الیکشن کمشن کو اولڈ ہوم نہ بنایا جائے

08 نومبر 2014

جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے مستعفی ہوئے تو یہ فریاد کر گئے کہ کسی بوڑھے کو چیف الیکشن کمشنر نہ لگاﺅ۔ آخر انہوں نے استعفیٰ دینے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ ان سے کوئی استعفیٰ طلب نہیں کر رہا تھا نہ دھرنا دیا جا رہا تھا۔ انہیں اندر سے آواز آئی اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ وہ پوری طرح ذمہ داری پوری نہ کر سکے تھے بلکہ ذمہ داری بالکل ادا نہ کر سکے تھے۔ ان کی کریڈیبلٹی بنی تھی۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کی تحریک میں ان کے جرات مندانہ بیانات سب کو حوصلہ دے گئے مگر انہیں چیف الیکشن کمشنر کے طور پر بہت حوصلوں کی ضرورت تھی۔ ان کو یہ منصب قبول ہی نہیں کرنا چاہئے تھا کوئی تو ہو جو انکار کرے۔ جس کے اندر جرات انکار نہیں۔ اس کے اندر جرات اقرار بھی نہیں ہوتی۔ صرف اقرار کچھ نہیں ہے۔ جرات اقرار مگر ہم میں سے خوف اور لالچ ختم ہی نہیں ہوتا۔
بڑے ادب کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم نے اپنے آپ کو گندا کیا۔ کہیں سے ان کے لئے تعریف نہ آئی بلکہ وہ تنقید کا نشانہ بنے۔ ان کے لئے لطیفے بھی میڈیا پر چلتے رہے۔ جب وہ آرمی چیف جنرل کیانی کو پہچان نہ سکے تھے۔ وہ اپنے آپ کو بھی پہچان نہ سکے تھے۔ اب وہ گوشہ نشین بلکہ گمشدہ ہیں۔ میں انہیں بڑے ادب سے فخرالدین جی ابراہیم کی بجائے فخرالدین جی نہیں ابراہیم کہتا ہوں۔
آئین میں تو یہ شرط نہیں ہے کہ کوئی ریٹائرڈ جسٹس ہی چیف الیکشن کمشنر ہو گا۔ 65 برس کی عمر میں ریٹائر ہونے کے بعد وہ انصاف نہیں کر سکتا؟ تو یہ بے انصافی الیکشن کمشن کے ساتھ ہی کیوں ہے؟ ایک تو یہ بھی تضاد ہے کہ عام ملازمین ساٹھ برس کی عمر میں ریٹائر ہو جاتے ہیں مگر ہائی کورٹ کے جج باسٹھ برس کی عمر میں اور سپریم کورٹ کے جج پینسٹھ برس کی عمر میں ریٹائر ہوتے ہیں۔ جب ایک عام ملازم ساٹھ برس کے بعد کسی کام کا نہیں رہتا تو پھر جج کے لئے یہ تخصیص کیوں ہے۔ اس کے بعد ان میں کسی کو چیف الیکشن کمشنر بنا دیا جاتا ہے۔ جسٹس (ر) ایس اے نصرت نو سال تک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر رہے۔ ان کی چال ڈھال سے لگتا تھا کہ وہ نڈھال ہیں۔ اتنے بڑے عہدے پر اس طرح کی بوڑھی تعیناتیاں ایک مذاق ہیں بلکہ زیادتی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نہیں لگاتے تو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر ہی مستقل بنیادوں پر لگا دو؟ انتخابی اصلاحات کو اپنے انقلاب کا حصہ بنانے والے یہ کام بھی نہ کروا سکے جبکہ ایک آزاد الیکشن کمشن کے لئے یہ بنیادی بات ہے۔
اب جو نام سامنے آئے ہیں ان میں سے اکثر 80 برس کے ہیں یا ہونے والے ہیں۔ ان کی کریڈیبلٹی اور احترام سے کوئی انکار نہیں ہے مگر یہ خود انہیں تکلیف دینے کی بات ہے۔ اس سے ووٹ دینے والوں اور ووٹ لینے والوں کو کیا ریلیف ملے گا؟ میرے دل میں جسٹس رانا بھگوان داس کے لئے بہت عزت ہے۔ جسٹس سعید الزمان صدیقی ن لیگ کے صدارتی امیدوار تھے۔ جسٹس (ر) میاں اجمل، تصدق حسین جیلانی، طارق پرویز اور عمران کے نمبر دو شاہ محمود قریشی نے جسٹس ناصر اسلم زاہد کا نام پیش کیا ہے۔ قریشی صاحب نے ان کی تعریف کی ہے وہ بہت محترم ہیں مگر کیا انہیں نمبر دو سیاستدان کی تعریف کی ضرورت ہے۔ اس سے ان کی کریڈیبلٹی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا مگر وہ بہت قابل احترام ہیں۔
