بیٹی اور داماد کا قتل بھٹہ مزدوروں کے تحفظ کی تحریک میں بدلنا چاہتا ہوں: مختار مسیح

08 نومبر 2014

قصور(آن لائن)ساٹھ سالہ مختار مسیح نے کہا ہے کہ وہ اپنی بیٹی شمع بی بی اور داماد شہباز مسیح کے قتل کے حوالے سے انصاف کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔اس امر کا اظہار انہوں نے جرمن خبررساں ادارے ”ڈی ڈبلیو“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن میں مقدس اوراق کی بے حرمتی کے الزام میں زندہ جلائی جانے والی مسیحی خاتون شمع بی بی کے والد مختار مسیح نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے واقعے کا سوموٹو نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات سپریم کورٹ کے ججوں سے کروائیں۔ ایک سوال کے جواب میں مختار مسیح کا کہنا تھا کہ کون سا قانون انسانوں کو زندہ جلا دینے کی اجازت دیتا ہے؟ ”قانون تو حکومت کے پاس ہے، اگر ان لوگوں کو شبہ تھا کہ میری بیٹی سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے، تو وہ اسے پولیس کے حوالے کر دیتے، اس کے خلاف پرچہ درج کرا دیتے، کوئی انکوائری ہوتی اور جرم ثابت ہوتا تو حکومت سزا دیتی اور اگر جرم نہ ثابت ہوتا تہ وہ بری ہو جاتی۔لاہور کے نواح میں واقع مسیحی بستی یوحنا آباد کے علاقے آصف ٹاون کے رہائشی مختار مسیح نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ بات ان کے لئے اطمینان کا باعث ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیا ہے، مقدمہ درج ہوا ہے اور لوگ بھی گرفتار ہوئے ہیں۔تاہم اس مقدمے کا اندراج پولیس اہلکاروں کی بجائے میری مدعیت میں ہونا چاہیے تھا، ”میں نے اس سلسلے میں مقامی عدالت میں درخواست بھی دائر کر دی ہے، میں چاہتا ہوں ایف آئی آر ہماری طرف سے کاٹی جائے۔“ انہوں نے مزید کہا، ”اس وقت میرے اوپر کسی قسم کا کوئی دباو¿ ہے نہ ہی مجھے ہراساں کیا جا رہا ہے، البتہ مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ مختار مسیح کا کہنا تھا کہ اس کی بیٹی اور داماد مقدس اوراق کی توہین میں ملوث نہیں۔ بھٹے کے مالک کے ایما پر لین دین کے ایک تنازعے کی وجہ سے ان کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا گیا۔ تاہم وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے داماد شہزاد مسیح کا معمر والد نادر مسیح جادو ٹونے کا کام بھی کرتا تھا اور چند ہفتے پہلے نادر مسیح کی وفات کے بعد شمع نے نادر مسیح کے سوٹ کیس کو صفائی کی غرض سے کھولا تو اس میں موجود قرآن پاک اور بائےبل مقامی لوگوں کو دے دیئے جبکہ ہاتھ سے لکھے کاغذات کو جلا دیا۔ مختار مسیح کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹی اور اس کے داماد کو اگر کمرے میں بند نہ کیا جاتا تو شاید وہ بچ جاتے، انہوں نے مزید کہا، ”مجھے دکھ ہے کہ میری بیٹی اور میرے داماد کو مار دیا گیا لیکن اب میں اس دکھ کو ایک تحریک میں بدلنا چاہتا ہوں۔ ایک ایسی تحریک جو بھٹہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہو اور اس کے نتیجے میں کسی بھٹہ مالک کو جرات نہ ہو کہ وہ کسی غریب پر ظلم کر سکے۔ “ مختار مسیح کے بقول پیشگی رقم دے کر انسانوں کو ’خریدنے‘کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔مختار مسیح کے مطابق ان کو ابھی تک کہیں سے امداد نہیں ملی۔
مختار مسیح