پیر ‘ 5 صفر المظفر 1435ھ ‘9 دسمبر 2013ئ

09 دسمبر 2013

پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کی تشکیل کیلئے اجلاس منگل کو ہو گا !
پارلیمنٹ میں امور سلطنت میں معاونت کیلئے جو کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں ان کا مقصد ملکی وقار کا خیال رکھتے ہوئے ان شعبوں میں پیشرفت کرنا ہوتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ کمیٹیاں سیاسی رشوت کے طور پر یوں تقسیم کی جاتی ہیں جیسے گلی محلوں کی کمیٹیاں بولی لگا کر تقسیم ہوتی ہیں۔ اب ذرا غور سے کشمیر کمیٹی کی سربراہی کیلئے زیر غور ناموں پر نظر ڈالئے جن میں قرعہ فال نکلنا ہے، مخدوم امین فہیم، ظفراللہ جمالی اور کشمیر کمیٹی کیلئے سدا بہار چیئرمینی کے طلبگار مولانا فضل الرحمان میں سے کسی ایک کے نام۔ ان تینوں میں سے کسی ایک کی کشمیر کے حوالے سے کوئی خدمت کوئی اہم کاوش یا کام اگر کسی کے بھی کھاتے میں درج ہے تو ہمیں اور عوام کو ضرور آگاہ کیا جائے۔ آخر کس کار ہائے نمایاں پر انہیں کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی بخشی جا رہی ہے۔ ان میں سے شاید ہی کوئی امیدوار کرپشن کے الزامات کی زد سے محفوظ ہو یا ان کے سیاسی نظریاتی غیر متنازعہ رہے ہوں۔ مسلم لیگ (ن) اور اسکے قائدین نظریہ پاکستان اور تکمیل پاکستان کے مشن کے علمبردار ہیں انہیں کم از کم اپنی شہ رگ کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کی چیئر مینی کسی ایسے فرد کے سپرد نہیں کرنی چاہئے جو اس کا ہی ٹیٹوا دبا دے ورنہ کشمیری تو حکومت پاکستان کی کشمیر سے لاتعلقی والی پالیسی پر ویسے ہی شاکی ہیں ....
گِلہ اس کا کیا جس سے تُجھ پہ حرف آیا
وگرنہ یوں تو ستم ہم پہ بے شمار ہوئے
خدارا، اب تو کشمیر کیلئے دل و جان سے جدوجہد کرنے والے کسی اہلِ دل کو یہ سربراہی سونپی جائے چاہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہوجو ایمانداری سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو عالمی سطح پر اجاگر کرسکے۔ صرف سیر سپاٹے اور ٹی اے ڈی اے بنانے کا نہ سوچے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پاکستان بھارت تجارت کو 25 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے : بھارتی ہائی کمشنر !
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کے بہت سے فوائد ہیں اور دونوں ممالک اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں مگر اس بات سے بھی کوئی ذی ہوش انکار نہیں کر سکتا کہ یہ تجارتی روابط تب ہی ممکن ہیں جب دونوں ممالک کشمیر جیسا بنیادی اور سب سے زیادہ سنگین مسئلہ جو ان دونوں ممالک کے درمیان 65 برسوں سے بھارتی مہربانیوں سے ناگ کی طرح پھن اُٹھائے کھڑا ہے حل نہیں ہوتا ورنہ یہ مسئلہ تجارت سمیت ہر راہ کو کھوٹا کرتا رہے گا۔ اس لئے دونوں ممالک کے عوام کے فائدے اور دونوں حکومتوں کے درمیان عمدہ تجارتی و سیاسی تعلقات کے آغاز کیلئے پہلے اس مسئلے کو آبرومندی کے ساتھ حل کرناہو گا پھر برصغیر کے ڈیڑھ ارب انسان ترقی اور خوشحالی کی راہ پر خود بخود گامزن ہوں گے اور دونوں ممالک کی حکومتیں اپنے عوام کو ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل دے سکیں گی۔ پوری دنیا میں ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل جُل کر رہتے ہیں، آپس میں تجارت کرتے ہیں، عوام میں میل جول بڑھاتے ہیں، نفرت کی بجائے محبت کو فروغ دیتے ہیں مگر ہمارے ہاں اُلٹا نظام چل رہا ہے ہمارا پڑوسی شروع دن سے ہی ہمارا گلا دبانے پر تُلا بیٹھا ہے۔ بقول شاعر ....
