ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

09 دسمبر 2013

مکرمی! آج کل ہر بندہ بچوں کی شکایات کرتا نظر آتا ہے۔ ٹیچرز ہیں تو بچوں کو دیکھ کے شیطان کی پناہ مانگتے ہیں اور والدین تو بچوں سے نالاں ہیں۔ لیکن کوئی اس بات کی تہہ تک نہیں پہنچتا کہ بچے بداخلاقی اور بدتمیزی کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں۔ سب ڈش کیبل اور موبائل کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اپنی غلطیوں کو صرف نظر کر دیتے ہیں۔ ماں کی گود بچے کی اولین درسگاہ ہے اور باپ سائبان ہوتا ہے دونوں ایک چھت اور چاردیواری کی طرح بچے کے لئے ایک مضبوط قلعہ ہوتے ہیں۔ بغیر چھت کے چار دیواری کی اہمیت نہیں اور بغیر چار دیواری کے چھت نہیں بنتی۔ اگر ماں اپنا کردار درست طریقے سے ادا کرے تو بچے نہیں بگڑتے لیکن آج کل مائیں مہنگائی سے حالات سے تنگ ہوتی ہں اور سارا غصہ بچوں پر نکالتی ہیں۔ باپ ہے تو دفتر اور باس کی ساری فرسٹریشن بیوی کی بجائے بچے پر نکالتا ہے۔ ٹیچرز سر کی ڈانٹ اور کم پے کا سارا غصہ بچے پر نکالتی ہیں اور اس طرح معصوم پھولوں کو وہ ماحول نہیں ملتا جس کے وہ حقدار ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ پناہ ایسی چیزوں میں ڈھونڈتے ہیں جو ان کے لئے نقصان دہ ہیں اور انہیں وقت سے پہلے بالغ کر رہی ہیں۔ ماں آج بھی اپنے بچے کو وہ تعلیم دے سکتی ہے جو اسے اچھا مسلمان بنا سکتی ہے۔ آج بھی ام عمارہ جیسی ماں ہو تو قوم سنور سکتی ہے جیسے نپولین نے کہا تھا تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔ (ریحانہ سعیدہ گڑھی شاہور لاہور)