ترقیاتی فنڈز کی لوٹ مار اور نیلسن منڈیلا

09 دسمبر 2013

آجکل تاریخی فیصلوں کی بہار کا موسم ہے۔ چیف جسٹس پاکستان ریٹائر ہونے سے پہلے اہم مقدمات کے فیصلے سنا رہے ہیں اور حکومت کا قبلہ درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر حکمران اور عوام آئین اور قانون کی بالادستی کو تسلیم کرلیں تو عدالتیں خالی ہوجائیں مگر حکمران قدم قدم پر آئین اور قانون سے انحراف اور قواعدوضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہیں جس سے عدالتوں پر بوجھ پڑتا ہے۔ طویل عرصے سے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ ترقیاتی فنڈ کے نام پر قومی خزانہ اراکین قوم و صوبائی اسمبلی میں تقسیم کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنے ”صوابدیدی اختیارات“ استعمال کرتے ہوئے اپنے انتخابی حلقہ گوجرخان کے لیے 47 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ مختص کردئیے۔ راجہ پرویز اشرف کے اس ”شاہی فرمان“ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں خصوصی دلچسپی لے کر تاریخی فیصلہ سنا کر ترقیاتی فنڈز کے صاف اور شفاف استعمال کے لیے حکومت کو آئینی راستہ دکھایا ہے۔ سپریم کورٹ نے راجہ پرویز اشرف کی جانب سے 57 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ کے اجراءاور استعمال کو غیر قانونی قراردے دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی، علی موسیٰ گیلانی، عبدالقادر گیلانی، مونس الٰہی، چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الٰہی، چوہدری وجاہت حسین، شیخ وقاص اکرم اور سندھ کے شیرازی خاندان کے انتخابی حلقوں میں جو اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کیے گئے وہ آئین اور قانون کے منافی تھے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں تحریر ہے کہ آئین کے مطابق وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پاس ہرگز یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق ترقیاتی فنڈز استعمال کریں۔سپریم کورٹ نے اب صوابدیدی اختیارات پر پابندی لگادی ہے۔ حکومت کو ایک آئینی میکانزم تشکیل دینا پڑے گا جس کے مطابق فنڈز خرچ کیے جائیں۔ نیب کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق نیب پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں ترقیاتی فنڈز کے غیر قانونی استعمال کے سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کرچکا ہے۔ فیصلے میں درج ہے کہ ترقیاتی فنڈز کے سلسلے میں نیشنل اکنامک کونسل سے منظوری نہیں لی گئی تھی۔ آئین کی رو سے لازم ہے کہ ترقیاتی فنڈز کے استعمال کے لیے سکیموں کو بھی قومی بجٹ میں شامل کیا جائے بصورت دیگر سپلیمنٹری بجٹ کی سٹیٹمینٹ پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش ہونی چاہیئے۔ حکومت نے ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں آئین کے آرٹیکل 80 اور 84 کو نظر انداز کیا۔ سپریم کورٹ نے ایک اور فیصلے میں رئیسانی حکومت کے دور میں خرچ ہونے والے ترقیاتی فنڈز کو بھی غیر شفاف اور قانون کے منافی قراردیا اور ترقیاتی سکیموں کے آڈٹ کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہر لحاظ سے یادگار ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے جو اس کا حق ہے البتہ قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ اس قدر مضبوط ہے کہ اس کی تبدیلی کے امکانات بہت کم ہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ حکمران آئین اور قانون کے برعکس ترقیاتی فنڈ کے نام پر قومی خزانہ لوٹتے رہے۔ آئین کی ہرگز یہ منشا نہیں ہوسکتی کہ بااثر افراد قومی خزانے سے اربوں روپے اپنے مخصوص انتخابی حلقوں میں صرف کردیں جبکہ پاکستان کے عوام کی اکثریت ترقیاتی کاموں سے محروم رہیں۔ آئین ریاست میں مساوی ترقی پر زور دیتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ صوابدیدی اختیارات کو ہمیشہ ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتارہا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق ترقیاتی فنڈز استعمال نہیں کرسکیں گے اور ان کو کمیٹی تشکیل دینا پڑے گی۔
