میا ں جی تو میاں جی ،عمران خان سبحان اللہ!

09 دسمبر 2013

ہماری سیاسی قیادت اللہ ماشاللہ ایسے لگتی ہے جیسے بھارت یا امریکی روبوٹ فیکٹریوں سے تیار ہو کر آئی ہو، کیا شان ہے کہ جس کسی کو چندووٹ مل جاتے ہیں ، وہ کترینہ کیف اور جوہی چاولہ کی زبان کی چاشنی اور ان کے حسن کے جلووں سے لبریز دکھائی دیتا ہے۔
عمران خان نے بھاشن دیا ہے کہ پاک بھارت سرحد پر دونوںملکوں کو ایٹمی بجلی تیار کرنے کی فیکٹری لگانی چاہئے۔ کشمیر کا مسئلہ دونوں ملکوںکو بات چیت سے حل کرنا چاہئے، پاکستان میںکوئی بھی ایسا نہیں جو ممبئی حملوںکے مجرموں کو سزا نہ دلوانا چاہتا ہو، ایسے نیک خیالات کسی کرکٹر کے دماغ ہی میں آ سکتے ہیں یا فیکٹریاں چلانے والے کسی سیاستدان کو، پتہ نہیں حضرت قائد اعظم نے پاکستان بناتے ہوئے حضرت نوازشریف اور چھکہ مار عمران خان سے مشورہ کیوں نہ کر لیا۔ان میں سے ایک صاحب ویزہ فری سرحد چاہتے ہیں اور دوسرے صاحب مشترکہ ایٹمی فیکٹری لگانے کے لئے پر تول رہے ہیں، کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے سردخانے کی نذر کر دینا چاہتے ہیںلیکن ممبئی سانحے کے مجرموں کو ترت سزا دلوانا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ایک سیاسی جماعت ایسی بھی ہے جو اس بات پر ناز کرتی ہے کہ ان کے بزرگ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے۔ میاںنواز شریف اور عمران خان کے بزرگوں کا وزن تحریک پاکستان کے دوران کس پلڑے میں تھا، اس پر تحقیق کے بعد ہی کوئی رائے دی جا سکتی ہے۔ میاں صاحبان نے تو بھارت سے ہجرت کا غم غلط کرنے کے لئے اپنا جاتی عمرہ ،رائے ونڈ کے نواح میں آباد کر لیا۔عمران کو بھی چاہئے کہ وہ نیوکلیر ری ایکٹر توبعد میں لگائیں،پہلے بھارتی کرکٹ ٹیم کے کوچ بن جائیں تاکہ یہ ٹیم دنیا میں اپنا جاہ وجلال قائم رکھ سکے۔ کشمیر کی آزادی کے لئے انہیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ،اس مسئلے کو ہم برسوں سے سرد خانے کی نذر کر چکے ، کم از کم واجپائی کے دورہ لاہور کے بعد تو ہم کشمیر کا نام نہیں لے سکتے۔اور رہے ممبئی حملے کے مجرم تو پہلے عمران کو ان کے نام لینے چاہئیں اور ان کے خلاف پاکستان میں نئے سرے سے پرچے درج کروانے چاہئیں ، انکی پارٹی میں ایک سے ایک بڑھ کر وکیل ہے، ان میں سے کسی کی خدمات حاصل کریں تاکہ وہ اسے یہ بتا سکیںکہ لاہور ہائی کورٹ میں بھارتی ڈوسیئر ان کیمرہ پیش کیا گیا، حافظ سعید کے وکلا کو بھی کمرہ عدالت سے نکال دیا گیا ، پھر بھی لاہور ہائی کورٹ نے بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا، عمران کو اپنے وکلا سے یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی تھی ، وہاں بھی حافظ سعید کو بری کر دیا گیا۔ اب عمران خاں کن ملزموں کو سزا دلوانے کی بات کرتے ہیں۔
کوئی دن آئے گا جب بھارت میں سے کوئی شخص ممبئی سانحے کا پول کھول دے گا کہ سمجھوتہ ایکسپریس اور مالی گاﺅں قتل عام کی وارداتوں کی طرح یہ سانحہ بھی خود بھارت کا خانہ ساز ہے۔کیا ستم ظریفی ہے کہ جو لوگ نائن الیون کی کارستانی کا الزام سی آئی اے کے کندھوں پر رکھتے ہیں ، وہ ممبئی حملوں کی واردات کو آنکھیں بند کر کے پاکستانی ایجنسیوں اور انکے کارندوں کے سر تھوپ دیتے ہیں۔اگر امریکہ غیر معتبر ہے تو بھارت کیسے قابل اعتماد ٹھہرا۔
