گورنر ہاﺅس کا سیلف ہیلپ پروگرام

09 دسمبر 2013

پورا پاکستان اور پنجاب خصوصاً پانی کی جس کمی کا شکار ہو رہا ہے وہ ایک لمحہ ¿ فکریہ اپنی جگہ موجود ہے۔ ہندوستان نے جگہ جگہ ڈیم بنا کر پاکستان کا حقہ پانی بند کرنے کا پکا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ایسے میں ہمیں بھی کسی جامع منصوبہ کی اشد ضرورت ہے ورنہ پنجاب اور سندھ خشک ہو گئے تو قحط کی صورت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ میٹھا پانی کیا اہمیت رکھتا ہے اس کا اندازہ دنیا کے ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ آئندہ جنگ کا سبب پانی ہو گا یعنی اب تیل کی بجائے پانی وجہ¿ تنازعہ ٹھہرے گا۔ آج سے بیس تیس سال قبل پینے والے پانی میں اتنی آلودگی نہیں تھی جس قدر آج ہے۔ شاید اس کی وجہ وہ تمام فاسد مادے ہیں جو دواﺅں، کھادوں اور اسلحہ جات وغیرہ کے سبب پانی میں شامل ہو کر اسے زہر آلود کر رہے ہیں۔ جوں جوں معاشرے ترقی یافتہ ہوتے جاتے ہیں ان کا دیسی ماحول بلکہ فطری ماحول بگڑتا جاتا ہے۔ فیکٹریوں کا دھواں سورج کی روشنی کو گہنا دیتا ہے اور ماحول کی کثافت چاندنی کو ماند کر دیتی ہے۔ یوں بہت سی ترقی کے عوض کچھ مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے ہم پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں لیکن ہر کوئی اس نعمت سے استفادہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا بلکہ یہ صرف خاص الخاص لوگوں تک ہی محدود ہے جب کہ عام اور سفید پوش وہی پانی پینے پر مجبور ہیں جو کئی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے، جن میں جلد کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ یرقان اور پیٹ کی بیماریاں شامل ہیں۔ اس حوالے سے خاص و عام کی آگاہی کے لئے بہت مواد مل جاتا ہے لیکن اس کا مکمل سد باب ہونا ضروری ہے۔ کوئی ایسا نظام جو سب کو صاف پانی مہیا کر سکے۔ پچھلے دنوں گورنر ہاﺅس جانے کا موقع ملا تو علم ہوا کہ گورنر ہاﺅس میں موجود غریب بچوں کے سکول میں ایک واٹر فلٹریشن پلانٹ لگایا گیا ہے۔ میری درخواست پر مجھے وہ پلانٹ وِزٹ کرایا گیا جو ایک گھنٹے میں چار ہزار لٹر پانی مہیا کرتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت بہت سے اہم مقامات پر ایسے پلانٹ کام کر رہے ہیں جو درحقیقت جعلسازی پر مبنی ہیں یعنی اگر آپ کا جا ان کا معائنہ کریں تو آپ کو علم ہو گا کہ ان کی مشینری اور دیگر اجزاءگل سڑ کر تباہ ہو چکے ہیں، صرف ظاہری ڈھانچہ موجود ہے۔ OASIS Pak کمپنی جس نے تین پلانٹ گورنر پنجاب کو گفٹ کئے۔ گورنر پنجاب نے ان میں سے دو پلانٹ یتیم خانہ کے لڑکے اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ نصب کرائے اور ایک پلانٹ گورنر ہاﺅس کے سکول کو دے دیا۔ اس حوالے سے یہ بات بے حد خوش آئند ہے کہ اس کمپنی نے جو پورا پیکج دیا ہے اس کے مطابق واٹر فلٹریشن پلانٹ کے ساتھ ساتھ ایک کمرے کی تعمیر، چلّر اور سولر سسٹم بھی مہیا کیا ہے تا کہ بجلی بند ہونے کی صورت میں بھی یہ پلانٹ کام کرتا رہے۔ اس کا زیادہ تر فائدہ گورنر ہاﺅس میں موجود ورکرز کی کالونی اور سکول کے بچوں کو ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ ایک مرکزی جگہ پر ہونے کے باعث واٹر پلانٹ کے حوالے سے کام کرنے والے لوگوں کےلئے کشش کا باعث ہو گا کہ وہ اس کی کارکردگی دیکھ کر مزید حکمت عملی وضع کر سکیں۔ گورنر پنجاب جناب چودھری سرور اس حوالے سے بہت پرجوش تھے کہ پنجاب کے سکولوں میں صاف پانی کے پلانٹ پر جلد کام شروع ہو گا اور جنوبی پنجاب سمیت پورے پنجاب کے سکولوں میں یہ پلانٹ نصب کئے جائیں گے اور اس پر گورنمنٹ کا ایک پیسہ بھی استعمال نہیں ہو گا بلکہ ٹرسٹ ساری رقم پے کرے گا یعنی یہ تمام سلسلہ سیلف ہیلپ کے طور پر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کمپنی کی سلیکشن کے لئے ایک باقاعدہ حکمت عملی پر کام کیا ہے اور ایک Criteria بنایا۔ سب سے کوٹیشنز طلب کی گئیں تو Pak OASIS کے بہتر کام کے نتیجے میں اس کو منتخب کیا گیا۔ لیکن جب کمپنی کے اہلکاروں کو علم ہوا کہ یہ منصوبہ عوام الناس اور طلبہ کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے تو انہوں نے خاص رعایت کرتے ہوئے واٹر فلٹریشن پلانٹ مہیا کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ وہاں پر موجود عملے نے بتایا کہ اس پورے پیکج کی قیمت اٹھارہ لاکھ روپے ہے لیکن کمپنی گورنر کے واٹر فلٹریشن منصوبے کے لئے یہ پیکج دس لاکھ روپے میں مہیا کرے گی جب کہ آٹھ لاکھ روپے CSR فنڈ سے وصول کرے گی۔ پاکستان تعمیری اور مثبت ذہن کے حامل لوگوں کا ملک ہے۔ یہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ چیریٹی کے کام ہوتے ہیں۔مجھے امید ہے کہ گورنر پنجاب ایسے مخیر خواتین و حضرات کے تعاون سے ٹرسٹ کو اتنا فعال کر دیں گے کہ وہ پانی سمیت تعلیم اور دیگر اہمیت کے حامل منصوبوں کی کامیابی یقینی بنانے میں ممد و معاون ثابت ہو گا۔