عروس البلاد دہشتگردی کی لپیٹ میں روزانہ کروڑوں روپے کی بھتہ وصولی ........ تاجر پریشان ‘ صنعتی عمل متاثر

09 دسمبر 2013

عبدالقدوس فائق
شہر قائد کراچی نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ یہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شہر میں ملک کی دو بندرگاہیں کے پی ٹی اور پورٹ محمد بن قاسم واقع ہے رات دن نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کیلئے بھی درآمدی وبرآمدی سامان کی ہینڈلنگ میں مصروف رہتی ہیں ان بندرگاہوں سے روزانہ 10ہزار سے زائد ٹرالر‘ٹینکرز اورٹرک درآمدات بالخصوص پیٹرولیم‘ خوردنی تیل‘ صنعتی خام مال ‘ چائے‘ ادویات ‘ صنعتی خام مال‘ کیمیکلز لے کر اندرون ملک روانہ ہوتے ہیں تو کم از کم 8ہزار سے زائد ٹرک اورٹرالرز برآمدی سامان جس میں ٹیکسٹائلز‘ کاٹن‘ ٹیکسٹائل کی مصنوعات‘ چاول ‘ سیمنٹ ‘ ایتھانول ‘ مچھلی‘پھل‘ سبزیاں اوردیگر سامان لے کر بندرگاہ پہنچتے ہیں ۔ ڈھائی کروڑ نفوس سے زائد آبادی کے اس شہر میں 7بڑے صنعتی علاقہ ہیں ملک کا اولین اور سب سے بڑا صنعتی علاقہ سائیٹ کہلاتا ہے۔ اس کا سنگ بنیاد بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے رکھا اوراس میں قائم کی جانے والی پہلی صنعت کا بھی آپ نے ہی افتتاح کیا۔ اس کے بعد کورنگی کا صنعتی علاقہ ہے جہاں صنعتوں کے علاوہ دو بڑی آئل ریفائنریز بھی ہیں۔ تیسرا صنعتی علاقہ لانڈھی‘ چوتھا فیڈرل بی ایریا‘ پانچواں نارتھ کراچی‘ چھٹا پورٹ محمد بن قاسم ہے جہاں بندرگاہ کے علاوہ پاکستان اسٹیل اور بجلی گھرقائم ہیں اور ساتواں صنعتی علاقہ سپرہائی وے سائیٹ کہلاتا ہے ان کے علاوہ لیاقت آباد‘ کورنگی ‘بنارس‘ اورنگی ٹاﺅن‘شیرشاہ‘ فیڈرل بی ایریا کے مختلف بلاکس میں چھوٹی ہزارہا صنعتیں قائم ہیں جبکہ ہزارہا کارخانے نشتر روڈ‘ رنچھوڑ لائن‘ لیاقت آباد‘ ملیر‘ کورنگی میں پرزے اوردیگر مصنوعات تیار کرنے میں مصروف ہیں یہ شہر وفاق کو ٹیکس ریونیو کی مد میںاس کی آمدنی کا 62فیصد حصہ ادا کرتا ہے۔ اسی طرح اس شہر میں جوڑیا بازار‘ میرٹ روڈ‘ بولٹن مارکیٹ‘ ٹاور‘ ڈینسو ہال‘شاہراہ لیاقت پر تجارتی اداروں کے دفاتر‘ تھوک مارکیٹیں ہیں جبکہ آئی آئی چندریگر روڈ پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان‘ کراچی ‘اسٹاک ایکسچینج ‘حبیب بینک‘ایم سی بی بینک‘یونائیٹڈ بینک‘ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک‘ سونیری بینک سمیت تمام بینکوں اورمالیاتی اداروں کے صدر دفاتر واقع ہیں۔ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق کراچی جنوبی ایشیاءکا سب سے بڑا اورجدید ٹیکنالوجی سے آراستہ مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان کے اس بڑے شہر میں 11 بڑی یونیورسٹیاں قائم ہیں ان میں کراچی یونیورسٹی ‘ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ‘ڈاﺅ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ‘ اردو یونیورسٹی ‘ آغا خان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز‘ بقائی میڈیکل یونیورسٹی‘ضیاءالدین میڈیکل یونیورسٹی‘انڈس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز ‘ سرسید یونیورسٹی‘ پرنسٹن یونیورسٹی شامل ہیں۔ یہ شہر عروس البلاد کہلاتا تھا۔ پورے ملک کے لوگ اس شہر کو دیکھنے اس میں سکونت اختیار کرنے کے خواہاں ہیں۔