ہفتہ ‘ 27؍ ذی الحج 1439 ھ ‘ 8؍ ستمبر 2018ء

Sep 08, 2018

پومپیو پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں میں افغان جنگ کے خاتمے کا جامع حل تلاش نہیں کر سکے

دراصل امریکی وزیر خارجہ جان پومپیو اسلام آباد افغان جنگ کے خاتمے کا جامع حل تلاش کرنے نہیں آئے تھے۔ انکے آنے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ نئے حکمران کا بل میں امریکی وائسرائے بھارت کے تابع فرمان رہنے پر برضا و رضا رغبت آمادہ ہیں یا انہیں اس پر آمادہ کرنے کیلئے ’’کچھ‘‘ کرنا پڑیگا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ کوئی خصوصیت نہیں، بلکہ نائن الیون کے بعد امریکی حکمرانوں نے یہ لائن اختیار کر رکھی ہے کہ افغان مسئلے کے حوالے سے پہلے رج کے غلطیاں کرو، اور پھر پاکستان سے انکی اصلاح کا مطالبہ کر دو، اس حوالے سے ’’ڈومور‘‘ کی اصطلاح نے بڑی شہرت پائی ہے۔ نائن الیون کے واقعہ میں کوئی پاکستانی یا افغان ملوث نہیں تھا لیکن غضب کے غلبے نے یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی سلب کر لی کہ اس کا انتقام کس سے لینا ہے اور کس طرح لینا ہے۔ وہاں ایک ٹون ٹاور تباہ ہوا۔ یہاں ایک ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور دوسرے کی، جس کا نائن الیون کے المیے سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ معیشت تباہ کر دی ۔ افغان مسئلہ اب جس بھی حال میں ہے اس کا جامع حل اگر کہیں تلاش ہو سکتا ہے تو وہ دلی نہیں، اسلام آباد ہے۔ دلی والوں کا سودا اس طرح خوب بک رہا ہے، وہ افغان جنگ کے جامع حل تک کیوں پہنچنے دیں گے۔

٭…٭…٭

عمران خان کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری ہو گیا۔

عمران خان وزارتِ عظمیٰ کی تقریب حلف برداری میں حلف کی عبارت پڑھ رہے تھے کہ ’’خاتم النبین‘‘ پر زبان پھسل گئی۔ زبان کا پھسلنا عام معمول ہے، قرأت کے دوران امام جماعت کی زبان تک پھسل جاتی ہے۔ اثنائے گفتگو‘ مادری زبان کے الفاظ زبان سے پھسل جاتے ہیں۔ لیکن بعض لوگ ملک و ملت کی خیرخواہی کے جذبے سے اس بری طرح ’’سرشار‘‘ ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی بہانے اخباروں میں ا پنا نام چھپوانے کے شائق ہوتے ہیں کہ بہانوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ حلف برداری میں زبان کے پھسلنے کا واقعہ بھی ایک صاحب کی زندگی کا ’’سامان‘‘ بن گیا۔ قسمت نے بھی ان کی یاوری کی اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 دل کو لگی چنانچہ اسے اُٹھائے بھاگے بھاگے عدالت پہنچ گئے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے یہ فیصلہ دیکر ’’کہ پڑھائی کے دوران زبان پھسل جانے کو جرم نہیں قرار دیا جا سکتا‘‘ شاکی شاحب کی امیدوں پر گھڑوں پانی ڈال دیا، جو من ہی من میں، عمران خان کو کم از کم کسی حوالات میں پابہ جولاں دیکھ رہے تھے۔ چلیں ہم حسن ظن سے کام لیتے ہوئے فرض کر لیتے ہیں کہ ’اُن کی ’’غیرت ایمانی‘‘ نے جوش مارا ہو گا لیکن وہ یہ بھول گئے کہ اسلام میں نماز تک میں سجدہ سہو کی گنجائش ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ ہی رحم کرے، جو سجدۂ سہو ایسی ربانی رعایت سے فائدہ اُٹھانے سے اپنے آپ کو خود ہی محروم کر لیں۔

٭…٭…٭…٭

امریکی صحافی بوب وڈ کی نئی کتاب ’’خوف‘‘ 11 ستمبر کو مارکیٹ میں آرہی ہے جس میں ٹرمپ کے چیف آف سٹاف جان کیلی نے وائٹ ہائوس کو پاگل خانہ‘ ٹرمپ کو احمق اور وزیر دفاع نے انہیںچھٹی کا طالب علم قرار دے دیا۔