چاہئے تو یہ تھا کہ فخرالدین جی ابراہیم کے بعد فوری طور پر یہ تعیناتی کر دی جاتی مگر حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے مسلسل لیت و لعل بہت پریشان کن ہے۔ کہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کے لئے بہانے کے طور پر غفلت اور لاپروائی کی گئی ہے۔ کئی دوسرے اداروں کے سربراہ کے طور پر بھی تعیناتی نہیں کی گئی۔ یہ ایڈہاک ازم کیا ہے۔ یہ لوگ میرے قبیلے کے سردار شاعری کے خان اعظم کی اس نظم کی عملی تصویر ہیں۔ منیر خان نے تو پازیٹو معنوں میں دیر کرنے کی بات کی تھی۔ نجانے حکمرانوں کے کیا ارادے اور مفادات ہیں؟
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
الیکشن کمشن کے سیکرٹری اشتیاق احمد ایکسٹنشن کے دو سال پورے کرکے ریٹائر ہو گئے ہیں۔ اب اس دوسری پوسٹ کے لئے بھی دیر ہو گی۔ حکمران تکلیف سے بچنے کے لئے اپنے لوگوں عزیزوں اور دوستوں کو ایکسٹنشن پہ ایکسٹنشن دیتے چلے جائیں ”کام“ ہوتا رہے گا۔ کام کی کیا بات ہے۔ ہم سب لوگ ناکام لوگ ہیں۔ میرے خیال میں ایکسٹنشن غیر قانونی غیر آئینی عمل ہے۔ سب لوگوں کو ایکسٹنشن دو ورنہ کسی کو نہ دو۔ جب ریٹائرمنٹ کی عمر مقرر ہے تو اس میں تحریف کیوں ہوتی ہے۔ یہ صرف نوازنے کا ایک بہانہ ہے۔ نوازنے سے آپ کا دھیان نواز شریف کی طرف نہیں جانا چاہئے۔ اشتیاق احمد کو سیکرٹری الیکشن کمشن کے لئے کیوں ایکسٹنشن دی گئی۔ ان کا کوئی کارنامہ یا غیر معمولی کارکردگی کیا تھی۔ وہ چلے گئے ہیں تو میں ان کے لئے کوئی انکشاف نہیںکروں گا۔ سیکرٹری الیکشن کمشن کے طور پر کنور دلشاد زیادہ مناسب آدمی تھے مگر ان کو ایکسٹنشن نہ دی گئی۔ یہ رعایت اس کے لئے ہوتی ہے جو حکمرانوں کا دل شاد کرتا ہے؟
آئین کا تو یہ تقاضہہے کہ جو آدمی جج بننے کا اہل ہو وہ چیف الیکشن کمشنر بن سکتا ہے۔ اس میں خطرہ یہ بھی ہے کہ کیا سیاستدانوں کی پسند کا آدمی انصاف کر سکتا ہے۔ ایک بار شہید بینظیر بھٹو نے کہہ دیا تھا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ جہانگیر بدر کو چیف جسٹس سپریم کورٹ بنا دوں؟ برادرم کنور دلشاد کے مطابق جج صاحبان کو کوئی انتظامی تجربہ نہیں ہوتا جبکہ یہ بہت ضروری ہے آخر الیکشن کمشن کو اولڈ ہوم کیوں بنایا جا رہا ہے۔
جہاں تک اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا تعلق ہے تو وہ غیر متنازعہ نہیں رہے۔ اپوزیشن پارٹیاں بھی ان پر اعتماد نہیں کرتیں۔ انہوں نے فرینڈلی اپوزیشن کے لفظ کی بھی لاج نہیں رکھی ان کی حیثیت وہی ہے جو سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کی ہے۔ دونوں شاہ صاحب بھی ہیں۔
برادرم خوشنود علی خان نے بزرگوں کے پورے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ قبر میں پاﺅں لٹکائے بیٹھے ہوتے ہیں ان لوگوں کو دعاﺅں کی ضرورت ہے۔ ہم انہیں اتنی اہم اور سرگرم کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی اہل اور توانا آدمی سے کام لینے کی روایت بننا چاہئے۔ اس حوالے سے میں علامہ اقبال کا ایک شعر خوشنود علی خاں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...