اس شہر میں رات ہی نہیں ہوتی تھی رات بھر ہوٹل کھلے رہتے فوڈ اسٹریٹس پر کھانے والوں کا ہجوم رہتا جو نماز فجر کے وقت کم ہوتا اورپھر تھوڑی ہی دیر بعد شہر کے لوگ اپنے روزگار پررواں دواں ہوجاتے مگر اب اس شہر میں آسیب آبسے ہیں گزشتہ 5سالوں سے شہر قتل وغارت گردی اوردہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اورگزشتہ 5سالوں میں ایک لاکھ سے زائد افراد نامعلوم افراد کی گولیوں سے جاں بحق ہوچکے ہیں‘ لاتعداد ماﺅں کی گودیں خالی‘دلہنوں کے سہاگ اوربہنوں کے بھائی جدا ہوچکے ہیں۔ شدید خوف وہراس میں بھتہ خوری اوراغواءبرائے تاوان کی وارداتوں نے تجارتی وصنعتی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے کئی گروپ جو سیاسی اورمذہبی جماعتوں کے گروہوں پر مشتمل ہیں بھاری بھتہ وصول کرتے رہے۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کے مطابق صرف تجارتی مراکز‘ تھوک بازاروں اورمارکیٹوں سے یومیہ بھتہ 10کروڑ روپے سے بھی تجاوز کرگیا۔ اس طرح گزشتہ 5سالوں کے دوران ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کھرب 82ارب 52کروڑ روپے سے زائد بھتہ صرف تجارتی مراکز‘ بازاروں اورمارکیٹوں سے حاصل کیا گیا اوربھتہ دینے سے انکار کرنے والے 80تاجروں کو دیدہ دلیری سے گولی مار کر قتل کیا گیا۔ 100سے زائد تاجروں کو اغواءکرکے مجموعی طورپر 5ارب روپے سے زائد تاوان وصول کیا گیا یہی نہیں بلکہ تاجروں کے لین دین کے تنازعات میں کمیشن وصول کرکے تاجروں کو اغواءاور حبس بے جا میں رکھ کربھاری رقوم وصول کی گئیں۔ تاجر‘صنعتکار اورشہری حکومت کو دہائیاں دیتے رہے مگر لوگوں کی د لدوز چیخیں اور مدد کی اپیلیں صدابا صحرا ثابت ہوئیں اورصورتحال یہ ہوگئی یہ بھتہ وصول کرنے والوں کے درمیان مسلح تصادم اورجنگ شروع ہوگئی۔ خود کار اسلحہ سے فائرنگ حتیٰ کہ ایک دوسرے پر راکٹ داغ جانے لگے۔ اس صورتحال کی وجہ سے 35ہزار سے زائد تاجر وصنعتکار کراچی سے دوسرے شہروں کو منتقل ہو گئے۔ لاتعداد صنعتکاروں نے بنگلہ دیش‘ ملائیشیا‘ تھائی لینڈ‘سری لنکا میں ٹیکسٹائل ‘لیدر‘ الیکٹرونکس ‘آٹوموبائل کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی۔ صرف پاکستانی صنعتکاروں نے بنگلہ دیش میں ٹیکسٹائل میں اسپننگ، ویونگ، پروسیسنگ‘ گارمنٹس کی 200سے زائد صنعتیں قائم کیں جبکہ متعدد درآمد کنندگان اوربڑے برآمد کنندگان نے اپنے دفاتر دبئی منتقل کردیئے ۔ چنانچہ امن وامان کی صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ صنعتکاروں کو اپنی صنعتوں تک جانے میں جان کا خطرہ نظر آنے لگا۔ ہوتا یہ تھا کہ صنعتکار اوران کا عملہ کاروں میں صنعتی علاقوں سے جب گزرتا تو موٹر سائیکل سوار نمودار ہوتے انہیں ہتھیاروں کے زورپر روک کر ان سے رقم ‘موبائل فون ‘لیپ ٹاپ سمیت موجود تمام سامان لے کر فرار ہوجاتے۔ ا س صورتحال کی وجہ سے صرف سائیٹ کے صنعتی علاقہ میں 350سے زائد فیکٹریاں ‘ملز اورکارخانے بند ہوئے ان میں تین ملٹی نیشنل کمپنیاں سیمنز پاکستان اورفلپس جیسے اداروں کی فیکٹریاں بھی شامل تھیں۔ سیمنز پاکستان نے حکام کو تحریری طورپر امن وامان کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا کہ ان کے تمام ملازمین او عملہ سے روز موبائل فون اوررقم چھینی جارہی ہے اس کا سدباب کیاجائے مگر نہروبانسری بجاتا رہا انہوں نے ایک اور تحریری یاددہانی ارسال کی اوراس کے بعد اپنی فیکٹری ہی بند کردی۔ انہیں حالات کا شکار فلپس اوردیگرہوئے اورصورتحال یہ ہوگئی کہ بھتوں کی رقم کے تعین اورکمی بیشی تھانوں کی سطح پر ہونے لگی۔ میاں نواز شریف نے اقتدار میں آنے کے بعد کراچی کی اس صورتحال کو بہتر بنانے کے اقدامات کا آغاز کیا ۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے صوبائی حکومت پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف موثر اورٹھوس کارروائی کیلئے دباﺅ ڈالا ۔ رینجرز کو آپریشن کے اختیارات تفویض کئے۔پولیس میں وسیع پیمانے پر تبادلے کے گئے۔ مقدمات کی سماعت کیلئے قوانین میں ترامیم کی گئی اورخصوصی عدالتیں قائم کرنے کا قانون منظور کیا گیا۔ سندھ کے انسپکٹر جنرل نے سندھ پولیس کی موجودہ قیادت پرعدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے آپریشن کیلئے شاہد حیات کا نام دیاتو شاہد حیات ایڈیشنل آئی جی کے عہدہ پر متعین ہوئے تو انہوں نے پولیس کو بھی متحرک کیا۔ رینجرز اورپولیس کے آپریشن سے تقریباً 3ماہ کی مدت میں بھتہ خوری میں 80فیصد تک کمی آگئی ہے اوراسٹریٹ کرائم میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے رینجرز اورپولیس نے اب تک سیکڑوں جرائم پیشہ افراد کو گرفتارکرکے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔ لیکن ٹارگٹ کلنگ پر اب بھی قابو نہیں پایاجاسکا ہے اورکوئی دن ایسا نہیں جب 8سے 10اوربعض اوقات تو 18سے 20افراد ٹارگٹ کلنگ کی نظر نہیں ہورہے ہوں۔ پورے شہرمیں گلیوں‘سڑکوں پربیریئرز لگا کر حفاظتی اقدامات کے ذریعہ پوری پوری آبادیاں محصور ہوگئی ہیں۔ رینجرز اورپولیس کا آپریشن جاری ہے۔ نتائج نہیں آرہے ہیں مگر اب تک کوئی کارنامہ سامنے نہیں آیا۔ گزشتہ روز سائیٹ ایسوسی ایشن میں صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے کہا کہ گزشتہ حکومت کی غفلت سے پروان چڑھنے والے جرائم کا ایک رات اورمختصر مدت میں خاتمہ ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ کراچی میں پولیس میں سابقہ فوجیوں کو بھرتی کرلیا گیا ہے اورآئندہ دو ہفتہ بعد پولیس کی نفری میں ان سابقہ فوجیوں کی شمولیت سے صورتحال بہتر ہوگی۔ رینجرز اورپولیس کے ان دعوﺅں پر لوگوں کو اعتبار نہیں ان کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ کرائم اوربھتہ خوری میں کمی عارضی ہے اب تک پولیس یا رینجرز نے بھتہ خوروں اوردیگرجرائم پیشہ افراد کے اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا اوربھتہ خوری اوردیگر وارداتوں میں کمی باہمی تعاون واشتراک کا نتیجہ ہے۔ بہرحال لوگ اس آ پریشن کے مستقبل میں نتائج دیکھنے کے متمنی۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ اب کراچی کے تاجروں اور صنعتکاروں کا اعتماد بری طرح مجروح ہوچکا ہے ۔ کراچی میں اس کے علاوہ بجلی اورگیس کے بحران اورآئے دن کی ہڑتالوں اورسوگ نے بھی صنعت وتجارت کو تباہی سے دوچار کیا ہے۔ سائیٹ ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین اورایوان تجارت کراچی کے سابق صدر مجیدنمریز نے بڑی تحقیق کے بعد کہا تھا کہ کراچی میں صنعتیں بند ہونے سے صنعتکاروں کو 22کروڑ 50لاکھ روپے فی گھنٹہ کے حساب سے نقصان کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح گزشتہ 5سالوں کے درمیان بجلی‘ گیس کی لوڈشیڈنگ اور ہڑتالوں سے اربوں روپے نہیں بلکہ صنعتوں کو کھربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے اوراس کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں۔