پاکستانی قوم حیران اور پریشان ہے کہ اسے سچی سیاسی قیادت کب نصیب ہو گی جو پاکستانی مفادات کے مطابق زبان کھولے گی اور ہز ماسٹر وائس بن کر نہیں رہ جائے گی۔آج کے فیس بک کی پیدا وار بچوں کو قائد ملت خان لیاقت علی خان کا وہ مکہ کیسے یاد ہوگا جو انہوںنے بھارتی وزیر اعظم نہرو کو دکھایا تھا، نئی نسل کو کیسے معلوم ہو گا کہ یہ جولاہور کے ارد گرد بی ا ٓر بی بہتی ہے اسے کس نے اور کیوںکھدوایا تھا، اور آج کے بچوں کو کیا معلوم ہے کہ نہر لاہور پرمورچے کس نے تعمیر کروائے۔ ان میں سے ایک مورچہ میاں عامر محمود کے کالجوںکے سامنے مسلم ٹاﺅن انڈر پاس بناتے وقت بڑی بڑی کرینوں کی مدد سے توڑا گیا۔ان دنوں اخباروںمیںمیجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کا تذکرہ ہوا، ان کے حوالے سے میجر عزیز بھٹی شہیدنشان حیدر کا بھی ذکر ہوا، چند نوں بعد میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا تذکرہ پڑھنے کو ملے گا۔یہ کون لوگ تھے، انہوںنے کس مقصد کی خاطر جانیں قربان کیں، وہ بھی سوچتے ہوں گے کہ جہاں انہوںنے اپنا لہو بہایا، وہاں پاک بھارت مشترکہ سول نیوکلیر فیکٹریاں لگیں گی،اور دونوں طرف کے لوگ ویزے کی پابندیوں سے آزاد گھومیں گے تو ان کی روح کو تکلیف پہنچتی ہو گی، کیا دنیا کی دوسری قومیں اپنے وار ویٹرنز کو اسی انداز میں خراج تحسین پیش کرتی ہیں، عمران خان اگلی مرتبہ واشگٹن جائیں تو آر لنگٹن وار میمویل پر جا کر دیکھیں کہ امریکی قوم اپنے جنگی ہیروز کو کس عقیدت سے یاد کرتی ہے۔اور ان کی روحوں کے سامنے کیسے سر جھکاتی ہے۔
عمران خاںنے آج مشترکہ سول نیوکلیر پلانٹ کی تجویز دے دی، کل کو ان کی مبارک زبان پر یہ تجویز ہو گی کہ دونوں ملکوں کا ایٹمی اسلحہ ایک جگہ ڈھیر کر دیا جائے اور اس کی مشترکہ کمان تشکیل دے لی جائے، ہو سکتا ہے وہ ایک مشترکہ دفاعی چیف کے تقرر کی تجویز ہی دے ڈالیں ، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ عمران خان کو کچھ توجہ ان مشترکہ فیکٹریوںپر بھی کرنی چاہئے جو ان کی پارٹی کے زیر حکومت صوبے کی سرحد کے آر پار قائم ہیںاور ان میں سے بعض کا کنٹرول مشترک ہاتھوںمیں ہے۔
دی گریٹ خان نے مسلمانوں کا خون پینے والے نریندر مودی کو اگلے بھارتی وزیر اعظم کے طور پر خوش آمدید کہا ہے۔انہوں نے دلیل یہ دی ہے کہ بھارت جس کو منتخب کرے وہ ہمارے لئے سر آنکھوں پر،انہوںنے یاد دلایا ہے کہ بی جے پی کے ایک سابق وزیرا عظم واجپائی نے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس دلیل کے تحت عمران خان کا فرض یہ تھا کہ وہ اگلے چند ماہ بھارت میں قیام فرماتے اور خون آشام بلا نریندر مودی کے حق میں انتخابی مہم چلاتے تا کہ اس کی کامیابی شک و شبہے سے بالا تر ہو جائے۔ظاہر ہے مودی کے آنے سے واجپائی جی والا دوستی کا دور واپس آجائے گا اور دونوں طرف امن کی حامی قوتیں جو چاہے کر گزریں۔سرحد کو ویزہ فری کر لیں یا مشترکہ ایٹمی بجلی پلانٹ لگا لیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ بھارت کے سلسلے میں ن لیگ اور تحریک انصاف کی قیادت ایک دوسرے کے ہم زباں کیسے ہو گئی، ویسے تو وہ ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کو دوڑتی ہیں لیکن بھارت کا مسئلہ آتا ہے تو ریشہ خطمی ہو جاتی ہیں اور دونوں گنگا جمنا کی طرح ایک دوسرے میںمدغم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
میاں نواز شریف خوش ہوں گے کہ انہیں اپوزیشن لیڈر تو ملا مگر زرداری کی طرح ٹھس اورمک مکا والا۔ایسے اونچے نصیبوں والا وزیر اعظم۔اس کی قسمت پر رشک آتا ہے۔