لاپتہ جمہوریت

09 دسمبر 2013

سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت اور عدالتی احکامات نے بڑے بڑے اداروں‘ اعلٰی عہدیداروں اور سب سے بڑھ کر آئین اور قانون کی بالادستی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے فوج‘ عدلیہ اور حکومت سب کو اپنی اپنی اوقات اور استطاعت کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے جس کا اظہار عام نہیں کیا جا سکتا‘ عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور فریقین کا موقف چیف جسٹس کی تاریخ ریٹائرمنٹ (11دسمبر 2013) کے مطابق سے طے ہورہا ہے۔یوں لگتا ہے کہ ایک فٹ بال گرا¶نڈ میں تین ٹیمیں کھیل رہی ہیں اور جس کے پاس گیند پہنچتی ہے وہ اسے نزدیک ترین گول میں پھینکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سپریم کورٹ وزیر دفاع کو احکامات جاری کرتی ہے جس پر عملدرآمد فوج کے طاقت ور ادارے نے کرنا ہے ایسا نہیں ہے کہ عدالت یا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو سویلین حکومت کی روایتی بے بسی کا ادراک نہیں‘ معزز جج صاحبان کو اندازہ ضرور ہے مگر عدالتوں نے خود بھی تو ایک فوجی آمر کی وفاداری کا طوق گلے سے اتار پھینکا ہے اور وہ ایک منتخب سیاسی حکومت سے بھی ایسا کرنے کی جائز توقع رکھتی ہیں ”شیر“ مارکہ منتخب حکومت سے ”شیر بن شیر“ کا مطالبہ کرنا غیر متوقع نہیں مگر جج صاحبان کیا جانیں کہ چڑیا گھروں کے شیر جنگل کے ہاتھیوں کا مقابلہ کیونکر کر سکتے ہیں وزیر دفاع خواجہ آصف کی کیا مجال کہ وہ لاپتہ افراد سے متعلق معاملے پر ایک ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرح فوج کے م¶قف کو نہ دوہرائیں‘ نہ جانے کیوں سپریم کورٹ نے یہ سوچ لیا کہ آمرانہ دور کے ججوں کی طرح سیاست دانوں میں بھی آئین اور قانون کی غیرت جاگ اٹھی ہے ماضی کے آمرانہ دور کی عدالت کیسے یہ سوچ سکتی ہے کہ پاکستان کا وزیر دفاع یا وفاقی سیکرٹری دفاع بھارتی یا امریکی نظام کی طرح افواج کے سربراہان کی جواب طلبی کر سکتا ہے اور لاپتہ افراد سے متعلق حکومتی ادارہ ایف آئی اے فوج اور آئی ایس آئی کے خفیہ دفاتر میں چھاپے مار کر ان افراد کی برآمدگی کی کوشش بھی کر سکتاہے کیا معزز جج صاحبان اخبارات نہیں پڑھتے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ جنرل مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی ابتدائی انکوائری میں فوج نے تعاون سے اجتناب کیا ہے؟ کیاآئی جی ایف سی میجر جنرل اعجاز شاہد کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش نہ ہونے کا مطلب سمجھنا بہت مشکل ہے؟ اور کیا وزارت داخلہ یا وزارت دفاع کی اس میجر جنرل کی بظاہر عدالتی حکم عدولی پر خاموشی اور بے عملی حکومتی اور ریاستی عملداری کا ”عمدہ نمونہ“ نہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا لاپتہ افراد کا معاملہ 2005 ءسے سپریم کورٹ کے سامنے زیر سماعت نہیں جس دوران سینکڑوں مزید افراد دن دیہاڑے اغواءہوئے اور چند کی لاشیں سڑکوں پر ملی؟ کیا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے اپنی ریٹائرمنٹ سے صرف چند روز پہلے قانون شکن قوتوں پر تیر اندازی کرنا مناسب ہے جبکہ وہ خود ان قوتوں کے ردعمل کی صورت میں آ ئینی محافظوں کے قافلے کو بھی چھوڑ چکے ہونگے؟ آخر یہ تیر اندازی گزشتہ آٹھ سال کے دوران لاپتہ افراد کے کیس میں کیوں نہ کی گئی؟ کیا اڈیالہ جیل کے باہر سے رہائی کے دوران قیدیوں کے اغواءکے بعد پیش کردہ الف لیلیٰ کی کہانی کو سپریم کورٹ کی طرف سے تسلیم کرنا اور پھر چار قیدیوںکی زیر حراست موت ہمیں بھول چکی ہے؟ آخر وہ کونسا ضمیر کا بوجھ ہے جو لاپتہ افراد کے کیس میں سر پر آن پڑا ہے اور اس کو اتار پھینکنے کے لئے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے؟ اگر آج وزیر دفاع کی بظاہر عدم تعاون پر کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت کو بلانے کی وارننگ دی جاسکتی ہے تو اس سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا گیا؟ اور آخر فوج کے خفیہ اداروں یا خود فوج کے سربراہان کیوں نہیں لاپتہ افراد کے کیس میں طلب ہو سکتے؟ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس اور پھر میمو کیس میں تو فوج کے خفیہ اداروں کے سربراہان نے باقاعدہ حلف نامے بھی جمع کرائے تھے۔ تو پھر ایک بیچارے وزیر دفاع پر یا وزیراعظم پر ہی اتنا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ دوسرے از خود نوٹس کے مقدمات میں تو محکموں کے سربراہان کو وزیرں اور سیکرٹری صاحبان کی موجودگی میں بھی طلب کیا جاتا تھا۔ بہرحال اس معاملے میں حکومت اورفوج کے درمیان طاقت کے توازن کی صورت حال لاپتہ افراد کے کیس سے عیاں ہوگئی ہے۔ نیب تو پہلے ہی ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں کے خلاف تحقیقات میں بے بس نظر آتا تھا اور ایف آئی اے کی یتیمانہ سوچ مشرف غداری انکوائری میں سامنے تھی۔ موجودہ حکومت کا ایبٹ آباد کمیشن کے انڈوں پر ایک کڑک مرغی (جو مرغی انڈے دینابند کر دے) کی طرح بیٹھ جانا بھی سویلین حکومت کی ”بالادستی“ کی منہ بولتی تصویر ہے۔
مگر داد دینی پڑتی ہے‘ عدالتی کارروائیوں کی بھی کہ جسکے دوران بڑے بڑے جری بہادر لوگ ناسازی طبیعت کے باعث ہسپتالوں میں زیر علاج ہو گئے۔ آخر نوکری کسے پیاری نہیں ہوتی‘ چاہے وہ جج ہو یا جرنیل‘ وزیر دفاع یا وزیراعظم‘ یا پھر کوئی ہم جیسا صحافی‘ پہلے کسی زمانے میں گرفتاری اور جیل سے بچنے کے لئے سیاستدانوں کو جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ اور عارضہ قلب کی تشخیص کرواتے دیکھتے تھے مگر آج کل تو دل کے مریض جنگجو محکموں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ کاش ان ”نرم دل“ انسانوں کو ان لاپتہ افراد اور ان کے لاوارث اہل خانہ کے دلوں کا حال بھی معلوم ہو جائے۔ جرم تو سب سے ہوتے ہیں مگر کیا غیر اعلانیہ جنگ کے علاقوں میں عدالتوں کو دوکانوں کی مانند بند کر دیا جائے۔
کاش! کوئی دل کا ڈاکٹران اعلیٰ افسروں کے سینے میں کوئی ایسا دل رکھ سکے کہ جو قانون کے خوف سے بیمار پڑنے کی بجائے انسانیت کی محبت میں زندگی گزار دے۔ یوں تو لاپتہ افراد سینکڑوں کی تعداد میں ہوں گے مگر صرف ایک لاپتہ شخص مل جائے تو معاملات سدھر سکتے ہیں۔ عدالتوں کو بھی اس لاپتہ شخص کی تلاش پہلے کرنی چاہئے۔ وہ لاپتہ شخص کوئی اور نہیں‘اس کا نام ہے ”جمہوریت“