ڈرون حملوں سے متاثرہ بچے اور خاندان

09 دسمبر 2013

مارچ 2013ء میں کولمبیا لاءسکول آف ہیومن رائٹس نے پاکستان میں امریکی ڈرون طیاروں سے ہونے والی ہلاکتوں پر ایک رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ صدر بش نے چار جبکہ صدر اوبامہ نے 193 ڈرون حملوں کی منظوری دی۔ ہر حملے میں 10 سے لیکر 50شہری ہلاک ہوئے۔ صدر اوبامہ نے جن حملوں کی منظوری دی ان میں 800 معصوم شہری شہید ہوئے جبکہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے صرف 22افراد ہلاک ہوئے۔ اس حساب سے ہر ٹارگٹ حملے میں 36 عام شہری مارے گئے۔ ایک دوسرے ادارے بیورو آف انویسٹی گیشن جرنلزم نے ایسے 56بچوں کے نام‘ عمر اور جنس بھی بتائی ہے جو دہشت گرد نہیں تھے مگر ڈرون طیاروں کا نشانہ بنے۔ مرنے والے بچوں میں سے 12 کی عمر 10سال سے کم ہے۔ خیبر پختونخواہ کی حکومت ڈرون حملوں کی اس وجہ سے بھی مخالفت کررہی ہے کہ وہ ڈرون حملوں سے بچوں کو بچانا چاہتی ہے۔ ریموٹ کنٹرول جہاز کئی دہائیوں سے بچوں اور نوجوانوں کے پسندیدہ کھلونا رہے ہیں۔ پاکستان کے کئی شہروں میں ریموٹ کنٹرول فلائنگ کلب ہیں جہاں ہر چھٹی کے دن ایسے ننھے منے طیارے پرواز کرتے نظر آتے ہیں۔ لاہور میں پہلے والٹن ایئرپورٹ اور اب گرین ٹاﺅن کے قریب ریموٹ کنٹرول طیاروں میں باقاعدہ مقابلے ہوتے ہیں۔ پاکستان کو بھارتی جارحیت سے خطرہ ہے مگر اس کے باوجود ہم نے ان طیاروں کے پروں کے ساتھ بم نہیں باندھے۔ پاکستان کے کئی علاقوں کو دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ یہاں کئی مقامات پر ریاست دشمن چھپے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے کچھ علاقوں میں بغاوت پر بضد تنظیموں نے اپنے مراکز قائم کررکھے ہیں مگر افواج پاکستان نے ان علاقوں پر بم برسانے یا ڈرون حملوں کا سوچا تک نہیں۔ ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کہ کچھ ناراض بھائیوں اور ان کے معصوم بچوں کو مہلک ہتھیاروں اور ڈرون کے ذریعے فنا کردیں مگر امریکہ پچھلے چھ سال سے پاکستان‘ یمن اور افغانستان میں ڈرون ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ پاکستان کے ڈرون زدہ علاقوں میں کبھی بچے کھلے میدانوں میں کھیلا کرتے تھے ، تب ان کے چہرے شاداب تھے، وہ آسمان کی نیلاہٹوں سے پیار کرتے تھے۔ اب ایسا نہیں ، شاداب چہرے خوف سے پیلے پڑ چکے ہیں ، آسمان سے خوف اترتا ہے۔ یہ خوف اور ڈر ہماری نئی نسلوں کو تباہ کر رہا ہے۔ہمیں خود یہ طے کرنا ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو کس طرح تحفظ دے سکتے ہیں۔پاکستان کی مرکزی اورتمام صوبائی حکومتیں ڈرون حملوں پر یکساں مو¿قف رکھتی ہیں۔ تمام جماعتیں ان حملوں کو پاکستان کی داخلی بدامنی کی بڑی وجہ سمجھتی ہیں۔ ڈرون حملوں نے پاکستان میں دہشت گردی کاشت کی ہے۔ لیکن اب تک کی مباحث میں ان افراد پر زیادہ بات نہیں کی جاتی جو ان حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ بین الاقوامی خبررساں ادارے تمام مرنے والوں کو دہشت گرد بتا کر امریکی جنگی جرائم پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ مرنے والے بچوں‘ عورتوں اورسینکڑوں معصوم شہریوں کی اموات پر بات نہیں کی جاتی۔ مرنے والے افراد کے لواحقین کی دلجوئی کا سامان نہیں کیا جاتا۔ بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں نے لب سی رکھے ہیں۔ خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت اس معاملے کے سماجی پہلوﺅں پر کام کررہی ہے مگر یہ کام مرکزی حکومت کے اشتراک کے بغیر ممکن نہیں۔ دہشت گردی کی بیخ کنی اور ڈرون حملوں کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین جو مثبت تفہیم موجود ہے اسے ڈرون حملوں میں بچوں کی ہلاکتوں کے خلاف بھی موثر آواز کی صورت میں ابھرنا چاہیے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...