بلدیاتی انتخابات میں بلوچستان بازی لے گیا

09 دسمبر 2013

 بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے دوران مجموعی طورپر حکومتی اتحاد نے میدان مارلیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور(ق) لیگ بہت پیچھے رہ گئی۔بلوچستان میں باقی صوبوں کی نسبت امن و امان کی صورتحال زیادہ گھمبیر ہے لیکن بلدیاتی الیکشن کرانے میں وہ پُر امن اور ترقی یافتہ صوبوں سے سبقت لے گیا ہے۔ جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کی مخالفت کرنے والوں کو بلوچستان کے انتخابی نتائج کو پیش نظر رکھتے ہوئے غیرجماعتی بلدیاتی انتخابات کےلئے ہی اپنی صف بندی کرنی چاہئے الیکشن جماعتی بنیادوں پر ہوں یا غیر جماعتی بنیادوں پر عوام ان میں حصہ لینے والے امیدواروں کی کارکردگی کی بنیاد پر ہی ووٹ دیں گے۔ بلوچستان کے انتخابات میں بلوچ عوام نے جس جوش جذبے کے ساتھ ووٹ کاسٹ کیے ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔ امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باوجود ٹرن آﺅٹ40فیصد رہا جو حوصلہ افزا ءہے لہٰذا دیگر صوبے حیل وحجت سے کام لینا چھوڑ دیں اور آئین پر عمل کرتے ہوئے الیکشن شیڈول کا اعلان کریں ۔بلدیاتی الیکشن جمہوریت کی اساس ہے یہ جس قدر بروقت اور صاف شفاف ہونگے جمہوریت اسقدر ہی پھلے پھولے گی اور اس کی جڑیں مضبوط ہونگی۔