میاں نواز شریف کے بعد عمران خان کا بھی بھارت سے ویزہ فری تعلقات کی خواہش کا اظہار....وہ قوم کو بتائیں، بھارتی لیڈروں اور میڈیا نے ان کی اس خواہش کا کیا جواب دیا

09 دسمبر 2013

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر سب سے اہم ہے جسے حل کرنے کیلئے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا، مسائل جنگوں سے نہیں مذاکرات سے ہی حل ہوتے ہیں۔ گذشتہ روز نئی دہلی میں ایک بھارتی اخبار کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کے عوام نے بی جے پی کے نریندر مودی کو اپنے وزیراعظم کے طور پر منتخب کیا تو پاکستان بھی انہیں خوش آمدید کہے گا، ان کے بقول پاکستانی نوجوان بھارت سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ ماضی میں بی جے پی کے وزیراعظم واجپائی نے مسائل کے حل کیلئے جو اقدامات اٹھائے تھے اس کی بنیاد پر وہ آج بھی اچھے الفاظ میں یاد کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا میاں نواز شریف بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں مگر انتہا پسندوں کے دباﺅ کے باعث وہ اس کام کو تیزی کے ساتھ سرانجام نہیں دے پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کا سٹیٹس یورپی یونین کی طرح ہونا چاہئے جہاں لوگوں کو ایک دوسرے کے ملک آمدورفت کی اجازت ہو۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ جب ان کی حکومت آئے گی تو وہ دہلی سے لاہور تک بغیر کسی رکاوٹ کے آنے جانے کی اجازت دیں گے۔
عمران خان بزعم خویش اپنے اقتدار کی باری کے منتظر ہیں اور اپنے انتخابی جلسوں میں بھی وہ اسی تناظر میں نعرے لگایا کرتے تھے کہ ”میاں جی جان دیو ہُن ساڈی واری آن دیو“ ۔ بھارتی اخبار کی تقریب میں انہوں نے جس وارفتگی کا اظہار کیا اس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ انہیں بھارتی دارالحکومت کی فضاﺅں میں اپنی کرکٹ کا زمانہ یاد آ گیا جھرمٹ میں خود اس ماحول میں بھارت کیلئے در آنے والی محبت آج بھی ان کے دل و دماغ سے رال کی طرح ٹپکتی نظر آتی ہے۔ وہ خود کو قومی پائے کا لیڈر تصور کرتے ہیں اور اپنی مقبولیت کے سونامی میں سب کو لپیٹ میں لینے کے داعی رہتے ہیں مگر بھارت جا کر بھارتیوں سے بھی زیادہ بھارت کی وکالت کرنا کیا اس ملک میں ان کی سیاست کی بنیاد مستحکم کرنے کا باعث بن پائے گا جس نے اسی بھارت کی کوکھ سے جنم لے کر اس کے اکھنڈ بھارت کے خواب چکنا چُور کئے ہوئے ہیں جبکہ اسی پس منظر میں بھارتی لیڈروں کو آج بھی پاکستان کا آزاد اور خود مختار وجود ہضم نہیں ہو رہا اور وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، پاکستان دشمنی ان کا مشترکہ ایجنڈہ ہوتا ہے جو اس وقت بھارتی انتخابات کی مہم کے دوران ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر پروان چڑھایا جا رہا ہے۔
اس وقت جبکہ بھارتی حکمران جماعت پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کو انتہا تک پہنچائے ہوئے عملاً جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور پاکستان پر در اندازی اور دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی جبکہ بھارتی اپوزیشن بی جے پی کے وزیراعظم کے نامزد امیدوار نریندر سنگھ مودی کی ہر تقریر کی تان بھی پاکستان کو رگیدنے پر ٹوٹتی ہے تو بھارت میں پاکستان دشمنی کے گرمائے گئے اس ماحول میں عمران خان جیسے پاکستان کے قومی لیڈر کا بھارت جا کر اس کے ساتھ ویزہ فری تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کرنا بھارتی لیڈروں کی طرف سے لگائی گئی پاکستان دشمنی کی آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے جبکہ عمران خان نے یہ مجہول استدلال پیش کرنے میں بھی کوئی جھجک محسوس نہیں کی کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی یورپی یونین کے ممالک جیسے ہونے چاہئیں ۔اس استدلال میں ان کی بھارت کیلئے وارفتگی کے سوا اور کوئی جذبہ نظر نہیں آتا ورنہ یہ منطق گھڑتے ہوئے وہ یورپی ممالک کے باہمی تعلقات کا پاکستان اور بھارت کے حالات کے ساتھ اس تناظر میں ضرور موازنہ کرتے کہ یورپی ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ کسی علاقے کا کوئی جھگڑا ہے نہ پانی کا کوئی باہمی تنازعہ ہے، یورپی یونین کا کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے علاقے کو ہڑپ کر کے توسیع پسندی کا جذبہ نہیں رکھتا، نہ کسی یورپی ملک نے کسی دوسرے ملک پر جنگ مسلط کر کے اسے دولخت کیا ہُوا ہے نہ کسی یورپی ملک نے اپنے کسی پڑوسی ملک پر اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے