ادارے آئین کی عملداری یقینی بنائیں

09 دسمبر 2013

چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ منصب کی تبدیلی آئینی ضرورت ہے۔ آئین کا تقاضا ہے کہ 65 سال کی عمر کو پہنچنے والے سپریم کورٹ کے جج کو سبکدوش ہونا ہے۔ اداروں کو آئین پر چلانا عدلیہ کا کام ہے۔ جبکہ نامزد چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ جج کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہوتا۔سپریم کورٹ میں 12 دسمبر کو چیف جسٹس کے منصب کی تبدیلی ہونے کو ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہائیکورٹ بار راولپنڈی کی طرف سے الوداعی تقریب میں کہنا پڑا کہ اداروں کو آئین پر چلانا عدلیہ کا کام ہے۔ اگر اداروں کو آئین پر عدلیہ نے چلانا ہے تو پھر حکمرانوں کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے اگر حکمران تمام اداروں کو آئین و قانون کے مطابق چلائیں اور سرکاری ملازمین آئین پر عمل کریں تو عدلیہ کو ایکشن لینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو اور یوں عدلیہ کا کام بھی آسان ہو جائے۔ حکمران اپنی ذمہ داری کو نبھائیں۔ تاکہ عدلیہ سالہا سال سے زیر التوا کیسز کو نمٹا سکے۔ اس وقت بھی ہزاروں کیس التوا کا شکار ہیں۔ نامزد چیف جسٹس نے ان تمام چہ میگوئیوں کی حوصلہ شکنی کر دی ہے جو جسٹس افتخار محمد چودھری کے ریٹائر ہونے پر حکمرانوں کی صفوں میں عدلیہ کی کسی نرمی کا عندیہ دیتی نظر آتی تھیں۔ اگر تمام ادارے آئین و قانون میں تعین اپنے اپنے دائرہ کار کے فریم ورک میں رہ کر فرائض انجام دینے کی روائت مستحکم بنالیں تو اس سے سسٹم کو بھی کسی قسم کا دھڑکا نہیں رہے گا اور حکومتی گورننس بھی انصاف کی عملداری کی ضمانت بن جائےگی۔