ملک میں تبدیلی آ رہی ہے میرے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ غریب کے پاس پینے کو پانی بھی نہیں‘ عوام سے یہ امتیازی سلوک غیر آئینی ہے : چیف جسٹس

09 دسمبر 2013
ملک میں تبدیلی آ رہی ہے میرے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ غریب کے پاس پینے کو پانی بھی نہیں‘ عوام سے یہ امتیازی سلوک غیر آئینی ہے : چیف جسٹس

حیدر آباد (نوائے وقت رپورٹ) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ قانون کی عملداری میں تمام وکلا متحد ہیں، وکلا کی جدوجہد کا ثمر عدلیہ کی آزادی کی شکل میں ملا۔ جو سفر حیدر آباد سے شروع کیا تھا وہ جلد اختتام پذیر ہونے والا ہے۔ عہدے آنے جانے والی چیز ہیں، خودمختار عدلیہ کی تحریک میں وکلا کا کلیدی کردار ہے۔ سندھ ہائیکورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وکلا تحریک میں کردار ادا کرنے پر جج صاحبان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایک آمر نے میرے خلاف ریفرنس بھیجا تھا، میں نے مڑ کر دیکھا تو گلے لگانے والوں کی کمی نہ تھی۔ حیدر آباد کے لوگ محبت اور وفا کرنے والے ہیں۔ گلے لگانے والے لوگ نہ ملتے تو 9 مارچ کو قدموں میں لرزش آسکتی تھی۔ مساوی انصاف کی فراہمی کیلئے ابھی بہت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ وکلا کو منزل پانے کیلئے جدوجہد کرنا ہوگی۔ عدلیہ کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ عدلیہ سب سے مضبوط ادارہ ہے، تاریخ ثابت کریگی۔ سپریم کورٹ نے اپنا فرض ادا کیا یا نہیں، حکومتیں آتی ہیں چلی جاتی ہیں، اصل مسئلہ غربت کا خاتمہ ہے۔ عوامی مسائل حل نہیں ہوتے، امتیازی سلوک آئین کیخلاف ہے، غریب کے پاس پینے کیلئے پانی بھی نہیں، عوام کے ساتھ امتیازی سلوک غیرآئینی ہے، ہمیں اپنے بچوں کو تعلیم دینا ہوگی، تعلیم بنیادی حق ہے لیکن سکولوں میں مویشی بندھے ہیں، بچیاں قبرستانوں میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جوڈیشل افسروں نے تعلیمی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ لکھی ہے، تعلیم کو ترجیح حاصل نہیں، سکولوں پر قبضے ہیں، تعلیم سے متعلق عدالتی احکامات پر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی، ازخود نوٹس لیا تھا جس میں جائزہ لیا کہ کیا سب کو یکساں تعلیمی مواقع حاصل ہیں؟ کراچی میں بدامنی پر ازخود نوٹس لیا گیا، کراچی میں کوئی نیا قانون نہیں آیا پرانے پر عملدرآمد کرا رہے ہیں، عدالت نے طاقت وروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی، عدلیہ آزاد ہونے سے امن و امان اور سرمایہ کاری ہوگی، اب ملک میں تبدیلی آرہی ہے، میرے منصب سے علیحدہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑیگا، وکلا کے پاس اقتدار نہیں تھا، قلم کے ذریعے تبدیلی لائے، پاکستانی عوام محب وطن ہیں، عدالتی احکامات نافذ کرنا انتظامیہ کا کام ہے، وڈیروں، جاگیرداروں میں قانون کا ڈر پیدا کرنا ضروری ہے، لوگ باشعور ہوتے جا رہے ہیں۔ اب کسی شخص کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ لوگوں میں آگاہی پیدا ہو رہی ہے، امیر اور غریب کا فرق ہونا چاہئے، قانون سب کیلئے ایک ہونا چاہئے، آزمائش روزانہ آتی ہیں لیکن قانون کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں۔ اے پی اے کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہمیں غریب آدمی کی پرواہ کرنی چاہئے، عہدے آنے جانے والی چیز ہیں، اصل مسئلہ ہے ملک سے غربت کو ختم کرنا ہوگا، عدالت نے طاقت وروں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہے، وڈیروں اور جاگیرداروں میں قانون کا ڈر پیدا کرنا ضروری ہے، آئین کے تحت عہدے سے الگ ہونے کا وقت آگیا ہے، جو سفر حیدر آباد سے شروع کیا تھا وہ بہت جلد اختتام پذیر ہونے والا ہے، عدالتی احکام نافذ کرانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، وکلاءکواپنی منزل پانے کیلئے جدوجہد کرنا ہوگی، وکلاءکی جدوجہد کا ثمر آزاد عدلیہ کی شکل میں ملا، اب کسی شخص کے حقوق پر ڈاکہ نہیں پڑسکتا، قانون کی گرفت کے باعث کی بڑے چھوٹے کو نہیں چھوڑا، لاپتہ افرا د کا کیس 2005ءسے عدالتوں میں چل رہا ہے، لاپتہ افراد کیس میں بہت سے لوگوں کو برآمد کیا،کراچی میں کوئی نیا قانون نہیں آیا صرف قانون پر عملدآمد کیا جارہا ہے، عدلیہ خودمختار ہونے سے امن وامان اور سرمایہ کاری ہوگی۔
چیف جسٹس