راجہ گیلانی اور میٹرو کہانی

09 دسمبر 2013

یہ سب کچھ کہنا اتنا بھی آسان نہیں لیکن کبھی کبھی کچھ باتیں قلم کے گلے میں اس طرح اٹک جاتی ہیں کہ جب تک انہیں نکالا نہ جائے زبان بندی کا سا سماں رہتا ہے۔ گویا قلم سے گلے میں اٹکی ہوئی بات قلمکار کے گلے میں پھنسے ہوئے لقمے کے اثرات رکھتی ہے۔ پھر ہوتا کیا ہے کہ ”جان کی امان کی درخواست کے ساتھ گلے میں اٹکی چیز باہر اور --- باتیں زبان پر!“
آج کے کالم کا اہم اور نقطہ ”بہرحال یہ ہے کہ سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نے اپنے اپنے شہروں ملتان اور گوجر خان (تحصیل) میں میٹرو بسیں کیوں نہیں چلائیں؟ انہیں ”میٹرو“ نہ چلانے کی مزید سزائیں کیوں نہ دی جائیں؟ وہ وزیراعظم ہی کیا جو سزا نہ پائے۔ کسی کو شہادت کی سزا اور کسی کو جلاوطنی کی، کسی کو پھانسی کی اور کسی کو گولی کی۔ نہ، نہ نہ! کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز مشرف کا لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو یا میاں نواز شریف سے موازنہ کرنے جا رہا ہوں۔ میں تو بس اتنا ہی عرض کر رہا ہوں کہ وزیراعظم بننا ہے تو سزا تو ملے گی۔ البتہ وزیر اعلیٰ بننے میں مزے ہیں بے شک یہ کوئی میاں شہباز شریف سے پوچھ لے یا قائم علی شاہ سے (پرویز خٹک سے بھی پوچھ لیجئے وہ خیبر پی کے میں بیٹھ کر وفاقی اور آفاقی اختیارات سے نیٹو سپلائی روکنے کا دم خم رکھتے ہیں) ۔ اگر کبھی کسی نے غور کیا ہو تو بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف اپنے تئیں ایک دوسرے کو محفوظ راستہ دیتے تھے، یوں کہہ لیجئے کہ حالات و واقعات سے سبق سیکھنے کے بعد ایک دوسرے کی جان بچا جاتے تھے لیکن یہ درجہ دوم قیادت (2 نمبر نہیں کہا) شرجیل میمن، رانا ثناءاللہ، رضا عابدی، عابد شیر علی، عظمیٰ بخاری حتیٰ کہ اعجازالحق اور شیخ رشید احمد جیسے لوگوں نے کبھی وزیراعظم تو بننا نہیں ہوتا لہٰذا یہ سیاسی جینے مرنے کو بھی حقیقی جینے مرنے تک لے جاتے ہیں --- ”پکڑ لو اوئے‘ مار دو اوئے“ بس یہی سیاسی غل غپاڑہ ان کی زندگی ہے۔ ان کی چھٹی حس تو عام طور پر سرہانے کے بازو رکھ کر سوئی ہوتی ہے مگر ”ساتویں حس“ جسے یار لوگ حرص و ہوس کی حس گردانتے ہیں وہ مچلتی رہتی ہے کہ یہ مر جائے، وہ مر جائے بلکہ سب مر جائیں اور شاید ہماری باری آ جائے۔ بابوں میں ماضی کے شہرہ¿ آفاق سیاستدان اصغر خان اور آج کے بابائے شور و غل مشاہد اللہ بھی کچھ ایسی ہی نازو ادا کے مالک ہیں۔ اگر کبھی اِدھر کے کبھی اُدھر کے طارق عظیم کو بھی شامل کر لیا جائے، تو یہ شاہ سے بھی زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں، ان میں سے اکثریت کے حوالے سے غالب کا سدا بہار یہ شعر بہت صادق ہے
ہُوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
بات راجہ صاحب، گیلانی صاحب اور میٹرو بس سے دور نکل گئی لیکن پہلے جانے والے آرمی چیف کیانی صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے چند جملے :
-1 اللہ تعالیٰ کیانی صاحب کو خوش و خرم رکھے اور سول زندگی میں بھی بہاریں دکھائے۔ -2 انہیں میاں نواز شریف کا بالخصوص اور چوہدری شجاعت حسین کا بالعموم شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ، انہوں نے سابق آرمی چیف کو امتحان میں نہیں ڈالا اور وہ جمہوری امتحان دئیے بغیر فرسٹ کلاس میں پاس ہو گئے۔ شکریہ تو کیانی صاحب کو پی پی پی کا بھی ادا کرنا چاہئے کہ کل کی پی پی پی میں سے پرسوں کی پی پی پی کے غلام مصطفی جتوئی، غلام مصطفیٰ کھر، ممتاز بھٹو وغیرہ بھی نہیں نکلے جو کیانی صاحب کو امتحان گاہ میں لاتے کہ مارشل لاءہی میں ملک کا بچاﺅ ہے۔ پھر عدالت بھی تو اس کی ”اتحادی“ ہونے کیلئے تیار نہ تھی۔ -3 مبارک ہو کیانی صاحب! کسی جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں نے بھی آپ کو دعوتِ مارشل لاءنہیں دی اور آپ پاک صاف اور اعلیٰ و ارفع ٹھہرے۔ -4 بات سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کہ پیارے جمہوریت پسند سیاستدان ہی ایوبی، ضیائی اور پرویزی آمریتیوں کو بہلا پھسلا کر تخت و تاج کا وارث بنا تے ہیں اور خود شریک اقتدار کے شرک کے ساتھ ہنی مون مناتے ہیں۔ پھر اپنے سابق آقا کو چھوڑ کر بڑے آرام سے جمہوریت کی نرگسیت پسندی کا دامن تھام لیں گے۔ کتنے ہی رائے نذیر، چودھری برادران، شیخ وقاص اکرم، سمیرا ملک اور دانیال عزیزوں سے ”جمہوری تاریخ“ بھری پڑی ہے۔ -5 اللہ کرے کہ نئے آرمی بھی دعوت گناہ دینے والے سیاستدانوں سے ہمیشہ محفوظ رہیں اور اپنے وقت پر سرخرو لوٹیں کیونکہ جمہوریت اور وزرائے اعظم کے حاسد خود کو فرشتے سمجھ کر بوٹ پالش کرنے جرنیلوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔ جی! بات یہ ہے کہ راجہ صاحب اور گیلانی صاحب کو ان کے سیاسی دشمنوں نے نیست و نابود بہرحال نہیں کیا۔ ان کے حاسدوں اور ان کے رشتہ داروں اور عزیزوں نے انہیں مارا ہے۔ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہونے کا حکم تو ہے لیکن پورے کے پورے قبیلے کا حکومت میں داخل ہونے کا حکم کہیں نہیں ملتا۔ آجکل راجہ پرویز اشرف کو اس سزا کا سامنا ہے جو فعل انہوں نے گوجر خان کے ترقیاتی کاموں کیلئے کیا۔ وہ وزیراعظم تھے لیکن بُرے پھنسے حالانکہ اتنے روپے تو ”بڑے وزیراعظم“ اپنے اور اپنے ترقیاتی کاموں کی تشہیر پر لگا دیتے ہیں۔ اگر راجہ صاحب کا گرد و نواح واقعی سیانا ہوتا تو انہیں بھی گوجر خان میں میٹرو بس چلانے کی ضرور سوجھتی۔ مجھے معلوم ہے کہ گوجر خان میں میٹرو کی ضرورت نہیں لیکن ترقی کا دوسرا نام اب میٹرو ہے۔ راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کے بڑے قصور یہ بھی تھے کہ وہ وزیراعظم کیوں بنے! ان دونوں کے اپنے اور بیگانے پریشان تھے کہ وزیراعظم بننے کا حق صرف اور صرف بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کا ہے، اِن کا نہیں۔ گوجر خان کے مخصوص لوگوں کو راجہ پرویز اشرف سے نہیں وزیراعظم پرویز اشرف سے دشمنی تھی۔ راجہ نے بس چلائی نہ اب ان کے کچھ بس ہی میں ہے لہٰذا بھگتیں ۔ بہرحال دوسری جانب ملتان والوں کو وزیراعظم نہ سہی چھوٹے موٹے وزیر ضرور مل گئے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی بھی یقیناً سزا کے مستحق تھے اور انہیں درست سزاﺅں کا سامنا ہے۔ انہوں نے بھی میٹرو نہیں چلائی ۔ جو میٹرو چلاتا ہے سکہ اُسی کا چلتا ہے۔ گیلانی صاحب آپ کو چاہئے تھا ملتان کے رش میں سے میٹرو نکالتے لیکن آپ نے پُل بنا بنا کر رش ہی نکال دیا۔ ملتان کو ”پُل تان“ بنانے سے کیا ملا؟ تُرکی سے میٹرو منگواتے وہیں سے صفائی والی فلاسفی پھر ملتان والے لوگ آپ کو مانتے بھی۔ سنئیں! لوگ مانتے نہیں شرفاءکی طرح منوانا پڑتا ہے --- ”اب“ عدالت نے قرار دے دیا کہ کوئی وزیراعظم ہو یا وزیر اعلیٰ وہ طے شدہ طریقہ سے ہٹ کر صوابدیدی اختیار استعمال نہیں کر سکتے۔ اللہ کرے حکومتیں عدلیہ کی مانیں اور پی پی پی کے وزرائے اعظم نہیں سبھی سیاستدانوں سے صوابدید کا حساب کتاب ہو۔ قارئین کرام سے درخواست ہے کہ ہمارے لئے دعا کریں کہ ہمیں ”صوابدید“ کی سمجھ آ جائے۔ جس ملک میں یک جنبشِ قلم آٹھویں ترمیم آ جائے، اور مشکل سے بنائی گئی 18ویں ترمیم کو بنانے والوں کو سمجھ نہ آئے تو پھر اللہ اللہ ہی! بہرحال گیلانی صاحب اور راجہ صاحب میٹرو پر بیٹھ کر ایک دفعہ صوابدید کا سوچتے تو!