ایران جوہری معاہدہ کے پاکستان پر اثرات

09 دسمبر 2013

ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف امریکی حکومت کے لب و لہجے میں تلخی بڑھنے لگی اس طرز عمل پر روس اور چین نے ایران کے خلاف جارحیت سے باز رکھنے کےلئے رد عمل کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے چھ موثر طاقت ور ممالک نے مشترکہ طور پر ایران سے مذاکرات کے ذریعے معاملے کو حل کرنے پر زور دیا لہذا بلاتاخیر امریکہ روس ، چین، برطانیہ ، فرانس اور جرمن سے جنیوا میں چارروز تک جاری مذاکرات نتیجہ خیز ہوئے جس کے مطابق ایران آئندہ چھ ماہ کے دوران جوہری سرگرمیاں محدود کر دے گا ۔ یورنیم کی پانچ فیصد سے زیادہ افزدگی نہیں کرے گا ۔ بیس فیصد افزدگی والے ذخائر کو تلف او رناکارہ بنائے گا ۔ عالمی ادارے کو تنصیبات تک رسائی دی جائے گی جس کے بدلے پابندیاں نرم کرتے ہوئے ابتدائی طور پر ایرانی معیشت کی بحالی کےلئے سات ارب ڈالر دیے جائیں گے اور کوئی نئی پابندی عائد نہیں ہوگی ۔آئندہ چھ ماہ ایران کے مثبت رویے پر تمام پابندیاں واہگزار ہو سکتی ہیں ۔ اسرائیلی وزیرخارجہ کے مطابق پابندیوں سے ایران کو سو ملین ڈالر زسالانہ کا نقصان تھا جو گھٹ کر اب اسی بلین ڈالر رہ گیا ۔مذکورہ پابندیوں نے ایک طرف ایرانی معیشت اور لوگوں کا معیار زندگی بری طرح متاثر کیا۔ دوسری جانب ایرانی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا اب اس کے ازالے کے طور پر پہلی قسط سات ارب ڈالر معیشت کو تقویت دے گی دوسری جانب تیل اور گیس کے نئے سودے ہونے سے ایران ایک بار پھر دنیا میں اپنا مقام بنانے کے قابل ہو جائے گا۔ ایران کا تیل مارکیٹ میں آنے سے تیل کی عالمی منڈی کے نرخوں میں بھی خاطر خواہ فرق پڑےگا خاص طور پر پاک ایران گیس منصوبے تکمیل پذیر ہوگا جس سے ہمیں توانائی کے بحرانوں سے نکلنے میں مدد ملے گی ۔امریکہ ایران مذاکرات کو بیک ڈور ڈپلومیسی کا شاخسانہ بتایا گیا سینئر امریکی ڈپلومیٹ کے مطابق جون میں جب مملکت ایران کے نئے صدر حسن روحانی منتخب ہوئے اسکے بعد امریکی عہدیداران اور انکے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئیں ۔ امریکہ نے ان مذاکرات کو اپنے قریبی دوستوں سے بھی مخفی رکھا حد تو یہ ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کو بھی دور رکھا گیا تاکہ مذاکرات نتیجہ خیز ہو سکیں ۔پاکستان سمیت دنیا کے دوسرے ممالک نے فیصلے کا خیر مقدم کیا مگر اسرائیل نے معاہدہ کو عالمی ادارے کی تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے ایران کی فتح کہا ۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اس فیصلے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ۔اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے بھی مذکورہ معاہدے پر خفگی کا تاثر دیا گیا ۔چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے مسقط میں میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ سعودی عرب خطے کا ایک بااثر ملک ہے لہٰذا علاقے میں امن و استحکام کےلئے ریاض حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں ۔ اس کےلئے جلد سعودیہ کا دورہ کرنا چاہتا ہوں ۔ اس معاہدے سے متعلق پاکستان میں دو رائے پائی جاتی ہیں ۔ایک طبقے کا خیال ہے کہ ترکمانستان ، افغانستان ، پاکستان اور بھارت گیس بھارت منصوبہ 2017ءمیں شروع ہوگاجبکہ پاک ایران گیس منصوبہ تکنیکی اور مالی اعتبار سے زیادہ قابل عمل ہے کیونکہ پاکستان میں توانائی کے شدید بحران کا فوری حل پاک ایران منصوبہ میں پنہاں ہے ۔ یہ منصوبہ 1931کلومیٹر طویل ہے جس میں سے 1150کلومیٹر ایران اور 900کلومیٹر پاکستان میں آتا ہے ۔ ایران کی جانب سے پائپ بچھانے کا عمل تکمیل کے مراحل میں ہے جبکہ پاکستان کی طرف سے آغاز ہی نہ ہو سکا ۔ معاہدے کے مطابق منصوبہ 31دسمبر 2014ءمیں مکمل ہونا ہے ۔ نقشے کے مطابق ایران جنوب میں فارس گیس فیلڈ کو بلوچستان پھر پنجاب میں ملتان سے ملانا ہے جس سے پاکستان کو سات سو پچاس ملین کیوبک فٹ گیس یومیہ ایران سے حاصل ہوگی اور ہم کو توانائی کے مشکل مرحلے میں سکھ کا سانس نصیب ہوگا ۔ ہم نے ہائیڈرل منصوبوں کو پس پشت ڈال کر فرنس آئل سے بجلی سے حاصل کی جو کہ سب سے مہنگا بجلی بنانے کا ذریعہ ہے ۔ امریکہ نے بھارت کو جوہری ٹیکنالوجی پہنچائی مگر پاکستان کو فرنس آئل سے آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ فرنس آئل سے بجلی گھر چلا کر نہ صرف کثیر زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ بجلی بھی مہنگی بنتی ہے ۔ ایران گیس پائپ لائن ایک جانب 2.5بلین سالانہ زرمبادلہ کی بچت ہوگی دوسری طرف سستی بجلی ملنے سے پاکستان کی زراعت صنعت پھل پھول سکے گی ۔تجارت و حرفت میں اضافہ ہوگا ۔ روزگار کے وسیع مواقع میسر آسکیں گے ۔ملت اسلامیہ کا ایک حصہ اس معاہدے کو ایرانی حکومت کی اپنے موقف سے دستبرداری قرار دینے کےساتھ مسلم امہ کی مزید پسپائی قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جو قوتیں پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا غوغہ کرتی دکھائی دیتی ہیں اب وہ ایران کو مثال بنا کر پاکستان کے ساتھ بھی وہی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرینگے تاکہ کوئی مسلم ملک جوہری قوت کی حیثیت سے دنیا میں نا پنپ سکے اب ملت پاکستانیہ پر لازم ہوگیا ہے کہ ملک خداداد کے دفاع ، مسلم امہ کی جوہری قوت کے تحفظ کےلئے فولادی ارادوں اور ایمانی ولولوں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہوجائیں ۔ قومی اتفاق کے بعد ملی اتحاد کےلئے ایران افغانستان اور ترکی سے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے بھائی بھائی بن جائیں جیسے ہجرت مدینہ کے موقع پر اخوت کا نظارہ دیکھا گیا تھا ورنہ ؟؟؟؟