پاکستان کی تاریخ میں صوابدیدی اختیارات اکثر اوقات ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے ہی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اگر سچائی کمشن تشکیل دیا جائے تو حیران کن انکشافات سامنے آئیں گے کہ ترقیاتی فنڈز کس بے دردی کے ساتھ خرد برد کیے گئے۔ اس سلسلے میں میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ بھی ہے کہ ترقیاتی فنڈز صرف 25 فیصد سکیموں پر خرچ ہوتے ہیں جبکہ 75 فیصد فنڈ کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں۔ ایسی سینکڑوں مثالیں آڈٹ فائلوں میں موجود ہیں کہ کروڑوں روپے کی سکیمیں صرف کاغذوں پر موجود رہیں اور 100 فیصد فنڈ خردبرد کرلیے گئے۔ میاں نواز شریف اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ترقیاتی فنڈز کے صاف شفاف استعمال کے لیے فول پروف سسٹم متعارف کراسکیں تو یہ ان کا قوم پر احسان ہوگا اور قومی خزانے کے اربوں روپے کرپشن سے بچ جائیں گے۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کے بزنس قرضہ سکیم کا اعلان کیا ہے۔ اس سکیم کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ بے روزگار نوجوان 8 فیصد شرح سود پر ایک لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک قرضے حاصل کرسکیں گے۔ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے اس سکیم کی چیئرپرسن مریم نواز شریف ہیں۔ توقع ہے کہ وہ پیلی ٹیکسی سکیم کو سامنے رکھتے ہوئے مانیٹرنگ کا سسٹم وضع کریں گی اور اس امر کو یقینی بنائیں گی کہ قرضے میرٹ پر دئیے جائیں اور نوجوان مقررہ مدت کے اندر قرضے واپس بھی کریں۔
نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے عظیم مدبر سیاستدان تھے۔ ان کی وفات کے غم کو پوری دنیا میں محسوس کیا گیا ہے۔ عالمی رہنماﺅں اور میڈیا نے ان کی بے مثال قربانیوں اور قومی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ نیلسن منڈیلا ایک مدبر تھے لہذا انہوں نے نئی نسل کے بارے میں سوچا جبکہ سیاستدان نئے انتخابات کے بارے میں ہی سوچتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے نسل پرستی کے خاتمے کے لیے اپنی زندگی وقت کردی اور اپنے مقدس مشن کی خاطر 27 سال تک جرات اور دلیری کے ساتھ جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ وہ طویل قید سے رہا ہونے کے بعد جنوبی افریقہ کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے اپنے ملک کی خاطر اپنے مخالفین کو معاف کردیا اور برداشت و رواداری کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ نیلسن منڈیلا نے سچائی اور مفاہمت کا کمشن تشکیل دیا۔ سیاستدان اس کمشن کے سامنے پیش ہوئے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا اور قوم سے معافی مانگی۔ اس طرح جنوبی افریقہ ایک نئے دور میں داخل ہوگیا۔ نیلسن منڈیلا نے قوم کی مایوسی اور نفرت کو اُمید اور اعتماد میں بدل دیا۔ عوام کو صاف شفاف اور اچھی حکومت دی۔ نیلسن منڈیلا کونسل پرستی کے خلاف طویل جدوجہد کے سلسلے میں 1990ءنوبل انعام سے نوازا گیا۔ ان کو دیگر عالمی ایوارڈ بھی دئیے گئے۔ نیلسن منڈیلا کی خود نوشت سوانح عمری "Long Walk to Freedon" دنیا بھر میں مقبول ہوئی۔ نیلسن منڈیلا نے ثابت کیا کہ جو لوگ انسانیت کی خدمت کرتے ہیں اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں اور اپنی زندگی مقدس مشن کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ وہ دنیا کو متاثر کرتے ہیں اور تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ پاکستان جن بحرانوں سے دوچار ہے ان سے نجات کے لیے ایک نیلسن منڈیلا کی ضرورت ہے۔ سرورکائنات محسن انسانیتﷺ نے اخلاقیات کا بہترین نمونہ پیش کیا انہوں نے امن، رواداری، برداشت اور اخوت کا درس دیا۔ افسوس مسلمان اس لافانی پیغام کو بھول گئے جبکہ غیر مسلم اس پر عمل کرکے ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