انگوٹھوں کی تصدیق اور چیئرمین نادرا کا معاملہ‘ حکومت نے پارلیمانی قائدین کے مشترکہ اجلاس کی تجویز دیدی ‘نثار نے خط لکھ دیا

09 دسمبر 2013
انگوٹھوں کی تصدیق اور چیئرمین نادرا کا معاملہ‘ حکومت نے پارلیمانی قائدین کے مشترکہ اجلاس کی تجویز دیدی ‘نثار نے خط لکھ دیا

 اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے پارلیمانی رہنماﺅں کو خط لکھا ہے جس میں چیئرمین نادرا اور انگوٹھوں کے نشانات سے متعلق مشترکہ اجلاس طلب کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ خط میں چودھری نثار نے کہا ہے کہ کچھ عرصہ سے بیلٹ پیپرز پر انگوٹھوں کے نشانات پر میڈیا اور عوامی حلقوں میں کافی بحث جاری ہے نادرا میں انتظامی تبدیلی کو انگوٹھوں کی شناخت سے منسلک کرنے کا بے بنیاد اور غلط تاثر دیا گیا کیا پاکستان میں کسی بھی الیکشن میں مقناطیسی سیاہی استعمال ہوئی؟ 2013ءکے عام انتخابات میں بھی مقناطیسی سیاہی کا استعمال ممکن نہیں ہوا مقناطیسی سیاہی فراہم کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ سابق حکومت نے الیکشن کمشن کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا؟ مقناطیسی سیاہی کی فراہمی الیکشن کمشن اور سابق حکومت کی ذمہ داری تھی موجودہ حکومت سیاہی کی فراہمی کی ذمہ دار نہیں تھی کچھ حلقوں کی بجائے تمام 272 حلقوں میں انگوٹھوں کی تصدیق کرانے کیلئے تیار ہیں۔ نادرا ”ون مین“ ادارہ نہیں نادرا میں ایماندار، پرعزم اور قابل ترین لوگ موجود ہیں ہم کسی بھی ادارے سے انگوٹھوں کی تصدیق کرانے کیلئے تیار ہیں۔ پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلانے کو تیار ہیں شفافیت یقینی بنانے کیلئے جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو تصدیق کا عمل سونپا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو انگوٹھوں کی تصدیق پر کوئی اعتراض نہیں حکومت ہر حلقے میں تصدیقی عمل کی حمایت کرتی ہے۔ جلد قومی اسمبلی میں پارلیمانی رہنماﺅں کا اجلاس طلب کریں گے۔ انگوٹھوں کی تصدیق کا عمل ممکن نہیں مقناطیسی سیاہی استعمال نہ ہونے کے باوجود بحث کیوں چھیڑی گئی نادرا کو تصدیق کے عمل کیلئے ضروری سامان خریدنا تھا تصدیق کا عمل جدید مشینری کے بغیر شروع کیا گیا۔چودھر ی نثار نے خط میں مسئلے کے حل کے لئے تمام پارلیمانی لیڈروں کا اجلاس بلانے کی پیشکش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کے سربراہ اس مسئلے پر اپنی رائے دیں تاکہ مسئلے سے نمٹا جاسکے۔