دو صدیوں کا لیڈر!

09 دسمبر 2013

جون 2004ءمیں تھکان غالب آنے لگی تھی جس کے اثرات اُس کی صحت پر بھی پڑرہے تھے۔ ڈاکٹروں کے ”حکم“ پر اُس نے عوامی زندگی سے مکمل کنارہ کشی اختیارکرلی اور اپنے چاہنے والے کے نام بیان جاری کیا ”آئندہ مجھے مت بلانا، اب میں تمہیں بلایا کروں گا“۔ اُدھر اُس کی دیکھ بھال پر مامور عملے نے بھی عوامی اجتماعات سے خطاب اور انٹرویوز کی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کرنا شروع کردی، لیکن 2005 ءمیں اُسے لندن سے ایک بلاوا آیا تو اُس کی بے قراری میں اضافہ ہوگیا۔ اِس بلاوے کا موضوع ہی ایسا تھا،جسے وہ چاہتے ہوئے بھی انکار نہیں کرسکتا تھا بلکہ اس موضوع کو تو اس نے ساری زندگی حرزِ جاں بنائے رکھا تھا، دراصل یہ بلاوا غربت کے خاتمے کیلئے کمپین کا حصہ بننے کی درخواست تھی۔ ڈاکٹراُسے سفر سے روکتے ہی رہ گئے لیکن وہ تمام مشوروں اور ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے اِس مہم کا حصہ بننے کا کیلئے برطانیہ جاپہنچا۔تین فروری 2005ءکو لندن کے مشہور ترافالگارسکوائر میں ہزاروں آنکھیں اس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے چین اور کان اُسے سننے کیلئے بے تاب تھے۔اُس نے لبوں کو جنبش دی تو ترافالگارسکوائر میں دانا چگتے سینکڑوں کبوتر گُٹرگُوں بند کرکے ساکت ہوگئے اور اِس سیاہ فام بوڑھے کو حیرت سے تکنے لگے۔ اُس کے الفاظ ہوا کے دوش پر سوار ہوئے تو بائیس ہزارکامجمع ہمہ تن گوش ہوگیا”کیا خوب ہے کہ ہم اِس عہد کے حوالے سے سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت اور ارتکازِ دولت کی بے مثال ترقی کی شیخی بگھارتے ہیں، لیکن اِسی عہد میں غربت کا عفریت اور ننگی عدم مساوات جیسی خوفناک لعنتیں بھی موجود ہیں جنہیں کسی بھی طور غلامی اور نسل پرستی سے کم برائی نہیں سمجھا جاسکتا۔آپ نے گزشتہ صدی میں غلامی اور نسل پرستی کے خلاف تحریک میں ہمارے قدم سے قدم ملایا، لیکن اس نئی صدی میں بھی دنیا کے غریب ترین ممالک میں کروڑوں لوگ غربت کی جیل میں قید اور غلامی کی زنجیروں میں جھکڑے ہوئے ہیں اور یہ وقت انہیں اس قید اور غلامی سے رہائی دلانے کا ہے۔ غلامی اور نسل پرستی کی طرح غربت بھی قدرتی نہیں بلکہ انسان کی اپنی پیدا کی ہوئی لعنت ہے اور اسے انسان خود ہی ختم کرسکتا ہے، غربت کے خاتمے کو احسان یا خیرات نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ تو انصاف کا تقاضہ ہے، یہ انسان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے، یعنی انسان کے ایک باعزت اور باوقار زندگی گزارنے کا حق۔ یاد رکھیں! غربت کے خاتمے تک آزادی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وقت آن پہنچا ہے کہ عالمی رہنما سال 2000ءمیں نئے ہزاریے کے ترقیاتی مقاصد (Millennium Development Goals) میں کئے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔ میں عالمی رہنماو¿ں سے کہوں گا کہ وہ اس لعنت کے خاتمے کیلئے کوئی قدم اٹھاتے ہوئے تھوڑا سا بھی مت ہچکچائیں‘ یاد رکھیں یہ دنیا اس وقت آپ کے الفاظ کی نہیں بلکہ آپ کے عمل کی بھوکی ہے، حوصلے اور بصیرت کے ساتھ غربت کے خاتمے کیلئے قدم اٹھائیں اور اس پر سختی سے قائم رہیں۔ بوڑھا مقرر سحر انگیز لہجے میں بولا ”اِس برائی کے خلاف اٹھو اور دنیا پر اپنی عظمت کا سکہ جمادو‘ غربت کو 2005ءمیں تاریخ کا حصہ بنا دو‘ 2005ءمیں تاریخ بنادو، اگر یہ تاریخ بن گئی تو تبھی ہم سب فخر سے سر اٹھاکر چلنے کے قابل ہوسکیں گے“۔ رگوں میں لہو منجمد کردینے والے موسم میں اپنے اِن یاد گار الفاظ کے ساتھ مجمع کا دل گرما کر رکھ دینے والا کوئی اور نہیں بلکہ جنوبی افریقہ کو نسل پرستی کے عذاب سے نجات دلانے والا مدبر رہنما نیلسن منڈیلا تھا۔
اس عظیم سیاہ فام رہنما نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ”لیڈر وہی ہے جو پرامن حالات میں پیچھے رہ کر اپنے لوگوں کی قیادت اور رہنمائی کرے اور خطرات میں آگے آکرسینہ تان کر چلے“۔ منڈیلا کے قول و فعل میں کوئی تضاد بھی نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ نیلسن منڈیلا نے اپنی قوم کی آزادی کی جنگ صف ِ اول میں رہ کر لڑی، لیکن جونہی اس آزادی کے ثمرات سے فیض یاب ہونے کا وقت آیا تو اُس نے تاحیات صدر بننے کی پیشکش ٹھکراتے ہوئے ملکی قیادت اگلی نسل کو سونپ دی۔ نیلسن منڈیلا نے صرف اپنوں کو ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوںغریبوں کو سراٹھاکر چلنے کا گُر سکھایا۔ نیلسن نے یہ گُر اِن الفاط میں بیان کیا ”اگر آپ واقعی جنوبی افریقہ کو خوبصورت بنانے کا خواب دیکھتے ہیں تو یہ مقصد دو شاہراہوں پر چل کر حاصل ہوگا اور یہ شاہراہیں نیکی اور عفو درگزر کی شاہراہیں ہیں“۔ بلا کے عاجز نے ایک بار کہا تھا ”میں کوئی مسیحا نہیں بلکہ عام سا ایک انسان ہوں جسے غیر معمولی حالات نے لیڈر بنادیا، میں آپ لوگوں کے سامنے کسی پیغمبر کی صورت میں نہیں بلکہ آپکے ادنیٰ سے خادم کی صورت میں موجود ہوں“۔جنوبی افریقہ کو آزادی نصیب ہوئی تو پوچھا گیا کہ آپ گوروں کے ساتھ کیسا سلوک کریں تو منڈیلا کے ہونٹوں پر ایک روشن مسکراہٹ پھیل گئی ”اگرمعافی سے امن قائم ہوتا ہو تو ایک بہادر آدمی کو اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، میں ایک ایسا ملک چاہتا ہوں جس میں کوئی طاقتورآئندہ کسی کمزور پر ظلم نہ کرے“۔
قارئین محترم! نیلسن منڈیلا اب ہم میں نہیں رہے لیکن دنیا میں جب بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی تو منڈیلا کی آوازاس میں سب سے توانا محسوس ہوگی، جب بھی جبر کے خلاف کوئی سینہ سپر ہونا چاہے گا تو پچانوے سالہ منڈیلا کے نظریات کے نت نئے پہلو کھل کر سامنے آئیں گے اور جب بھی کوئی غلامی، نسل پرستی اور غربت کی لعنتوں کے خلاف عملی اقدام اٹھانا چاہے گا تو نیلسن کی جدوجہد کہکشاں بن کر اُس کے سامنے آجائے گی۔نیلسن منڈیلا نے دنیا کو جس نئے انداز سے مسخر کرنے کی راہ دکھائی اس راہ میں شہر کھنڈرات بنتے ہیں نہ ہی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کیے جاتے ہیں۔ البتہ یہ راہ مشکل اور اس راہ پر سفر کٹھن ضرور ہے، لیکن ناممکن ہر گز نہیں، اِس مشکل کو آسان بنانا ہی دراصل دو صدیوں کے اِس عظیم لیڈر کی زندگی کا درس ہے۔