پنجاب اسمبلی: پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کی تصدیق نہ ہو سکی

08 نومبر 2014

لاہور (خصوصی نامہ نگار) قومی اسمبلی کی طرح پنجاب اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفوں کی تصدیق کا معاملہ حل نہ ہوسکا، فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم رہے جس کے باعث استعفوں کے معاملہ پر ڈیڈلاک برقرار رہا۔ میاں محمود الرشید کی قیادت میں تحریک انصاف کے ارکان کی اسمبلی سیکرٹریٹ آمد اور ڈپٹی سپیکرسمیت حکومتی ارکان سے ملاقات نشستند، گفتند اور برخاستند ثابت ہوئی۔ پی ٹی آئی کے ارکان سپیکر چیمبر میں جانے کی بجائے میٹنگ ہال میں استعفوں کی تصدیق کیلئے سپیکر کا انتظار کرتے رہے۔ انہوں نے انفرادی طور پر سپیکر کے سامنے حاضر ہونے کی ڈپٹی سپیکر شیر علی گورچانی اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان کی درخواست مسترد کردی۔ سپیکر نے ارکان کو فرداً فرداً اپنے چیمبر میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ سپیکر اپنے چیمبر میں بلاتے رہے اور پی ٹی آئی کے ارکان لائونج میں بیٹھے رہے۔ تحریک انصاف کے ارکان  میاں محمود الرشید کی قیادت میں وزیراعلیٰ اور سپیکر چیمبرز کے درمیان واقع کانفرنس روم میں بیٹھے اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے اپوزیشن ارکان کے لئے چائے، سینڈوچ اور کبابوں سے تواضع کی گئی۔ اس دوران سپیکر چیمبر میں موجود ڈپٹی سپیکر شیر علی گورچانی اور رانا ثناء اللہ خان کانفرنس روم آگئے،  مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تو میاںمحمود الرشید نے کہا ہم پنجاب اسمبلی سے استعفیٰ دے چکے ہیں، اسکی منظوری کیلئے ایک نہیں 2 بار آئے ہیں، سپیکر ہمیں وقت نہیں دے رہے  جس کے جواب میں رانا ثناء اللہ خان کاکہنا ہے کہ تحریک انصاف والے استعفے دینا چاہتے ہیں نہ ہی ہم ان سے استعفیٰ لینا چاہتے ہیں۔ سپیکر رانا اقبال  نے اس حوالے سے کہا رولز کے تحت استعفے کی تصدیق کیلئے ارکان کو انفرادی طور پر ہی بلایا جاتا ہے جب تک وہ میرے سامنے نہیں آئیںگے اس وقت تک استعفوں کی تصدیق ممکن نہیں،  یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو نہیں بھیج رہے بلکہ اس معاملے پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے 30میں سے29 تقریباً ارکان  نے اجتماعی طور پرجمع کرائے تھے، سپیکر پنجاب اسمبلی  رانا محمد اقبال خان نے استعفوں کی تصدیق کے لئے پی ٹی آئی کے مستعفی ہونے والے ممبران کو 7نومبر کو اسمبلی میں بلایا تھا۔ پی ٹی آئی کے 29 ارکان میاں محمود الرشید کی قیادت میں اسمبلی سیکرٹریٹ آئے اور کانفرنس روم میں بیٹھے رہے۔  سپیکر نے تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ انہیں اپنے چیمبر بلایا لیکن کو ئی بھی سپیکر کے چیمبر میں نہ گیا۔ اپوزیشن لیڈر نے سپیکر کو پیغام بھیجا کہ ہم سب کانفرنس روم میں بیٹھے ہیں، یہاں آکر ہمارے استعفوں کی تصدیق کر لیں، ہم اکیلے اکیلے نہیںملیں گے۔ استعفے بھی اکٹھے ہی دئے تھے ان کی تصدیق بھی اجتماعی ہوگی۔ سپیکر رانا محمداقبال  پی ٹی آئی کے ارکان کا اپنے چیمبر میں ا نتظار کرتے رہے، پی ٹی آئی کے ارکان سپیکر کا کانفرنس روم میں انتظار کرتے رہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان سپیکر کا کانفرنس روم میں انتظام کرتے رہے۔ اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے اسمبلی سے باہر چلے گئے۔ جمعہ کی نماز ادا کر کے 40 منٹ کے وقفے کے بعد دوبارہ پنجاب اسمبلی میں آئے۔ 3 بجکر 45 منٹ پر پی ٹی آئی کے ارکان میاں محمود الرشید کی قیادت میں سپیکر کا انتظار کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔ اس مو قع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ ہمیں استعفوں کی تصدیق کیلئے 7 نومبر کو بلایا گیا تھا، ہمیں سپیکر کی طرف سے وقت دیا گیا تھا، ہم اس وقت سے آ کر کانفرنس روم میں بیٹھے ہیں، سپیکر کو بھی اطلاع کی کہ ہم کانفرنس روم میں بیٹھے ہیں، آ کر ہمارے استعفوں کی تصدیق کر لیں لیکن سپیکر اپنے چیمبر میں بیٹھے رہے اور ہمارے ممبران کو فرداً فرداً بلانے کی کوشش کی۔ ہم نے یہ موقف اختیار کیا کہ ڈیڑھ ماہ قبل اپنے استنعفے اجتماعی طور پر دیئے تھے، اس کی تصدیق بھی اجتمجاعی طور پر ہی کرائیں گے۔ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی احاطے میں گو نواز گو کے نعرے لگاتے ہوئے واپس چلے گئے۔ تحریک انصاف کے ارکان سے بات چیت کیلئے ڈپٹی سپیکر پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے ان سے مذاکرات کئے مگر معاملہ حل نہ ہوا۔
لاہور (خصوصی نامہ نگار) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود الرشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے پارٹی پالیسی کے تحت استعفیٰ دیا ہے، ہمارے  29 اسمبلی ارکان آئے ہیں، سپیکر نے ہمیں بلایا اور ہم آ گئے، سپیکر اب دو قدم آگے بڑھ کر ہمارے ساتھ پیش آئیں اور اکٹھے استعفے لیں،کسی بھی صورت پی ٹی آئی کے ارکان توڑنے کی حکومتی خواہش پوری نہیں ہونے دیں گے۔ جب انہوں نے اجتماعی طور پر استعفے دئیے تھے تو سپیکر اس وقت قبول نہ کرتے، اب کبھی  15منٹ ، کبھی آدھے گھنٹے بعد آنے کا کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ 29 ارکان اسمبلی میں موجود ہیں، خاتون رکن بیماری کی وجہ سے نہیں آ سکیں۔ تمام ارکان  اسمبلی کا استعفوں کا فیصلہ حتمی ہے کوئی ایک انچ بھی پیچھے ہٹا ہے نہ ہٹے گا‘ عمران خان کے ایک اشارے پرتمام ارکا ن اسمبلی ایک نہیں ہزار بار اسمبلی رکنیت چھوڑ سکتے ہیں‘ مسلم لیگ (ن) سیاسی بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ہم ایک ہی مطالبہ کرتے ہیں کہ سپیکر ہمارے استعفے منظور کریں اور الیکشن کمشن کو آگاہ کرکے ہماری نشستیں خالی ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) اور ڈپٹی سپیکر کایہ کہنا کہ تحریک انصاف کے بعض ارکان کے استعفوں کا معاملہ مشکوک ہے، یہ مکمل طور پر جھوٹ کا پلندہ ہے، ہم یہ رویہ مسترد کرتے ہیں۔ ہم نے استعفے جمع کرادئیے ہیں، سپیکر نوٹیفکیشن جاری کریں، ہم اکٹھے تصدیق کرائیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نے واضح کیا کہ  آئین اور رولز کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کی جانچ پڑتال کے بعد ہی استعفوں کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا،  آئین کے آرٹیکل 54 کے مطابق سپیکر اس بات کا پابند ہے کہ ہر رکن سے فرداً فرداً تصدیق کرے کہ آیا کسی رکن اسمبلی کی طرف سے دیا گیا استعفیٰ حقیقی اور رضاکارانہ طور پر پیش کیا گیا ہے، یہ تاثر غلط ہے کہ استعفیٰ کی درخواست دینے کے ساتھ ہی وہ استعفیٰ موثر ہو جاتا ہے اور سپیکر کا کوئی کردار نہیں، میں ایوان کا کسٹوڈین ہوں، ارکان اسمبلی کے حقوق کا تحفظ میری ذمہ داری ہے، حکومتی ہوں یا اپوزیشن تمام ارکان اسمبلی میرے لئے یکساں اہم ہیں۔ میں نے استعفوں کی تصدیق کے لئے اپوزیشن ارکان کو  ملاقات کی دعوت دی تھی لیکن کوئی ایک رکن بھی مجھے اپنے استعفی سے متعلق مطمئن کرنے کیلئے سپیکر چیمبر میں نہیں آیا۔ تحریک انصاف کے استعفوں کے معاملے پر آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا، گروپ میں آنا آئین اور رولز کے خلاف ہے۔ تمام ارکان کو 10/10 منٹ کا وقت دیا گیا وہ نہیں آئے۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار شیر علی گورچانی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پانچ ارکان اسمبلی کے استعفے مشکوک ہیں اس لئے سپیکر نے تصدیق کیلئے فرداً فرداً بلانے کا فیصلہ کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردارشیر علی گورچانی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان سے فرداً فرداً تصدیق کا مقصد یہ ہے کہ کہیں یہ استعفے دبائو میں تو نہیں دئیے گئے۔ بعض استعفوں کو چیئرمین کے نام تحریر کیا گیا ہے، بعض استعفوں پر اوور رائٹنگ ہے اسلئے وہ استعفیٰ مشکوک ہوگئے ہیں۔