نواز شریف سے وزیراعظم آزاد کشمیر اور محمود اچکزئی کو ملاقات سے روک دیا گیا

Aug 09, 2018 | 15:52

ویب ڈیسک

اڈیالہ جیل میں نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر سے جمعرات ملاقات کا دن تھا لیکن انتظامیہ نے کئی اہم سیاسی رہنما ﺅں سمیت وزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور سینیٹر عثمان کاکڑ کو ملاقات سے روک دیا گیا،نجی ٹی وی کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے سابق وزیراعظم نوازشریف، بیٹی مریم نوازاور داماد کیپٹن( ر)صفدرحسین سےجمعرات ملاقات کا دن تھا،تینوں کی کانفرنس روم میں مشترکہ طور پر ملاقاتیں کرائی گئیں۔اڈیالہ جیل کا گیٹ نمبر 5 ملاقاتیوں کی گاڑیوں کے لیے مختص کیا گیا تھا جب کہ جیل کے اندر اورباہرسیکورٹی کے سخت انتظامات تھے۔ اہل خانہ کے علاوہ سیاسی رہنماں اور(ن)لیگ کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی نواز شریف سے ملاقات کی خواہاںتھی تاہم جیل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی خواہش کے مطابق ملاقاتیوں کی فہرست مرتب کی گئی ہے،فہرست کے مطابق ہی ملاقات کی اجازت دی جا ئے گی،دوسری جانب جیل انتظامیہ نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو نواز شریف سے ملاقات سے روک دیا ۔ نواز شریف سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر محمود اچکزئی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں مارشل لا لگایا گیا ہے، نواز شریف کی غلطی قانون کی بالادستی اور اداروں کی مداخلت روکنے کی کوشش ہے، مجھے سابق وزیر اعظم سے نہیں ملنے دیا جارہا، میں بھی پاکستانی شہری ہوں مجھے ملنے دیا جائے۔دو ہفتے سے اسلام آباد میں ہوں، ہر بار مجھے منع کردیتے ہیں، یہ کیا طریقہ ہے، وہ تین بار کے وزیراعظم ہیں۔ آئین ہر آدمی کوجیل میں کسی بھی آدمی سے ملاقات کا حق دیتا ہے۔

مزیدخبریں