”رات کے 2 بجے تنخواہ کے بقایا جات کی ادائیگی“

09 دسمبر 2013

ان دنوں ہمارے خبر اخبار کے مطلع پر طارق ملک چھائے ہوئے ہیں۔ نادرا کے یہ چیئرمین پاکستان کے نامور ماہر تعلیم، دانشور اور ادیب پروفیسر فتح محمد ملک کے بیٹے ہیں۔ پروفیسر فتح محمد ملک ان دنوں روزنامہ ”نوائے وقت“ میں کالم بھی لکھتے ہیں۔ اسباب وہی صاحبِ اسباب پیدا کرتا ہے کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالہ کی حنا بندی۔ ان دنوں پروفیسر فتح محمد ملک جرمن کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں اقبال چیئر پر رونق افروز تھے، پھر ان کے بیٹے طارق ملک کو بھی وہیں تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔ یاد رہے علامہ اقبالؒ نے اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری یہیں سے حاصل کی تھی۔ طارق ملک پھر امریکہ میں ہاورڈ یونیورسٹی چلے گئے اور وہاں سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ آج دنیا کی رگِ جاں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پنجہ میں ہے۔ طارق ملک بھی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتے تھے اور دو کروڑ پاکستانی روپوں کے قریب سالانہ مشاہرہ پاتے تھے۔ یہ کینیڈا کے شہری تھے اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے تھے لیکن بُرا ہُوا اپنے وطن سے محبت کا یہ پھانس دل سے نکلتی ہی نہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خاں بھی اسی مرض کے ہاتھوں مجبور پاکستان چلے آئے تھے۔ ان کے پاﺅں میں پڑی ”جرمن بیڑی“ بھی ان کا راہ نہ روک سکی۔ پھر ان کی جرمن نژاد بیوی بھی ان کے ساتھ ہی پاکستان کو اپنا وطن مان کر بیٹھی ہوئی ہیں۔ تارکین وطن بیچارے تمام دنیاوی آسائشوں کے باوجود ایک کرب سے چھٹکارا نہیں پا سکتے اور یہ ہے اپنی مٹی سے جدائی کا کرب۔ پھر شوکت فہمی کے سے کہے ہوئے ایسے شعر کو کہنے کیلئے اپنی سرزمین سے ایک عمر کی جدائی ضروری ہے ....
بس یہ نہیں کہ عرش بریں کے نہیں رہے
ٹوٹے ہوئے ستارے کہیں کے نہیں رہے
2008ءکے وسط میں نادرا نے اپنی ڈیٹا مینجمنٹ کو بہتر بنانے کیلئے جنرل منیجر نیٹ ورکس کے عہدے کیلئے درخواستیں مانگیں۔ یہ اطلاع کسی ذریعے سے طارق ملک تک بھی پہنچی تو اس کی وطن اور والدین سے محبت عود کر آئی۔ اس نے بھی اس پوسٹ کیلئے اپلائی کر دیا۔ امیدواروں کے انٹرویوز ہوئے، چھان بین کی گئی، سوچ بچار کے بعد طارق ملک کو منتخب کر لیا گیا۔ طارق ملک کو جو تنخواہ یہاں آفر کی گئی وہ اس تنخواہ سے کم تھی جو وہ امریکہ چھوڑ کر آیا تھا لیکن اس زیاں کا فیصلہ اس نے خود کیا تھا ۔
دریارِ غیر میں وصال کے ایک اور معنی آشکار ہوتے ہیں۔ یہ کسی بندے کا اپنے وطن کی خوشبو دار مٹی کے لمس کا وصال ہے۔ طارق ملک نے پاکستان میں اپنے دفتر میں کام شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ نادرا کے تمام ٹیکنیکل عہدے طارق ملک کے ہی سپرد کر دئیے گئے۔ انہوں نے نادرا میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی۔ انہیں ان کی کارکردگی کی بنا پر ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر ترقی مل گئی۔ 2012ءمیں چیئرمین نادرا، علی ارشد حکیم کو ایس بی آر بھیجا گیا تو طارق ملک کو چیئرمین نادرا مقرر کر دیا گیا۔ چیئرمین بننے کے بعد انہوں نے ڈیٹا ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارت پر پاکستان کی برتری ثابت کر دیا۔ سری لنکا میں شناختی کارڈ کے نظام میں جدید اصلاحات متعارف کروانے کا کنٹریکٹ بھارت کی بجائے پاکستان نے حاصل کیا۔ یہ طارق ملک کی سربراہی میں نادرا کی بہت بڑی کامیابی تھی لیکن ”اے روشنی طبع تو من بلا شُدی‘ --- پھر تو ان بلاو¿ں کا نزول ہی شروع ہو گیا جب طارق ملک نے 2013ءکے الیکشن اور اس کے بعد ضمنی انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کے پول کھول دئیے۔ انہوں نے پیشکش کر دی تھی کہ وہ بیلٹ پیپر پر انگوٹھے کے نشانات سے ووٹر کی اصلی یا جعلی ہونے کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ اب ہم چوہدری نثار وزیر داخلہ کی طرف چلتے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ عام انتخابات میں مقناطیسی سیاہی استعمال ہی نہیں ہوئی۔ بیشک انگوٹھوں کے نشانات چیک کروا لیں، ہر حلقہ کے ساٹھ ستر ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو گی۔ چلو ووٹروں کے انگوٹھوں کے نشانات کی چیکنگ کا کام تمام ہُوا۔ اسی سانس میں ایک دوسری بات بھی وہ فرما رہے ہیں کہ چیئرمین نادرا کی برطرف کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس سلسلہ میں عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عملدرآمد کیا جائے گا اور ہاں نادرا ایکٹ کی خلاف ورزی کر کے سابق دور میں جنرل منیجر کے عہدے پر تعینات شخص طارق ملک کو پہلے ڈپٹی چیئرمین اور پھر چیئرمین لگا دیا گیا، ہم یہ ساری تفصیلات عدالت میں پیش کریں گے۔ خیر عدالتوں میں ججوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ذہین لوگ وہ کچھ بھی بھانپ لیتے ہیں جو فریقین چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر کچھ سوالات ہیں۔ سوالات کچھ ایسے ڈھیٹ ہوتے ہیں کہ جوابات لئے بغیر ٹلتے ہی نہیں۔ ہونقوں کی طرح آپ کا منہ تکتے رہتے ہیں۔ جب کراچی میں ایک دو حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات چیک ہوئے تو حیرت انگیز نتائج سامنے آئے، 83 ہزار ووٹوں میں سے صرف 7 ہزار ووٹ درست، باقی تمام جعلی اور غیر تصدیق شدہ۔ پھر دس دس، بارہ بارہ بیلٹ پیپرز پر ایک ہی نشانِ انگوٹھا۔ لیکن اس وقت وزیر داخلہ خاموش رہے، ان کا مقناطیسی سیاہی کی طرف بالکل دھیان نہیں گیا، اب معاملہ پنجاب میں آیا ہے تو رات کے دو بجے طارق ملک کے گھر برطرفی کا پروانہ بھیجنے، تنخواہ کے بقایا جات کی ادائیگی اور مقناطیسی سیاہی کے ذکر اذکار شروع ہو گئے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ انگوٹھوں کے ناشنات کا طوفانِ بلا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ”نومولود“ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے گھروں تک پہنچنے والا ہے اور اسی لئے آپ کو رات گئے دفتر کھولنا پڑا ہے۔
پس تحریر : محترمہ مِس شاہین رضا صاحبہ ایک انتہائی باعزت گھرانے سے تعلق رکھنے والی شریف النفس خاتون ہیں۔ محترمہ میری سکول فیلو رہی ہیں، میرے کالم میں ان کا ذکر آ گیا۔ اگر انہیں میری بے تکلفی سے تکلیف پہنچی ہو تو میں ان سے اس سلسلہ میں معذرت خواہ ہوں۔ خدا شاہد ہے کہ مجھے ان کی تحقیر ہرگز مقصود نہیں تھی۔