نہ تڑپنے کی اجازت نہ فریاد کی ہے
گُھٹ کے مر جاﺅں یہ مرضی میرے صیاد کی ہے
والی کیفیت میں مبتلا اگر ہم اپنی بقا کیلئے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں تو یہ ہم خوشی سے نہیں کر رہے۔ پاکستان کی ابتدا سے خواہش رہی ہے کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھے، ایران اور چین سے دوستی اس کا بڑا ثبوت ہے۔ افغانستان سے بھی تمام شرارتوں اور شکایتوں کے باوجود ہم ہمیشہ مسکرا کر ملتے ہیں حتیٰ کہ اس کے اچھے بُرے اعمال کا بوجھ بھی اُٹھا لیتے ہیں، صرف بھارت کو ہم سے شکایت ہے حالانکہ اس شکایت کی وجہ بھی خود بھارت ہی ہے جو ابھی تک برصغیر کی تقسیم کے ایجنڈے کو مکمل نہیں ہونے دے رہا۔ رہی بات تجارت کی تو بھارت کے ساتھ تجارت میں ہمیں سراسر خسارہ ہی ہے اس کے باوجود ہم اس کی طرف محبت کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں تو اس سے زیادہ ہماری حماقت کیا ہو گی۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
قلعہ سیف اللہ : وارڈ 4 اور 5 میں سیاسی جماعتوں کا اتفاق، خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا !
چلو جی یہ حُسنِ اتفاق مبارک ہو مومنوں کو، انہوں نے باہمی رضا مندی سے عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا حالانکہ یہ قانوناً جرم ہے۔ اس حساب سے تو حکومت کو چاہئے کہ یہاں سے جیتنے والوں کی کامیابی کالعدم قرار دے اور جب تک یہاں سے خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت نہیں ملتی، یہاں کی نشستیں خالی رکھی جائیں کیونکہ یہاں فنڈز اور ترقیاتی کام صرف مردوں کیلئے مختص نہیں ہیں عورتیں بھی ان ترقیاتی کاموں اور فنڈز کی حصہ دار ہیں۔ کیا خوب حکمتِ عملی ہے عورتوں کے نام پر فنڈز کھائیں، ترقیاتی کاموں کیلئے، سکولوں کیلئے پیسے وصول کریں اور انہیں ہی ووٹ ڈالنے سے محروم رکھیں۔ اس حساب سے تو کیا یہاں خواتین نشستوں پر بھی کوئی مرد نما چیز ہی کامیاب کرائی جائے گی؟ اس جدید دور میں جب قریہ قریہ علم، شعور اور ترقی و خوشحالی کی راہیں کھل رہی ہیں ہمارے سماج میں فرسودہ خیالات کے حامل لوگ ابھی تک ملک کی آدھی آبادی کو مذہب، قانون اور سماج کی طرف سے دئیے گئے حقوق سے بھی محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے علاقوں اور وہاں کے انسانوں کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں ہونا چاہئے۔ کہتے ہیں ناں
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجﺅ
کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا
کل کیا پتہ یہی عقل سے محروم لوگ اپنے حلقوں میں لڑکیوں کے سکول، دستکاری مراکز، طبی سنٹر بھی بند کرا دیں، اس لئے بہتر یہی ہے کہ یہاں سے جتنے والوں کا انتخاب کالعدم قرار دیا جائے اور نئی ووٹنگ میں عورتوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