پرویز مشرف کیخلاف غداری کے مقدمہ کا آغاز

09 دسمبر 2013

حکومت نے ملکی سلامتی و استحکام پر کسی بھی قسم کا دباﺅ قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا آخر فیصلہ کرہی لیا ہے مگر جن آئینی اقدامات کا آغاز حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے مستقبل قریب میں اسکے کیا نتائج برآمد ہونگے....؟ اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا اسلئے بھی قبل از وقت ہے کہ پرویز مشرف پر فائم کئے گئے اس مقدمہ کی سماعت کے دوران مزید کئی خوفناک پنڈورہ باکس کھلنے کا امکان ہے۔بعض سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ پنڈورہ باکس کے کھلنے سے کئی سیاست دان، حاضر و سابق وزرائ، سابق و حاضر جرنیل اور اس وقت کی کابینہ اور وزیراعظم کے علاوہ عدلیہ کے لپیٹ میں آنے کا بھی اندیشہ موجود ہے اس لئے حکومت کے لئے بہتر یہ تھا کہ ”غداری کیس“ سے قبل وہ آئینی اور قانونی پیچیدگیوں کا مکمل جائزہ لینے کے بعد عدالتی دروازہ کھٹکھٹاتی.... ظاہر ہے حکومت کے اندر بھی سیاسی اور قانونی ماہرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اس لئے لگتا یوں ہے کہ ان ماہرین سے مشورہ کے بعد ہی پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کا آغاز ہورہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مقدمے کا اختتام کس نہج پے ہوتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سابق صدر پرویز مشرف وہ پہلی ایسی حکمران شخصیت ہونگے جنکے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت اس بنیاد پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے کہ انہوں نے 2 بار آئین معطل کیا۔ 1976ءکے آئین کے تحت اس جرم کی سزا بلاشبہ موت ہوسکتی ہے۔ مگر آرٹیکل 6 کی جو تشریح 1973 کے ایکٹ میں کی گئی ہے۔ وہ کچھ یوں ہے....1973 کے اس آرٹیکل میں آئین کی منسوخی، آئین کو برباد کرنا، آئین کے خلاف سازش یا پھر آئین کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی غیر آئینی سرگرمی دکھانے والا شخص مجرم قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ ایسے مجرم کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بھی دائر ہو سکتا ہے۔ توجہ طلب بات یہاں یہ ہے کہ ”آئین کی معطلی“ اور آئین کی منسوخی“ دو مختلف تشریحات ہیں۔ ہمارے ہاں چونکہ قانوں میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں جاری رہتی نہیں اس لئے 1976 کے آئین کے تحت آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی پر سزائے موت ہوسکتی ہے۔ اس لئے دیکھنا اب یہ بھی ہے کہ پرویز مشرف پر مقدمہ آئین 1976 یا پھر 1973 کے تحت چلایا جاتا ہے؟؟؟
اب جبکہ چیف جسٹس افتخار چودھری کے فارغ ہونے میں بھی چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں اس لئے کوشش کی جا رہی ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف قائم کئے گئے مقدمہ کو مزید SPEEDY بنایا جائے تاکہ افتخار چودھری جاتے جاتے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو کم از کم ایسا سبق ضرور سکھا جائیں جس سے آئندہ کسی جنرل کو ”آئین معطل“ کرنے کی جرا¿ت نہ ہوسکے۔ مقدمے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے 3 سینئر ججوں پر مشتمل خصوصی عدالت کے قیام سے اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ حکومت کسی قیمت پر سابق صدر پرویز مشرف کو معاف کرنے پر تیار نہیں۔جن 3 ججوں کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس یاور علی سندھ ہائی کورٹ سے فیصل عرب اور بلوچستان ہائی کورٹ سے خاتون جج طاہرہ صفدر شامل ہیں۔ جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس فیصل عرب بینچ کے سربراہ ہونگے۔ میں چونکہ قانون دان ہ وں اور نہ ہی آئینی ماہ! مگر میری پرڈکشن یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف آرٹیکل 6 کے تحت قا ئم اس کیس سے محفوظ راستہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پاکستان روانگی سے قبل انہوں نے مجھے اپنی لندن رہائش گاہ میں غیر رسمی ملاقات میں بتایا تھا کہ پاکستان واپس بہرحال میں نے جانا ہے۔ بے بنیاد مقدمات فیس کروں گا.... جیل جانا پڑا تو بھی جاﺅں گا، مگر ملک سے اس فرد نہیں بھاگو گا جیسے بیشتر سیاسی لیڈر بھاگ گئے.... میں انسان ہوں اپنے دور اقتدار میں مجھ سے بھی غلطیاں سرزد ہوئیں جنکی قوم سے معافی مانگ چکا ہوں اور مجھے اپنی جان کی قطعی فکر نہیں عدالتوں پر مکمل اعتماد ہے جو فیصلہ دیں گی قبول کریں گے۔