یوتھ بزنس قرضے اور شرائط

09 دسمبر 2013

 وزیراعظم یوتھ بزنس قرضے کا باضابطہ افتتاح کردیا گیا ہے۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ 9 ماہ میں ایک لاکھ نوجوانوں کو قرضہ دینگے۔ نوجوان سوچ سمجھ کر کاروبار کریں قرضے کو امانت سمجھیں اور وقت پر واپس کردیں۔میاں نواز شریف نے الیکشن کمپین میں جو وعدے کیے تھے وہ اب انہیں پورا کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بیروزگاری سے پریشان نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنیکا اعلان کیا تھا۔ یوتھ بزنس قرضے سے صرف ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا جبکہ میاں نواز شریف کے بقول 10لاکھ 80ہزار نوجوان بیروزگار ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی 9لاکھ80 ہزار نوجوانوں کو کون روزگار دے گا؟لہٰذا وزیراعظم اگر قرضوں کی بجائے نجی سیکٹر میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرتے تو اس سے کئی لاکھ جوانوں کوبا عزت روزگار مل جاتا۔اب پڑھے لکھے نوجوان حکومت سے قرضے لیکر ریڑھیاں لگائیں گے یا چھوٹی موٹی دکان بنا لیں گے جبکہ اس بات کی بھی ضمانت نہیں کہ وہ بزنس میں کامیاب بھی ہوتے ہیں یا نہیں۔ حکومت نے قرضے کےلئے تین آسان شرائط رکھی ہیں۔ایک پاکستانی ہونا،دوسرے قومی شناختی کارڈ کا قابل استعمال ہونا اور ایک ضمانت دینے والاشخص لیکن بنکوں نے خودسے انتہائی سخت قوانین بنالیے ہیں مثلاً ضمانت دینے والے کے اکاﺅنٹ میں قرض سے زائد رقم موجود ہونا ضروری ہے جبکہ چیک بھی دینا پڑیں گے ۔ان سخت شرائط کے باوجود اگر سکیم کو صاف و شفاف بنایاجائے اور کسی قسم کی اقربا پروری اور رشوت لیکر قرض جاری کرنیکی حوصلہ شکنی ہوتو سکیم کا اصل مقصد پورا ہوسکتا ہے۔وزیراعظم نے گزشتہ روز جس طرح طلباءکو وی آئی پی نشستوں پر بیٹھا کر انکی حوصلہ افزائی کی ہے ۔طلباو طالبات نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ وزیراعظم کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