آئینہ قلب مومن

09 دسمبر 2013

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیںکہ ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے ، وہاں حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سو رہے تھے ، حضورنے ان کو اپنے پاﺅ ں سے ہلایا اور ارشاد فرمایا:اپنا سر اٹھاﺅ ، انھوںنے سراٹھاکر کہا یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ حضورعلیہ الصلوٰة والسلام نے استفسار فرمایا:اے حارثہ ! تو نے کس حال میں صبح کی ؟انھوںنے عرض کیا : یا رسول اللہ میںنے ایک حقیقی مومن کی حیثیت سے صبح کی ہے، آپ نے استفسار فرمایا:ہر حق بات کی کوئی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس کی حقیقت کیا ہے ۔حارثہ نے عرض کیا:یا رسول اللہ میںنے دنیا (کی لغزشوں )سے کنارہ کرلیامیں نے اپنے دنوں کو روزوں سے آراستہ کرلیا اورراتوں کو شب بیداری کا معمول بنا لیا ہے۔ اب مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کہ میں اپنے رب کے عرش کو اپنے سامنے معلق دیکھ رہا ہوں۔ اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ شادا ںوفرحاںایک دوسرے کی زیارت کو جارہے ہیںاورجہنم والوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے متنفر و گریزاں ہوکر بھاگ رہے ہیں ، حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے ان سے فرمایا: اللہ نے تمہارا دل نورانی بنادیا ہے اورتم نے (ایمان کی) حقیقت کو پہنچا ن لیا ہے لہٰذاتم اس ایمانی کیفیت پر جمے رہو۔(ابن عساکر )۔ایک اورروایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے حقیقت کو دیکھ لیا ہے اب اسکو مضبوطی سے پکڑلوپھر حضور نے ارشادفرمایا:یہ وہ جواں مرد ہے ، جس کے دل کو اللہ نے منور کردیا ہے ۔(کنزالعمال)۔حضرت حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت اقدس میں عرض کیا اے اللہ رب العزت کے محبوب نبی آپ میرے لیے اللہ رب العزت کی بارگاہ سے شہادت کی دعا فرمادیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمادی، چنانچہ جب بدر کا میدان استوار ہوا تو حارثہ بھی گھوڑے پر سوار ہوکر میدان کارزار میں اترے ، تالاب پر پانی پی رہے تھے کہ دشمن کی طرف سے سنسناتا ہوا ایک تیر آیا اوران کی گردن میں پیوست ہوگیااوریہ جام شہادت سے سرفراز ہوگئے۔ حارثہ اپنی والدہ کے نہایت اطاعت گزار اور فرمانبرار تھے۔بدر سے واپسی ہوئی تو حارثہ کی والدہ ربیع حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یارسول اللہ ، حارثہ سے مجھے جس قدر محبت تھی وہ آپ کے علم میں ہے اگر وہ جنت سے ہمکنار ہوا ہے تو خیر میں صبر کروں گی ورنہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔آپ نے ارشادفرمایا: کیا کہہ رہی ہو! جنت ایک نہیں بلکہ بہت سی ہیںاور حارثہ تو جنت الفردوس میں ہے۔ ربیع یہ بشارت سن کر باغ باغ ہوگئیں مسکراتی ہوئی اٹھیںاورکہنے لگیں ، بخ بخ یاحارثہ یعنی واہ !واہ !یا حارثہ۔(اسد الغابہ)