گیارہ ستمبر کو ’’خوف‘‘ کا آنا دوسرے نائن الیون کو ظاہر کرتا ہے۔ کتاب کا پورا نام ’’خوف۔ ٹرمپ ان دی وائٹ ہائوس‘‘ ہے جو گیارہ ستمبر کو مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ ایک گیارہ ستمبر افغانستان پر بھاری گزرا تھا‘ لگتا ہے یہ گیارہ ستمبر ٹرمپ کیلئے ’’ستمگر‘‘ ثابت ہوگا۔ صحافی نے ٹرمپ کی موجودگی کے باعث وائٹ ہائوس کو پاگل خانہ جبکہ وزیر دفاع نے انہیں چھٹی جماعت کا طالب علم قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ اس وقت صرف امریکہ ہی کیلئے خطرے کا باعث نہیں ہیں بلکہ وہ پوری دنیا میں خطرے کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ بہرحال پہلے نائن الیون نے تو افغانستان کا تورا بورا کیا تھا‘ اب دیکھتے ہیں کہ یہ ’’خوف‘‘ مسٹر ٹرمپ کا تورا بورا کیسے کرتا ہے؟ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ وائٹ ہائوس میں عقل کل بیٹھا ہے یا عقل سے عاری ‘ ہمارے لئے تو آئے روز ’’ڈومور‘‘ کا نائن الیون ہوتا رہے گا۔بوب وڈ عالمی سطح پر بڑے جہاندیدہ اور بے لاگ صحافی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے وائٹ ہائوس کے لوگوں کی جن صلاحیتوں اور اہلیتوں سے متصف قرار دیا ہے‘ اس سے دشمن ہی نہیں دوستوں کو بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ابھی پوری کتاب نہیں دیکھی لیکن حیرت ہے کہ وائٹ ہائوس جو ایک زمانے میں جارج واشنگٹن‘ ابراہام لنکن اور آئزن ہاور کا مسکن ہوا کرتا تھا‘ آج وہاں پاگل اور چھٹی جماعت کے طالب علم گھس بیٹھے ہیں۔

٭…٭…٭

نظام دکن کا ہیرے سے جڑا سونے کا لنچ بکس چوری ہو گیا۔

نظام دکن سے مراد میر عثمان علی خان ہیں جو انگریزی ہند میں نیم خودمختار اسلامی سلطنت حیدرآباد دکن کے آخری والی تھے۔ حیدر آباد کے والی نظام کہلاتے تھے۔ ریاست حیدر آباد کے بانی‘ حضرت محی الدین اورنگزیب عالمگیر کے وزیر باتدبیر تھے‘ نواب نظام الملک آصف جاہ اول۔ جنت مکانی نے رحلت فرمائی تو بہادرشاہ اول سربرآرائے سلطنت ہوئے۔ 1712ء میں ان کا انتقال ہوا تو دربار دلی میں وہ غدر مچا کہ الامان و الحفیظ۔ دربار کے ابتر حالات نے نواب نظام الملک کو دلی چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے حیدرآباد کو صدر مقام بناکر سلطنت آصفیہ کی بنیاد رکھی۔ حیدرآباد دکن نے بڑی حد تک مسلم تہذیب وتمدن کو محفوظ رکھا۔ خصوصاً اردوکو برصغیر کی زبان بنانے میں سلاطین حیدرآباد اور آخری نظام میر عثمان علی خان کی قائم کردہ جامعہ عثمانیہ نے اہم کردار ادا کیا۔ سید سبط حسن کے مطابق جامعہ کے دارالترجمہ کا دنیا کی کوئی زبان مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وضع مصطلاحات کے شعبے میں دنیا بھر کے علوم و فنون کی اصطلاحات کا ترجمہ کیا جاتا تھا۔ جامعہ کے دارالتصنیف میں نادر روزگار کتب کے ترجمے ہوئے اور نئی کتابیں لکھی گئیں۔ انگریز نے جو سلطنت حیدرآباد کو انتہائی قریبی حلف قرار دیتا تھا‘ اپنے وعدوں کی بھی پروا نہ کی اور حیدرآباد دکن کو پٹیل ایسے مسلم دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ ہندوئوں نے مسلم ثقافت کی اس شاندار نشانی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اسکے ساتھ ہی بھارت سے اردو کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ وہ میر عثمان علی خان جس نے نہایت مشکل وقت میں پاکستان کو پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دی اور جسے شاہان عالم‘ ایک خودمختار حکمران کا درجہ دیتے تھے۔ آخر میں مہاراشٹر کے پرمکھ کے طورپر دنیا سے رخصت ہوئے۔ آج مرحوم کے لنچ بکس کے چوری ہونے کی خبر پڑھی تو پرانے زخم ہرے ہو گئے۔

٭…٭…٭…٭

مزیدخبریں