لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا تاریخی منصوبہ اگلے سال پورے صوبے میں مکمل ہو جائے گا: شہباز شریف

09 دسمبر 2013

لاہور (خبر نگار) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے  لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا تاریخی منصوبہ جون 2014ء تک صوبے کی 140تحصیلوں میں مکمل ہو جائے گا اور یہ جدید نظام تمام اضلاع میں پوری طرح متحرک اور فعال ہوگا۔ لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے زمینوں کے معاملات میں کرپشن، رشوت اور جعلسازی کا خاتمہ ہوگا عوام کو پٹواری اور تحصیلدار کے ا ستحصالی اور فرسودہ نظا م سے نجات مل جائے گی۔ انہوں نے کہا  ارادے مضبوط ہوں، کام کرنے کی لگن ہو تو پہاڑ جیسی رکاوٹ بھی منزل کے حصول میں حائل نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کو دہشت گردی، توانائی کے بحران اور دیگر متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ قومیں محنت، دیانت اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے بحرانوں سے نکلتی ہیں۔ ناکامیوں کو خوشحالی میں بدلتی ہیں، ہمیں بحیثیت قوم اپنا جائزہ لینا ہے۔ خود احتسابی کے ذریعے اپنی اصلاح کرنا ہے اور متحد ہو کر ایک سیسہ پلائی دیوار بننا ہے۔ میرا  ایمان ہے ہم اپنے حالات بدلنے کا تہیہ کرلیں، محنت، امانت اور دیانت کو شعار بنالیں تو بین الاقوامی برادری میں باوقار مقام حاصل کرسکتے ہیں اور دنیا بھر میں وطن عزیز اور سبز پاسپورٹ کی عزت بحال کرا سکتے ہیں۔ وہ لاہورکینٹ میں اراضی ریکارڈ سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں  نے  کہا  پنجاب لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے تاریخی منصوبے کی تکمیل سے شہریوں کو بغیر رشوت دئیے اپنی اراضی کی فرد ملکیت حاصل ہوگی اور انتقال اراضی کے معاملات میں آسانی پیدا ہوگی جو بہت بڑی تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا ماضی کے حکمرانوں نے اس اہم منصوبے پر توجہ نہیں دی قوم کا پیسہ اوروقت ضائع کیا لیکن  مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا۔ منصوبے کی تکمیل سے تحصیلدار اور پٹواری کلچر کا خاتمہ ہوگا، ہم پٹواریوں اور تحصیلداروں کے خلاف نہیں لیکن ہمیں اس ذہینت اور سوچ کو بدلنا ہے جس نے صدیوں سے عوام کو مشکلات سے دوچار کئے رکھا۔ میں نے گزشتہ 6 برسوںکے دوران سرکاری حکام کی سمریوں کے باوجود ایک بھی پٹواری بھرتی نہیں کیا بلکہ لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے تحت پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سروس سینٹروں پر محنتی، ایماندار اور باصلاحیت افراد کو بھرتی کیا گیا ہے اور اس کیلئے چیک اینڈ بیلنس کا بھی موثر نظام وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا  پنجاب حکومت کے فلاحی پروگراموں پر تنقید کرنے والو ںکو عوام کی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں۔ کچھ عناصر ماضی میں میٹروبس کے منصوبے کو جنگلہ بس سروس کا پراپیگنڈہ کرتے رہے  لیکن اس عظیم الشان منصوبے سے آج روزانہ ایک لاکھ 50ہزار افراد مستفید ہورہے ہیں۔ ملک سے غربت، بیروزگاری اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے معاشی و تجارتی سرگرمیوں کا فروغ نہایت ضروری ہے۔ پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے، بجلی کے بغیر صنعت، زراعت، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔  پاکستان کو بجلی کے بحران سے نجات دلانے کیلئے بھی پر عزم ہیں، غیر ملکی توانائی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں سے معاہدے کئے جا رہے ہیں۔ مجھے قوی امید ہے  ہماری کوششیں  رنگ لائیں گی اور قوم کو بجلی کے بحران سے ضرور نجات ملے گی۔ سابق حکمرانوں نے توانائی کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان کی مجرمانہ غفلت کی بدولت ملک و قوم آج اندھیروں میں ڈوبے ہیں۔ سابق حکمرانوں کی طمع اور حرص کی وجہ سے نندی پور پاور پراجیکٹ پر غریب قوم کے 30ارب روپے اضافی خرچ ہو رہے ہیں۔ توانائی کے اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے او رآئندہ سال مئی2014 تک ایک ٹربائن کام شروع کر دے گی۔ شہبازشریف نے تقریب میں موجود دانشوروں، صحافیوں اور کالم نگاروں کو  مخاطب ہوتے ہوئے کہا حکومت اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ حکومت صحافیوں کے تجزیوں اور تبصروںسے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ قوم کو مایوسیوں سے نکالنے میں صحافی برادری کو بھی سنجیدہ اور کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔ سیاستدانوں، جرنیلوں، ججوں، صحافیوں اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر ملک و قوم کو مشکلات کے بھنور سے نکالنا ہے۔ پرائس کنٹرول کے حوالے سے صحافی برادری نے بھرپور آواز اٹھائی اور ہمیں جھنجوڑا۔ ہم نے اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر فراہمی کے لئے موثر نظام وضع کیا او رایسے موثر اقدامات اٹھائے جس کی بدولت اشیائے ضروریہ کی قیمتو ں میں نمایاں کمی آئی اور طلب و رسد کا نظام بھی بہتر ہوا۔ ڈینگی کی وبا سے نمٹنے کیلئے ہم نے دن رات محنت کی اور ڈینگی مچھر کو شکست دی۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے اطلاعات تک رسائی اہمیت رکھتی ہے- صحافی برادری پر لازم ہے  وہ اپنے قلم کے ذریعے لینڈ ریکارڈ کے جدید نظام کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔ قبل ازیں انہوں  نے اراضی ریکار ڈ سینٹر لاہو رکینٹ کا افتتاح کیا۔  چیئرمین منصوبہ بندی  و ترقیات  و پراجیکٹ  ڈائریکٹر عرفان  الہی  نے بریفنگ کے دوران بتایا  منصوبے کی تکمیل سے فرد صرف 30منٹ میں اور انتقال اراضی کا عمل صرف 45منٹ میں مکمل ہوگا۔ صوبے کی 98تحصیلوں میں سروس سنٹر کام کر رہے ہیں جبکہ باقی ماندہ تحصیلوں میں آئندہ سال کام مکمل کر لیا جائے گا۔ مزید برآں  عالمی انٹی کرپشن ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلی نے کہا  کرپشن  ترقی  کی راہ  میں  سب سے بڑی  رکاوٹ ہے اور  بدعنوانی  کی اس لعنت کو جڑ سے  اکھڑا پھینکنے کے لئے ہم سب کو مل جل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔  شفافیت  اور  بدعنوانی  کا خاتمہ   حکومت پنجاب  کا طرہ امتیاز ہے۔  صوبہ میں شفافیت  کو فروغ دے کر گڈ گورننس  کی مثال قائم کی ہے۔ ثناء نیوز کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی  نے کہا  وہ پٹواریوں  کے خلاف نہیں بلکہ وہ پٹوار  مافیا  کے خلاف ہیں جو کسانوں کا استحصال  کرتے   ہیں اور کئی کئی سال ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے ہیں بدعنوانی  کا خاتمہ  اولین ترجیح ہے۔  آئندہ چند برس میں توانائی  بحران کا خاتمہ ہو جائے گا۔