منڈیلا کی جرأت‘ کلنٹن کو دوران تقریر لیبیا پر تنقید سے روک دیا تھا: برطانوی میڈیا

09 دسمبر 2013

واشنگٹن / لندن (اے پی اے) امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی وفات کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہیں پنے ہی انداز میں یاد کیا اور کچھ ایسے واقعات بیان کئے جب منڈیلا نے انہیں مشکل میں ڈال دیا تھا۔  سابق صدر کلنٹن نے منڈیلا کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سیاسی لیڈر ہونے اور صدارت چھوڑنے کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا مگر وہ درحقیقت ایک بہت اچھے صدر تھے اور اپنے عوام اور ملک کے وفادار نمائندے تھے۔ سابق صدر کلنٹن نے کہا کہ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ میرے ساتھ بہت بے تکلف تھے‘ عام روش سے ہٹ کر۔ اگرچہ ہم ایک دوسرے سے بحث مباحثہ کرتے تھے اور ایک دو بار تو ہماری بہت تندوتیز بحث ہوئی۔ میں اکثر ان سے کیوبا کے بارے میں شکوہ کرتا تھا۔ سابق صدر کلنٹن نے بتایا کہ میں نے ایک بار ان سے پوچھا کہ آپ نے مفاہمت کے عمل میں کیسے حصہ لیا‘ دیکھیں ان لوگوں نے آپ سے کیا سلوک کیا۔ آپ نفرت تو کرتے ہونگے ان سے؟ منڈیلا نے جواب دیا میں جب جیل گیا تو جوان اور قوی تھا اور گیارہ سال تک میں اپنی نفرت پر پلتا رہا۔ ایک دن جب میں چٹانیں توڑ رہا تھا تو میں نے اس سب کے بارے میں سوچا جو انہوں نے مجھ سے کیا اور میرے سے چھینا۔ مجھے ذہنی اور جسمانی طور پر اذیتیں دیں۔ انہوں نے مجھ سے میرے بچوں کو جوان ہوتے دیکھنے کا حق چھین لیا اور میری شادی تباہ کی۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ مجھ سے سب کچھ چھین سکتے ہیں سوائے میرے ذہن اور میرے دل کے۔ میں نے یہ دونوں چیزیں دینے کا فیصلہ کیا۔ مشہور مؤرخ اور مصنف ڈاکٹر مبارک علی نے نیلسن منڈیلا اور صدر کلنٹن کے حوالے سے ایک تاریخی واقعہ بیان کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ جب بل کلنٹن جنوبی افریقہ گئے ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی تقریر میں جب لیبیا پر تنقید کی تو لائیو نشر ہونے والی اس تقریر میں منڈیلا نے امریکی صدر کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ رک جائیں اور لیبیا پر تنقید نہ کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہماری اس وقت مدد کی تھی جب ہم انتہائی مشکلات کا شکار تھے۔