے اوپر والے حصے کی نشوونما اور بڑھوتری کےلئے چھوٹے دن اور کم درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کےلئے اس کی بروقت کاشت ضروری ہے تاکہ موسم سرما کے دوران چھوٹے اور ٹھنڈے دنوں میں پتے زیادہ قد آور ہوسکیں۔ملتان، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازیخان، وہاڑی، بوریوالہ، خانیوال، میاں چنوں کے علاقوں میں لہسن کی کاشت اکتوبر میں شروع ہوتی ہے جو کہ نومبر کے آخر تک جاری رہتی ہے۔لہسن گلابی اور لہسن وائٹ کے علاوہ چائنیز تین اقسام ہیں۔300سے400کلو گرام تریاں فی ایکڑ بطور بیج استعمال کریں جبکہ چائینز بیج کی شرح ڈیڑھ سے دوگنا ہوتی ہے۔ اس کی پیداوار کی ضامن ذمین کی زرخیزی ہے بھاری زمین میں لہسن کاشت نہ کریں۔ لہسن کی کاشت کےلئے زمین اچھی طرح تیار کریں۔ کاشت سے ڈیڑھ ماہ قبل گہرا ہل چلا کر زمین کو اچھی طرح ہموار کر لیں۔ بعد ازاں 10-8ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد زمین میں ملا کر آبپاشی کر دیں جس سے کھیت میں جڑی بوٹیاں اگ آئیں گی، ان کو کاشت سے پہلے تلف کر دیں۔ کاشت کے وقت زمین میں دو تین مرتبہ ہل چلا کر اور سہاگہ پھیر کر زمین کو تیار کر لیں اور زمین کو 5-5 مرلہ کی کیاریوں میں تقسیم کر لیں۔
 کھیتی میں قطار سے قطار کا فاصلہ 8-6انچ جبکہ پودے سے پودے کا فاصلہ 3انچ رکھیں۔ کاشت کے وقت خیال رکھیں کہ تریاں نہ تو بہت گہری لگائیں اور نہ ہی بہت اوپر کاشت کریں۔ کاشت کے بعد آبپاشی کر دیں۔
کیمیائی کھادوں کا استعمال:۔ لہسن کی بہتر نشوونما کےلئے نائٹروجن انتہائی ضروری غذائی جزو ہے ماہ نومبر میں 80کلو گرام امونیم سلفیٹ یا 40کلو گرام یوریا فی ایکڑ استعمال کریں بعد ازاں دسمبر میں اسی مقدار میں امونیم سلفیٹ یا یوریا کا استعما ل کریں تیسری مرتبہ جنوری کے وسط میں 40 کلو گرام امونیم سلفیٹ یا 20کلو گرام یوریا فی ایکڑ استعمال کریں۔شروع میں فصل کو دو تین بار 7دن کے وقفہ سے پانی دیں جبکہ بعد میں آبپاشی کا وقفہ 14 دن تک بڑھا دیں۔ دسمبر، جنوری کے مہینوں میں آبپاشی کا وقفہ 21 دن کر دیں جبکہ فروری مارچ میں آبپاشی کا وقفہ 14 دن رکھیں۔ بارش ہونے کی صورت میں آبپاشی کا وقفہ بڑھا دیں۔ فصل سے خودرو پودوں اور جڑی بوٹیوں کی تلفی کےلئے 4-3 مرتبہ مناسب وتر میں گوڈی کریں۔
لہسن کی بیماریاں و کیڑے:۔ لہسن کی بیماریوں میں سب سے اہم لہسن کاارغوانی جھلساﺅ (Purple Blotch)ہے یہ بیماری پتوں پر سفید چھوٹے چھوٹے دھبوں کی صورت میں نمودار ہوتی ہے جو جلدی بھوری رنگت اختیار کر لیتی ہے جیسے جیسے دھبوں کا محیط بڑھتا ہے اس کا رنگ ارغوانی ہونا شروع ہو جاتا ہے جبکہ کناروں کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے جس کے ارد گرد پیلے رنگ کا حلقہ بن جاتا ہے۔ دھبوں کا پھیلاﺅ اوپر کی طرف اور نیچے کی طرف ہوتا ہے اور بالآخر سارا پتا اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ شدید حملہ کی صورت میں لہسن کی تریاں بھی متاثر ہوتی ہیں، ان کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور وہ گلنا سڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس بیماری کے پھیلاﺅ کا سبب بیمار پودوں کے حس وخاشاک اور متاثرہ بیج ہوتے ہیں لہٰذا بیماری سے بچاﺅ کےلئے ہمیشہ کھیت میں تندرست بیج کاشت کریں۔ مزید برآں بیج کو بحساب 2گرام فی کلو گرام بینلٹ یا کپتان لگا کر کاشت کریں۔ کھیت سے بیمار پودوں کے حس و خاشاک تلف کر دیں لہسن پر تھرپس کے حملہ کی صورت میں ڈائیکران یا مانیٹر بحساب 2تا 3سی سی فی لٹر پانی ملا کر سپرے کریں۔
برداشت:۔ راولپنڈی، اسلام آباد اور یکساں موسمی عوامل رکھنے والے علاقوں میں لہسن مئی میں برداشت کے قابل ہو جا تاہے۔ برداشت کے بعد لہسن کو 10-8دنوں تک چھوٹے چھوٹے گٹھوں کی شکل میں باندھ کر کھلی اور ہوادار جگہ پر ذخیرہ کر لیں۔پیداوار: لہسن کی فصل سے 6ٹن فی ایکڑ تک تازہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ چائنیز اقسام کی پیداوار دوگنا حاصل کی جا سکتی ہے۔