قطرے سے گہر ہونے تک

Sep 08, 2018

بعثت نبوت کے چھٹے سال کا واقعہ ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حمزہ شکار سے واپس لوٹے تو گھروالوں نے انہیں بتایاکہ آج ابوجہل نے آپکے بھتیجے سے بڑی بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ حمزہ اگر چہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے لیکن نبی محترم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے بڑی محبت رکھتے تھے ۔ آپ نے یہ سنا تو بڑے غصے میں آگئے ۔ اپنی کمان لے کرابوجہل کے پاس گئے تو جو اُس وقت مسجد ِ حرام میں تھااوراسکے سامنے اپنی کمان پر ٹیک لگاکر کھڑے ہوگئے ابوجہل نے آپکے تیور دیکھے تواسے اندازہ ہوا کہ آج معاملہ ٹھیک نہیں ہے، وہ حیلہ ساز بڑی نرمی سے کہنے لگے : اے ابو عمّارہ ! تمہارے ساتھ کیا بات ہوگئی ۔آپ نے کمان اٹھا کر اس زور سے اسکی گردن پر ماری کہ،اس پر زخم آگیااور خون بہنے لگا ۔قریش فوراً بچ بچائو کرانے کیلئے آگے بڑھے اور جھگڑا بڑھنے کے خوف سے صلح کروادی ۔ حضور اس وقت دارِارقم میں تھے۔ حمزہ وہاں پہنچے اور کہا ’’اے بھتیجے ! میں آپ کا بدلہ اتا ر آیا ہوں‘‘۔حضور نبی رحمت نے ارشاد فرمایا :’’چچا! مجھے ان باتوں سے خوشی نہیں ہوتی، میری خوشی تو آپکے ایمان میں ہے‘‘۔ آپ نے یہ بات اتنے خلوص اور اتنی دلسوزی سے فرمائی کہ حمزہ گھائل ہوگئے ، اور انھوں نے وہیں پر اپنے ایمان کا اعلان کردیا ۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جیسے شیر مرد کا اسلام لانا، مسلمانوں میں مسرت کی لہر دوڑا گیا اور کفر پر یہ خبربجلی بن کر گری۔ اسکے تیسرے دن ابو جہل نے کفار کا ایک مجمع اکٹھا کر لیا اور بھانچیں پھیلا کے کہنے لگا۔اے قریشیو! تمہاری غیرت کو کیا ہوگیا ہے، تین دن ہوگئے حمزہ بھی ہمارے دین سے نکل گیا ہے۔ کون ہے جو اس فتنے کا خاتمہ کرے ۔ میں اسے سو سرخ اونٹ انعام میں دوں گا۔ قبیلہ بنو عدی کاجوان عمر جو اب تک غلط فہمی کا شکار تھا۔ بڑے غصے میں آگیا،تلوار سونت لی اور کہاجب تک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خاتمہ نہیں کر لیتا اس وقت تک زمین پر نہیں بیٹھوں گا۔ اسی عالم جلال میں آگے بڑھے تو راستے میں نعیم بن عبداللہ مل گئے۔ انھیں عمر کے ارادے کی خبر ہوئی تو کہنے لگے :پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو تمہارے بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہوچکے ہیں۔ یہ سنا تو بہنوئی سعید بن زیدکے گھر کا رُخ کیا۔ حضرت خباب بن الارت انھیں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔ وہ عمر کی آواز سن کر کمرے میں چلے گئے یہ جاتے ہی بہنوئی سے الجھ پڑے بہن فاطمہ آگے بڑھی تواسے بھی زناٹے دار تھپر رسید کردیا۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ جو دعوت ہم قبول کر چکے ہیں اس سے سرموانحراف نہیں کرینگے۔ یہ استقامت عمر کیلئے بڑی حیران کن تھی۔ کہنے لگے وہ کلام سنائو جو تم پڑھ رہے تھے۔ بہن نے سورہ طہٰ کی ابتدائی آیات تلاوت کرنی شروع کیں ، انھیں سن کر عمر کے دل کی دنیا ہی بدل گئی ۔ آنکھ سے آنسورواں ہوگئے۔ کہا یہ کلام برحق ہے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںلے چلو ۔ خباب نے یہ سنا تو باہر آگئے ،کہنے لگے عمر مبارک ہو تین دن سے حضور تمہارے اسلام کیلئے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ دار ارقم میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور سعادت اسلام حاصل کی ،اس وقت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے، مبارک دی اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکینانِ سموات بھی عمر کے اسلام لانے پر خوشی کا اظہا ر کر رہے ہیں ۔(ابن ماجہ )

مزیدخبریں