دفتر خارجہ میں تقریب کے دوران ’’کے‘‘ کا لفظ کہنے پر بھارتی ہائی کمشنر کا واک آئوٹ

09 دسمبر 2013

اسلام آباد (قدسیہ اخلاق/ دی نیشن رپورٹ) مسئلہ کشمیر بھارت کیلئے ایک دکھتی رگ ہے، اس کا اندازہ گزشتہ ہفتے اس وقت اور بھی زیادہ ہوا جب بھارتی ہائی کمشنر ٹی سی اے راگھوان نے ایک تقریب کے دوران ایک مقرر کے صرف لفظ ’’کے‘‘ کہنے پر غیرسفارتی طور پر واک آئوٹ کیا۔ اس استقبالیہ تقریب کا اہتمام سارک چارٹرڈ ڈے کے موقع پر خارجہ سیکرٹری جلیل عباس جیلانی کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس میں رکن ممالک کے نمائندوں، سینئر سرکاری اور سارک حکام کو مدعو کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ڈاکٹر ماریہ سلطان نے سائوتھ ایشین سٹریٹجک سٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے اپنے خطاب میں کشمیر کو سیاسی تنازعہ قرار دیتے ہوئے اس جانب توجہ دلائی کہ اسی وجہ سے سارک کا کاز آگے نہیں بڑھ رہا۔ اس پر بھارتی ہائی کمشنر پاکستانی خارجہ سیکرٹری کے اختتامی کلمات سے پہلے ہی اپنی سیٹ سے اٹھ کر چلے گئے۔ ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کشمیر ایسے تنازعات طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ نے اس ردعمل کا نوٹس لیتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