بھارت میں انتخابات : بی جے پی 3 ریاستوں میں جیت گئی‘ کانگرس کو ذلت آمیز شکست ‘2 میں سخت مقابلہ

09 دسمبر 2013

نئی دہلی (نیٹ نیوز+ اے ایف پی+ ایجنسیاں) بھارت میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تین ریاستوں میں واضح برتری حاصل کرکے میدان مار لیا ہے۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی نے بالترتیب  230، 99اور 90نشستیں حاصل کرکے واضح برتری حاصل کرلی جبکہ دیگر کئی ریاستوں میں کانگرس کیساتھ اس کا سخت مقابلہ ہے۔ 5بھارتی ریاستوں میں ہونیوالے انتخابات کے بعد ابتدائی نتائج کے مطابق بی جے پی سب سے آگے نظر آ رہی ہے اور کانگرس کو ذلت آمیز شکست کا سامنا ہے۔ راجستھان کے وزیراعلیٰ اور کانگرس کے رہنما اشوک گیلوت نے راجستھان میں ہار تسلیم کر لی ہے۔ ریاست میں ان کی پارٹی کافی پیچھے چل رہی ہے۔ دہلی میں نوزائیدہ جماعت عام آدمی پارٹی کا جادو چلا لیکن ابھی تک بی جے پی سب سے آگے ہے۔ برسراقتدار کانگرس کو لوگوں نے قریباً مسترد کر دیا ہے۔ مدھیہ پردیش راجستھان، چھتیس گڑھ اور میزورام کے علاوہ دارالحکومت دہلی میں بھی اسمبلی انتخابات ہوئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کے 2014ء میں ہونے والے عام انتخابات پر اثرات مرتب ہوں گے۔ دہلی میں کل 70سیٹیں ہیں اور وہاں مقابلہ سہ رخی ہوتا جا رہا ہے۔ 24 سیٹوں پر عام آدمی پارٹی جبکہ 9سیٹوں پر کانگرس اور 34 سیٹوں پر بی جے پی آگے ہے۔ چھتیس گڑھ میں مقابلہ کانگرس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ ابھی تک ملنے والے رجحانات کے مطابق بی جے پی 44سیٹوں پر آگے ہے۔ راجستھان میں بی جے پی 136پر جبکہ کانگرس 30سیٹوں پر آگے ہے۔ میزورام میں مقابلہ حکمران جماعت کانگرس اور دیگر علاقائی پارٹیوں کے درمیان ہے۔ دہلی میں حکمران کانگرس کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جہاں گذشتہ 15 سال سے کانگرس کی حکومت ہے۔ وزیراعلیٰ شیلاڈکشٹ نے اپنی شکست تسلیم کر لی اور عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ 15سال دہلی کی وزیراعلیٰ رہنے والی شیلا ڈکشٹ 8ہزار کے فرق سے کرپشن کے خلاف تحریک چلانے والی عام آدمی پارٹی سے ہاریں۔ دہلی میں بی جے پی نے 70میں سے 31نشستیں جتیں،  دوسرے نمبر پر نئی جماعت عام آدمی پارٹی کو جسے 29 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ کانگرس صرف چند نشستیں جیت سکی۔ اے ایف پی کے مطابق اروند کیجریوال کی انٹی کرپشن پارٹی نے نئی دہلی کے ریاستی الیکشن میں حیران کن کامیابی حاصل کرلی اور انہوں نے وہاں کی وزیراعلیٰ شیلا ڈکشٹ کو ہرایا ہے۔ اروند نے کہا ہے کہ بھارت میں عوام اور جمہوریت کی فتح ہو گی۔ بھارت کی حکمران جماعت کانگرس کی سربراہ سونیا گاندھی نے ریاستی انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی پروگرام کی سنجیدگی سے ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارہ کے مطابق سونیا گاندھی نے پانچ ریاستی انتخابات میں ذلت آمیز شکست تسلیم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ 2014ء میں لوک سبھا انتخابات سے قبل پارٹی کی ازسرنو تشکیل کی جائیگی۔سونیا گاندھی نے کہا کہ چار ریاستوں میں انتخابی نتائج سے پارٹی کو ’’بہت بہت مایوسی‘‘ ہوئی۔ کانگرس کے ترجمان رندیب سنگھ سرجیوالہ نے نتائج کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ ہمیں دہلی، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں شکست ہوئی ہے۔  اطلاعات کے مطابق گجرات میں بھی بی جے پی کی سبقت ہے۔ بدعنوانی کے خاتمے کا نعرہ لیکر سامنے آنیوالی نئی جماعت عام آدمی پارٹی نے دہلی کی ریاستی اسمبلی میں حکمران کانگرس کی اکثریت کا خاتمہ کرنے میں مدد کی۔ عام آدمی پارٹی نامی اس سیاسی جماعت کے رہنما اروند کیجری وال نے دہلی کی وزیراعلیٰ شیلا ڈکشٹ کو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ میں اروند کیجری وال ہوں اور یاد سے جھاڑو کو ووٹ دیجئے گا۔ اس عام پیغام کے ذریعے جو دہلی کے ریڈیو سے بار بار نشر ہوا کیجری وال نے عام آدمی کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس انتخابات کو اگلے سال ہونے والے عام انتخابات سے پہلے کانگرس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان اہم مقابلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انتخابات سے قبل کیجری وال نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کانگرس یا بی جے پی کا سامنا نہیں کر رہے بلکہ یہ عام آدمی ہے جو ان کا مقابلہ کر رہے ہیں جو ان دونوں جماعتوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ اب ان کے پاس بالآخر ایک اور جماعت کا انتخاب کرنے کی سہولت ہے۔ ایک ایماندار جماعت جس کیلئے ووٹ دے سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ عام آدمی پارٹی انا ہزارے کے خیالات کی حامی ہے جنہوں نے بھارت میں کرپشن کے خلاف مہم چلائی۔