کیلئے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی تمام حدیں عبور کی ہوئی ہیں، اس کے باوجود یورپی ممالک کے مابین ویزہ فری آمد و رفت کی بلا روک ٹوک ہرگز آزادی نہیں اور وہاں ایک دوسرے کے ملک کی گاڑیوں اور ان میں موجود لوگوں کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کا معاملہ تو اس کے قطعی برعکس ہے کہ بھارت نے قیام پاکستان کے وقت سے ہی اس کے وجود کو قبول او ربرداشت نہیں کیا، اس نے پاکستان کی سالمیت کمزور کرنے کی نیت سے ہی اس کی شہ رگ کشمیر پر اپنی فوجوں کے ذریعے تسلط جمایا اور پھر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی ہٹ دھرمی کو بھارتی آئین میں ترمیم کر کے قانونی حیثیت دلوا دی۔ کشمیر پر بھارتی تسلط کا مقصد اس کے راستے پاکستان آنے والے دریاﺅں کے پانی سے اسے محروم کرنے کا تھا جو اس نے سندھ طاس معاہدے کو روندتے ہوئے حاصل کیا جبکہ اب وہ پاکستان کو پانی کے ایک ایک قطرے سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی بھی مکمل کر چکا ہے اور اس ہٹ دھرمی کی بنیاد پر اس نے آج تک مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کسی بھی سطح کے مذاکرات کی بیل منڈھے نہیں چڑھنے دی۔ عمران خان نے اگرچہ پاکستان اور بھارت کے مابین اپنی خواہش پر مبنی تعلقات کیلئے بھی مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور اس مسئلہ کے حل کی کُنجی دونوں ممالک کے مابین ہر صورت مذاکرات کو قرار دیا ہے تاہم اگر گذشتہ 60 سال سے زائد کے عرصے کے دوران آج تک پاکستان بھارت مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے اور ہر بار کشمیر پر بھارتی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں ہی سبوتاژ ہوئے ہیں تو عمران خان کے ہاتھ کون سی گیدڑ سنگھی آ گئی ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا کوئی قابل قبول اور قابل عمل حل نکلوا لیں گے جبکہ بھارت کے ساتھ ویزہ فری تعلقات استوار کرنا تو عملاً کشمیر ہی نہیں پورے ملک کی سالمیت پلیٹ میں رکھ کر اپنے اس مکار دشمن کو دان کرنے کے مترادف ہو گا جس کے بعد بھارتی لیڈروں کیلئے اکھنڈ بھارت کے منصوبے کی تکمیل میں کوئی دقت ہی نہیں رہے گی۔
وزیراعظم نواز شریف تو اپنے تجارتی پس منظر میں بھارت کے ساتھ کاروباری تجارتی تعلقات کی خاطر دونوں ممالک میں ویزہ فری آمد و رفت کا ڈول ڈالنا چاہتے ہیں جبکہ عمران خان نے بھی بھارت کے ساتھ ایسے ہی تعلقات کا نعرہ لگا کر اپنے ذہن میں موجود مادر پدر آزاد کلچر کو پروان چڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں میاں نواز شریف یہ استدلال پیش کر رہے ہیں کہ قوم نے انہیں بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کا مینڈیٹ دیا ہے جو محض اپنی خواہشات کے تابع سوتے میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے جبکہ اب عمران خان کو بھی اپنی خواہشات کے تابع یہ خواب آ گیا ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل بھارت سے تعلقات کی بہتری کی متمنی ہے۔ اس معاملہ میں تو میاں نواز شریف اور عمران خان ایک ہی سوچ کے حامل نظر آتے ہیں چنانچہ محض الفاظ کے رد و بدل کے ساتھ دونوں ایک ہی زبان، ایک ہی لہجے اور ایک ہی جذبے کے تحت بھارت کے ساتھ اپنی وارفتگی کا اظہار کر رہے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ قوم نے نہ میاں نواز شریف کو بھارت سے مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر تعلقات بہتر بنانے کا مینڈیٹ دیاہے اور نہ ملک کی نوجوان نسل، جسے عمران خان اپنا حلقہ¿ انتخاب تصور کرتے ہیں بھارت کے تسلط کو قبول کرنے کی متمنی ہے ۔ اس تناظر میں عمران خان کو یہ بات ذہن سے نکال دینی چاہئے کہ بھارت یو این قراردادوں کی روشنی میں کشمیر کا مسئلہ حل کر کے پاکستان کی جانب کشادہ پیشانی سے دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا، اگر عمران خان بھارت کے ساتھ وارفتگی پر مبنی تعلقات کیلئے اپنی سوچ کے اسیر رہے تو ان کا آئندہ انتخابات میں بھی ”ساڈی واری آن دیو“ کا نعرہ بار آور نہیں ہوسکے گا اور وہ قومی سیاست میں پر راندہ¿ درگاہ بن جائیں گے۔ یقیناً پڑوسی ملک کے ساتھ دوستی کی خواہش میں کوئی بُرائی نہیں ہے مگر اس کیلئے تالی ایک ہاتھ سے تو نہیں بجتی، عمران خان تو بھارتی لیڈروں کی جانب سے پاکستان کے خلاف بھڑکائے گئے دشمنی کے الاﺅ میں کود کر امن کی آشا کے چکمے میں آئے ہیں ۔انہیں ملک واپس آ کر قوم کو یہ ضرور بتانا چاہئے کہ وہ بھارتی لیڈروں، عوام اور میڈیا سے اپنی ”امن کی آشا“ کا کیا جواب لے کر آئے ہیں۔