بنام خادم اعلیٰ.... پیام رعیت ادنیٰ؟

09 دسمبر 2013

جمعرات یکم صفرالمظفر کو اہالیان احمد بلاک گارڈن ٹاﺅن نے راقمہ کی توجہ ایک اشتہار کی جانب دلوائی جو وزیراعلیٰ اور فرزند وزیراعلیٰ کے نام اپیل کی صورت میں تھا اور جس کا عنوان تھا ”علم کو بچا لیں“۔
وہ لوگ پوچھتے ہیں علم کو کس سے بچا لیں۔ حکیموں سے، مچھروں، مینڈکوں سے یا ڈینگی سے۔ ہاں وزیر اعلیٰ پنجاب کو ڈینگی مکاﺅ کا خوب تجربہ ہے اور کامیابی سے انہوں نے اس پر قابو پایا ہے۔ ہماری اپیل چھاپیں کہ اگر علم کو صرف بیوپار بنا دیا جائے گا تو وہ ڈینگی سے بھی زیادہ خطرناک ہو جائے گا۔ یہ تمام رہائشی جو اس علاقے کے معززین میں شمار ہوتے ہیں انہوں نے ہر سطح پر اپنے ملک کی خدمت کی ہے۔ یہ لوگ دیانتداری سے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ اصولی طور پر ہر قسم کا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ گھروں کے ٹیکس، سڑکوں کے ٹیکس، موٹر کے ٹیکس اور آمدنی و جائیداد کے ٹیکس.... انہوں نے بھلے وقتوں میں نہر کے کنارے سستی زمین خرید لی تھی۔ اور کشادہ گھر بنا لئے تھے۔ تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد پرسکون زندگی بسر کر سکیں لیکن اگر علم کے بیوپاری ان پرسکون بستیوں میں گھس کر اپنی یونیورسٹیاں اور کالج بنانے کے درپے ہو جائیں گے تو یہ بے چارے عملی زندگی کی تگ و دو میں تھکے ہارے شہری کہاں جائیں گے۔ دوسرا گھر بنانے کی ان میں استطاعت نہیں ہے اور بڑے بڑے اشتہار چھپوانے کے لئے ان کے پاس سرمایہ نہیں ہے۔
اشتہار میں لکھا گیا ہے کہ تمام ضروری منظوریاں لی گئیں۔ تب بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی کھولی گئی۔ علم کے ان بیوپاریوں سے پوچھیں انہیں حقوق شہریت کا علم ہے۔ کیا انہوں نے اس سڑک اور اس بلاک کے شہریوں سے این او سی لیا جو کہ ایل ڈی اے کی بنیادی ضرورت ہے۔ کتنے گھروں سے این او سی لیا۔ سات گھر تو ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے۔ یہاں تو تیسرے گھر کو پتہ نہیں چلا کہ خفیہ طور پر اندر کیا ہو رہا ہے۔ باہر والا گیٹ بند کر کے سارے انتظامات خفیہ طریقے سے کئے جاتے رہے۔ یہ منظوریاں کس سے لی گئیں۔ کونسے قواعد و ضوابط کے تحت اندر تعمیرات کی گئیں۔ نقشے کس سے منظور کروائے گئے۔ اشتہار اتنا بڑا اور علاقے کے مکینوں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ ان قوم کے خدمت گاروں کی تنخواہوں اور الاﺅنسز پر بھی نظر رکھئے.... وہ علم کے علمبردار بنتے ہیں تو سارا انتظام و انصرام چوری چھپے کیوں کیا۔ پرائیویٹ اداروں کی اخلاقیات پر کیچڑ اچھالتے ہیں تو ان کی اپنی اخلاقیات کا کیا معیار ہے۔ اگر انہوں نے تین ہزار طلباءاور طالبات کو دھوکہ دیا ہے تو اس کی تلافی وہ خود ہی کریں گے۔ کیا ان کو معلوم نہیں تھا کہ کچھ عرصہ پہلے لاہور ہائیکورٹ نے اس پوری سڑک پر اور اس علاقے میں کمرشلائزیشن کی ممانعت کر دی تھی۔
جس زمانے میں بند دروازوں کے اس طرف خفیہ طور پر بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی بن رہی تھی اہالیان گارڈن ٹاﺅن اس وقت بھی ایک عرضی لے کر میرے پاس آئے تھے۔ ہم سب نے اس پر دستخط بھی کئے تھے۔ وہ عرضی کیا ہوئی۔ ان کی مرضی کے آگے چل نہ سکی۔
اپنے ہم وطنوں اور بزرگوں کی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے میں نے 6اگست 2012ءکو ایک کالم نوائے وقت میں لکھا تھا جس کا عنوان تھا ”یہ قومی خدمت ہے یا قومی اذیت....“
عالی جناب! آپ کی سہولت کے لئے میں اس کالم کا ایک پیرا گراف من و عن نقل کر رہی ہوں۔
