مقبوضہ کشمیر : علی گیلانی بدستور نظر بند ‘ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ملین مارچ ملتوی

09 دسمبر 2013

سری نگر (کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی کو انکے گھر میں بدستور نظر بند ہیں جبکہ ان کے ساتھیوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ بھارتی رکاوٹوں کے باعث اتوار کو سری نگر میں انسانی حقوق کی خلاف و رزیوں کے خلاف ہونے والا ملین مارچ ملتوی کر دیا گیا۔ حریت ترجمان نے ایک بیان میں عوام سے اپیل کی کہ وہ ملین مارچ پر قدغن لگانے کی ریاستی دہشت گردی پر صبروتحمل سے کام لیں۔ بیان کے مطابق حیدرپورہ دفاتر پر تحریک حریت کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ترال اور بانڈی پورہ کے بعد سرینگر کے مجوزہ عوامی جلسے پر پابندی لگائے جانے کی حکومتی کارروائی اور اس سے پیدا شدہ صورتحال پر غوروخوض ہوا اور آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ عوامی جلسوں پر قدغن لگانے کا اگرچہ کوئی آئینی یا اخلاقی جواز موجود نہیں تھا، البتہ ریاست میں عملاً مارشل لاء نافذ ہے۔ ریاستی دہشت گردی کا ننگا ناچ جاری ہے اور لوگوں کے اظہار رائے کے حق پر پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں۔ علی گیلانی کی نظربندی ختم ہونے کی صورت میں سرینگر، ترال، بانڈی پورہ، بانہال، پلہالن اور اسلام آباد (اننت ناگ) کے مجوزہ عوامی جلسوں کے لئے نئے شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔ دوسری جانب جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے فرنٹ کے اسیر رہنما ظہور احمد نٹ پر کٹھوعہ جیل میں انتہا پسند غنڈوں کے جان لیواحملے میں شدید زخمی ہونے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ادھر فریڈم پارٹی چیئر مین شبیر احمد شاہ نے حقوق انسانی کی پاسداری کیلئے بین الاقوامی سطح پر کام کر نے والی تنظیموں کی کشمیر کے حوالے سے غیر تسلی بخش کارکردگی پر اظہار افسوس کر تے ہو ئے کہا کہ پارٹی 10دسمبر کو سرینگر سونہ وار میں اقوام متحد ہ کے فو جی مبصرین کے ہیڈ کوارٹر پر میمورنڈم پیش کرے گی۔