غیر ملکی سرمایہ کار سپننگ یونٹ خریدنے لگے

09 دسمبر 2013

احمد جمال نظامی
    توانائی بحران کے باعث ہی صنعتی پیداوار کا پہیہ تعطل کا شکار ہو کر بحران در بحران میں دھنستا چلا جا رہا تھا کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار لاکھ کہیں کہ بعض مالیاتی اداروں کی طرف سے سٹے بازی کے باعث ڈالر کی قدر میں روپے کے مقابلے میں اضافہ جاری ہے اور اس مصنوعی رجحان پر جلد قابو پا لیا جائے گا، اس کے باوجود روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے نے صنعتی پیداوار کا پہیہ جام کرتے ہوئے برآمدات پر منفی اثرات مرتب کر کے ملکی معیشت پر ناقابل تلافی نقصانات ڈالنے شروع کر رکھے ہیں۔ اس صورت حال میں افراط زر کی شرح میں مسلسل اضافہ جاری رہنے سے شرح نمو میں افسوسناک حد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔ کیا ایسی صورتحال پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے حکومت کی ذمہ داری نہیں اور اگر حکومت اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ معاشی و اقتصادی معاملات کو سابقہ حکومتوں کی طرح کھوہ کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے اور صنعتی، تجارتی و زرعی بحرانوں کے سبب عام آدمی کی زندگی مسلسل متاثر ہو رہی ہے اور حقیقت حال یہ ہے کہ اس وقت افراط زر کے سب سے زیادہ منفی اثرات قوم پر مرتب ہو رہے ہیں جس کی تلافی کرنے والا کوئی نہیں۔ بے شک حکومتی اعلانات سے عوام کے حالات بہتر نہیں بنا ئے جا سکتے اور نہ ہی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے یہ کافی ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر یورپین ممالک کی اہم کرنسیوں، برطانوی پا¶نڈ اور یورو کی قدر میں تیزی کا رجحان جاری ہے۔ امریکی ڈالر اوپن مارکیٹ میں 110روپے تک پہنچ چکا ہے اور توانائی بحران کے ساتھ رہی سہی کسر نکال رہا ہے مگر حکومت اور متعلقہ وزارتوں کے مزے لوٹنے والے ذمہ داران اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ حکومت کی طرف سے جی ایس پی پلس کا خوب چرچا کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود پنجاب کی صنعتوں کو آئندہ تین ماہ کی بجائے دو ماہ کے لئے گیس کی بندش کا شیڈول فراہم کرنے کی اندرون خانہ تیاریاں جاری ہیں۔ ایسے حالات میں جنوری میں جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے ہم ماہ دسمبر میں ہونے والی پیداواری مصنوعات سے تو کسی حد تک استفادہ حاصل کر لیں گے لیکن آئندہ کے دو ماہ کے دوران صورتحال کیا ہو گی۔ اگر دو ماہ کے لئے گیس کی بندش نہیں بھی کی جاتی اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف کے اعلان پر اعتبار کر لیا جاتا ہے تو پھر بھی ہفتے میں تین سے چار یوم تک گیس کی سپلائی سے صنعتی حلقے کیا فائدہ حاصل کرتے ہوئے ملکی معیشت کو کس طرح فوائد فراہم کر سکتے ہیں اس بارے میں وزارت خزانہ اور وزارت تجارت کے ذمہ داران کو سر جوڑ کر کوئی اہم فیصلہ کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ گذشتہ عشرے کے دوران بالخصوص شعبہ ٹیکسٹائل کی اکثریتی سرمایہ کاری کا رجحان پنجاب میں رہنے سے اس وقت وہ ٹیکسٹائل شعبہ جسے ہماری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ حاصل ہے وہ پنجاب میں اپنا وسیع تر انفراسٹرکچر رکھتی ہے اور سب سے زیادہ پنجاب میں گیس کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ آ رہا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا ظالمانہ دورانیہ بھی موسم گرما میں پنجاب کے اندر ناقابل نظرانداز ہے۔ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنا ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن اس سے استفادہ حاصل کرنا انتہائی اہم ہے۔ ایک طرف ہمیں جی ایس پی کا درجہ مل رہا ہے اور دوسری طرف ہمارا صنعتی پیداواری شعبہ شدید بحران کی زد میں ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سارے غیرملکی سرمایہ کار ہمارے شعبہ ٹیکسٹائل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ چینی سرمایہ کاروں کی طرف سے پاکستان میں ٹیکسٹائل کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے لئے ایک وفد بھی پاکستان کا دورہ کر چکا ہے جو 16 سے 20ہزار سپنڈل کی ٹیکسٹائل سپننگ مل خریدنے کے لئے مختلف صنعت کاروں سے رابطے بڑھا رہا ہے۔ اس صورت میں ہمارے ملک میں بھاری سرمایہ کاری کے امکانات تو ضرور روشن ہو جائیں گے مگر غیرملکی کمپنیوں کے سرمایہ دار اپنا منافع بیرون ملک منتقل کریں گے۔ جس سے ہمیں ایک طرف فائدہ بھی پہنچے گا اور دوسری طرف نقصان بھی برداشت کرنا پڑے گا ۔ اگر ہم اپنے صنعت کاروں کو مضبوط کر لیں تو پھر غیرملکی سرمایہ کار ہمارے صنعت کاروں سے ان کی صنعتیں نہیں خرید پائیں گے اس کی مثال اس امر سے لی جا سکتی ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ملک میں سرمایہ کاری کرنے والی غیرملکی کمپنیوں نے خود سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق 41کروڑ ڈالر کا منافع اپنے ممالک میں بھجوایا ہے کیونکہ ہمارے ہاں کام کرنے والی غیرملکی سرمایہ کار کمپنیوں کو منافع اپنے ممالک بھیجنے کی اجازت ہے اور اسی پالیسی کے تحت حکومت ملک میں براہ راست سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے غیرملکی کمپنیوں کو سہولت فراہم کرتی ہے اس لئے جی ایس پی پلس کے ثمرات سمیٹ کر ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے حکومت کو اپنی پالیسیوں پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ ان پالیسیوں کو مرتب کرتے وقت ملک بھر کے صنعتی اور تجارتی حلقوں کی تجاویز حاصل کرکے ان پر خاطرخواہ حد تک عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح روپے کی قدر میں اضافہ اہم ترین نکتہ ہے۔ سٹے بازی ہو یا کوئی بھی مسئلہ حکومت کو اس پر ہر حال میں قابو پانا ہو گا۔ حکومت اس بات سے بخوبی واقف ہو گی کہ توانائی بحران کی وجہ سے گذشتہ مالی سال کے دوران 265ٹیکسٹائل کمپنیاں بند ہوئی تھیں جس میں 261 نے کھربوں روپے کا سرمایہ ہنڈی/حوالہ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا۔ صرف چار کمپنیوں نے سٹیٹ بینک کی باقاعدہ اجازت سے 92لاکھ 90ہزار ڈالر ملک سے باہر منتقل کئے۔ اس ضمن میں وزارت صنعت و پیداوار کے ذرائع خود انکشاف کر چکے ہیں کہ گذشتہ مالی سال کے دوران وطن عزیز میں توانائی کے بحران اور امن و عامہ کی خراب صورتحال کے پیش نظر 3563 ٹیکسٹائل کمپنیوں میں سے 265 کمپنیاں بند ہوئیں ۔ ان مالکان نے اپنا سرمایہ بنگلہ دیش، بھارت، دبئی، یورپ و افریقی ممالک میں منتقل کیا۔ صرف چار ٹیکسٹائل کمپنیوں کے علاوہ 261کمپنیوں کے مالکان نے کھربوں روپے کا سرمایہ سٹیٹ بینک سے ہٹ کر دوسرے غیر قانونی ذرائع سے بیرون ممالک بھجوایا ہے۔ لہٰذا ایسے حالات میں حکومت کی طرف سے ایسے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے جو توانائی بحران کی صورت میں اور جب تک حکومت اپنے اعلانات کے مطابق تین سالوں تک توانائی بحرانوں کا خاتمہ نہیں کر پاتی، شعبہ صنعت کو خصوصی ریلیف اور اہم ترین پیکجز فراہم کئے جائیں تاکہ ملکی معیشت مزید تباہ و برباد نہ ہو سکے۔ اس سلسلہ میں آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کو مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے لیکن افسوس حکومت کی طرف سے عجیب و غریب قسم کے فیصلے سامنے آ رہے ہیں جیسے گذشتہ روز بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ملک بھر میں 168ٹیکسٹائل اور ویونگ یونٹس کو بجلی پر سیلزٹیکس زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم کر دی ہے۔ پاور کمپنیوں کو ان ٹیکسٹائل اور ویونگ یونٹس سے بجلی پر سیلزٹیکس وصولی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ حکومت اگر چاہے تو کوئی شبہ نہیں کہ توانائی بحران پر بھی قابو پا سکتی ہے، روپے کی قدر میں بھی غیرملکی کرنسی کے مقابلے میں اضافہ کرنے کے عملی اقدام اٹھائے جا سکتے ہیں اور صنعتی شعبہ کو پھل پھولنے کے ریلیف پیکجز فراہم ہو سکتے ہیں مگر حکومت ناجانے کیوں اپنا حقیقی اور دعو¶ں کے مطابق انقلابی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں حالانکہ ہمارے ملک میں گیس اور تیل کے ذخائر کی کوئی کمی نہیں۔ حکومت اگر گیس کے ذخائر کی دریافت شروع کر دے تو ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے کے علاوہ بھی اندرون ملک سرپلس گیس حاصل کر کے اس کی بھی درآمد کے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ گذشتہ روز ہی او جی ڈی سی ایل نے صوبہ سندھ ضلع ٹنڈوالہ یار سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کئے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ایکسپلوریٹری ویل سانڈ ایک سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کئے گئے ہیں۔ اس کنویں سے ابتدائی طور پر 6ملین مکعب کیوبک فٹ گیس اور 65بیرل تیل کی یومیہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ او جی ڈی سی ایل نے کنویں کی کھدائی 2651 میٹر تک کی ہے جہاں پر ہائیڈروکاربن کے ذخائر بھی دریافت ہوئے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل کی اس دریافت سے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے پر معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔ حکومت اگر چاہے تو اندرون ملک خودانحصاری پر مبنی اقدامات اٹھاتے ہوئے نہ صرف توانائی بحران سمیت ہر طرح کی بحرانی کیفیت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر بھی بنایا جا سکتا ہے۔ ہماری معیشت کی مضبوطی اور مضبوط ترین مستقبل کے لئے بلوچستان کے حالات بہتر بنا کر گوادر بندرگاہ کا صحیح معنوں میں آپریٹو ہو جانا ہی کافی ہو گا۔