”....گارڈن ٹاﺅن کے کچھ رہائشی میرے پاس آئے تھے اور شکایت کر رہے تھے کہ اب اس سڑک پر بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی کی ایک شاخ کھولی جا رہی ہے اور شہریوں کو علم تک نہیں ہے۔ پندرہ بیس سال پہلے جو ادارے بن گئے تھے ان کو چھوٹ دے دی گئی تھی۔ مگر اس کے بعد اس سڑک پر تعلیمی یا دوسرے ادارے بنانا ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ احمد بلاک کی سروس لین پر پہلے بھی دو ادارے اور ایک ہسپتال بن چکا ہے۔ یہاں شہریوں کی سہولت کے لئے انڈر پاس بھی بن چکا ہے۔ یہ سڑک سیدھی موٹر وے کو جاتی ہے۔ اس سڑک کو کاروباری سڑک کا درجہ دینا انتہائی غلط ہے۔ ایک طرف لاہور کو خوبصورت بنانے کے لئے سڑکیں کشادہ کی جا رہی ہیں۔ تیز رفتار ٹرانسپورٹ سسٹم شروع ہو گیا ہے۔ دوسری طرف نہر کے کنارے نئے کمرشل ادارے بنانے کی اجازت دے کر شہر کی بدصورتی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سب اداروں چھٹی کے وقت رہائشیوں اور راہ گیروں پر کیا گزرتی ہے۔ بچوں کو لینے والی گاڑیاں ایک دوسرے میں پھنسی ہوتی ہیں۔ مائیں بچوں کے پیچھے بھاگ رہی ہوتی ہیں۔ چھوٹے بچے ہجوم کی صورت بکھر رہے ہوتے ہیں۔ استاد اندر امن سے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ان کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ باہر راہگیروں اور رہائشیوں پر کیا گزر رہی ہے۔ نہ یہاں سے بارات گزر سکتی ہے نہ ڈولی اور نہ جنازہ.... کسی نے جلدی ائر پورٹ جانا ہے، کسی نے مریض کو لے کر ہسپتال جانا ہے، رہائشی کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
اور قوم کے یہ معمار پیسہ بھی خوب کمائیں اور خدمت خلق کا تمغہ بھی کاندھے پر سجائیں، اور شام کو اپنے پرسکون گھروں میں جا کر سو جائیں اور ہر قسم کے آنے جانے کی اذیت رات گئے تک اس علاقے کے رہائشی اٹھائیں.... کیا جرم ہے بھئی ان کا....
ہر وقت کی کثیر آمدورفت موٹروں اور بسوں کی وجہ سے آئے دن سروس لین ٹوٹ جاتی ہے۔ پیسہ کمانے والوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ وہ بھی حکومت کی مدد کریں اور سڑک بنوا دیں۔“
عالی جاہ:
آپ نے جس تیز رفتاری سے میٹرو بس سسٹم کی سہولت عوام کو بخشی اور جس تندہی سے لاہور کو دنیا کے پانچ خوبصورت شہروں کی صف میں لا رہے ہیں اس ہمت مردانہ اور جرات رندانہ کو دیکھتے ہوئے یہ تمام گارڈن ٹاﺅن کے رہائشی صبح ہی صبح میرے پاس آئے بیٹھے ہیں۔ میں نے ان سے بہت کہا ہے کہ وزیراعلیٰ انصاف کریں گے۔ اشتہار چھپوانے سے کچھ نہیں ہوتا....
”گریباں چاک کر لینے سے دیوانہ نہیں ہوتا!“
مگر وہ سب فکر میں مبتلا ہیں۔ اس رہائشی سڑک پر اتنا رش ہو گیا ہے کہ گھروں میں سانس لینا مشکل ہو گیا ہے۔
سر! آپ ایک سروے کروائیں۔ شہر سے باہر ان کو ایک خطہ زمین دیں اور ان سے کہیں.... علم کے جادو گر اور علم کے چارہ گر وہاں اپنے اپنے ادارے تعمیر کریں۔ اپنی اپنی بسیں چلائیں۔ انہوں نے اتنی زیادہ فیسیں رکھی ہیں۔ غریب کی کمر ٹوٹ جاتی ہے بچے پڑھاتے پڑھاتے۔ اگر علم پھیلانا قومی خدمت ہے تو یہ انسانی اذیت کیوں بن رہی ہے۔ روز مجھے سینکڑوں خواتین کے فون آتے ہیں کہ ان کے محلے میں بغیر اجازت کے تعلیمی ادارے کھولے جا رہے ہیں۔ یہ بیچارے لوگ جو بڑے بڑے اشتہار نہیں چھپوا سکتے .... وہ کہاں جائیں۔ کدھر جائیں۔
سر جی! آپ یہ نہ دیکھیں کون کہہ رہا ہے۔ یہ دیکھیں کہ کیا کہہ رہا ہے....
میری پشت پر پورا گارڈن ٹاﺅن کراہ رہا ہے۔
یہ لوگ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ آپ ہمارا کیس خود دیکھیں۔ آپ خود کاغذات کی جانچ پڑتال کریں۔ کسی کاغذ پر آپ کو ہماری فریاد نظر آئے.... تو داد رسی کریں۔ اگر ہمارا دعویٰ انسانی لگے تو ہماری بے جرم سزا کو بند کروانے کی کوشش کریں۔
اگر آپ کو اللہ نے دوسری مرتبہ اقتدار سے سرفراز کیا ہے تو اپنی رعیت کو سکھ کا سانس لینے کی توفیق دیں۔ ایسا قانون بنائیں جو رہائشی علاقوں کے سکون کو تاراج نہ کرے۔ ایسی نسل پیدا کریں۔ جو پچھلی نسل کے اچھے کاموں کو آگے بڑھا سکیں۔ ایسی روایات بنا دیں جو عادات کو بدل کر رکھ دیں۔
ہاں بھلا کر تیرا بھلا ہو گا
اور درویش کی صدا کیا ہے؟