چوتھی جنگ کا منتظر ’’انڈیا‘‘

09 دسمبر 2013

’’سرتاج عزیز‘‘ کا سیاچن سے بھارتی فوج جلد  واپس بلانے کا مطالبہ ۔۔’’سیاچن گلیشیر ‘‘پر افواج کی موجودگی سے پاکستانی ماحولیات کو سنگین خطرہ لاحق ہو گیا کیونکہ قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے تیزی سے پگھلنے کے باعث پاکستان کو (جو کہ پہلے ہی آبی قلت اور انرجی کی کمیابی کا شکار ہے) پانی کی شدید قلت کا خطرہ ہے۔۔انڈیا نے سیاچن گلیشئیر پر اسلام آباد  ائیر پورٹ سے بڑا ائر بیس اور چھائونی بنا دی ہے۔ سیاچن پاکستان کے لئے زندگی کی علامت ہے مگر انڈین وہاں بھی جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے انڈیا نے ایک ہزار مقامات  پرڈرلنگ کر کے پورے گلیشیئرکو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہزاروں بھارتی فوجی وہاں پر تعفن توپھیلا  ہی رہے ہیں مگر لاکھوں لیٹر ایندھن کا استعمال اور جلنا ماحولیاتی  جارحیت کے ایک نہایت بری اور قابل افسوس مثال ہے اس کے نیتجہ میں پاکستان کے قابل استعمال پانی کے ذخائر ناصرف آلودہ ہو رہے ہیں بلکہ آنے والے سالوں میں پاکستان کو پانی کی شدید کمی کے ساتھ سیلاب جیسی آفت کا بھی سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
’’مشیر خارجہ‘‘ کی مثبت نتائج کی توقع اس وقت ’’ماحولیاتی آلودگی‘‘ میں ڈوب گئی جب ’’بھارتی آرمی چیف‘‘ نے خواہش ظاہر کی کہ  بھارت منتظر  ہے کہ پاکستان ’’کشمیر‘‘ پر چوتھی جنگ کے لیے پہل کرے۔اس کے نتیجہ میں بھارت اس کا وہ حشر کرے گا کہ پاکستان کا نام خطے سے مٹ جائے گا۔۔ مزید کہا کہ بھارت کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ حملہ آور ملک کو ایک ہی دن میں اس حالت میں پہنچا دے گا کہ وہ دوبارہ سنبھل نہیں سکے گا۔۔ یہ انٹرویو ایک دن پہلے وزیر اعظم نواز شریف کے اُس بیان کے بعد سامنے آیا کہ ’’کنٹرول لائن‘‘ پر صورتحال بہتر ہو گئی ہے۔جبکہ ’’بھارتی میڈیا‘‘ کی شرارت عروج پر ہے۔۔’’مسئلہ کشمیر‘‘ پر جنگ چھڑنے کے ’’نواز شریف‘‘ کے بیان کی سرکاری تردید کے باوجود بھارتی وزیر اعظم نے دہلی میں ایک تقریب کے دوران ’’میڈیا‘‘ سے بات کرتے ہوئے بیان داغ دیا کہ ’’پاکستان‘‘ میری زندگی میں ’’بھارت‘‘ سے کوئی جنگ نہیں جیت سکتا جبکہ ’’سلمان خورشید‘‘ نے مقبوضہ کشمیر کو انڈیا کے لیے ایک پھول قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ پھول کو مسلنے والا کوئی بھی اقدام نا قابل برداشت ہے۔۔
ایسا فرماتے ہوئے وہ بھول گئے کہ یہ پھول ’’شاطر بنیئے‘‘ نے ہماری پگڑی سے چُرایا ہے اور چُرائی ہوئی چیز زیادہ دیر روکنا ’’چور‘‘ کے بس میں نہیں ہوتا ۔مزید براں  دُنیا دیکھ رہی ہے کہ ’’انڈیا‘‘ کا ’’مقبوضہ پھول‘‘ مر جھا رہاہے۔ اسلئے ’’چور ‘‘ کو چاہیے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ دے۔۔ مگر یہاں تو اور بھی بہت  سے ہٹ دھرم ’’تماشا برانڈ‘‘ لوگ ہیں۔۔ ’’فاروق عبداﷲ‘‘ نے دُرفنطی چھوڑ ی ہے کہ خون سے یہ لکھنے کو تیار ہوں کہ پاکستان کبھی بھی کشمیر حاصل نہیں کر سکتا۔۔ کتنا اچھا ہو کہ وہ اپنے جسم کے’’پورے خون کو یہ تحریر لکھنے کے لیے صرف کر دے۔۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ’’کشمیر ‘‘کے مسئلہ کے ساتھ’’ سیاچن ‘‘کے مسئلہ پر بھی فوری طور پر ہائی لیول کی گفت و شنید کا آغاز کریں اور کوشش کی جائے کہ ان مسائل کو تجارت اور آمد و رفت  جیسے معالات سے زیادہ ترجیحی بنیاد پر حل کرے قیادت اہم قومی مسائل پر یکسو متفق اور متحد ہو جائے تو ہمارے مسائل اتنے گھمبیر نہیں۔۔ صرف خلوص اور نیک نیت ارادہ اور عزم قوم کی ضرورت ہے اور فیصلوں کو بھی تقویت بخشتا اور عمل کو آسا ن راہ فراہم کرتا ہے ۔65  سالوں سے ہمارے حصے میں کامیابی کم ناکامی کی داستانیں زیادہ تعداد میںلکھی گئی ہیں۔ ذاتی لین دین میں مہارت رکھنے والی قوم نجانے قومی معاملات میں سودا کاری کے بہتر مواقع ملنے کے باوجود قومی لین دین میں ہمیشہ ہی کھوٹا سکہ ڈھالتی رہی ہے۔۔اب قیادت اپنا رخ صحیح کرے اور قومی لین دین میں خالص سونے چاندی کے سکوں کے مانند فیصلے کرے۔
پس تحریر: بہت سارے تلخ واقعات ۔ناخوشگور فیصلوں کی ٹوکری میں ایک نہایت جانفزا۔فرحت بخش فیصلہ ۔وفاقی شریعت عدالت نے 23 سال بعد قرار دیدیا کہ ’’توہین رسالت ‘‘ کی سزا صرف موت ہے۔ حکومت موت کی سزا کے ساتھ درج’’عمر قید‘‘کی سزا کو  بدلے ۔عدالت نے حکومت کو دوماہ کی مملکت دیدی۔