بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے معاملات

08 نومبر 2014

صدر جنرل ضیاءالحق کے عہد میں فیصل مسجد اسلام آباد میں اسلامی یونیورسٹی قائم ہوئی تھی فیصل مسجد بذات خود پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کی محبت کی کہانی ہے۔ چونکہ صدر ضیاءالحق ملک میں اسلامی نظام اور شرعی نظام کے نفاذ کے داعی تھے لہٰذا سعودی عرب کی مدد سے نیا بین الاقوامی یہ ادارہ قائم ہوا تھا مکہ مکرمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حسان کو سعودی حکومت نے اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا وائس چانسلر بنا کر بھیجا تھا ڈاکٹر محمد افضل جو وزیر تعلیم تھے وہی ریکٹر بنے تھے۔
 اس زمانے میں فیصل مسجد میں اور ان کی رہائش گاہ پر ہماری ڈاکٹر حسان سے لاتعداد ملاقاتیں ہوئیں وہ بہت بڑے فقہی اور مجتہد و عالم دین تھے۔ ادارہ تحقیقات اسلامی کو بھی اسلامی یونیورسٹی کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ اس یونیورسٹی کا بنیادی مقصد چونکہ شرعی و قانونی اور دین علوم میں وکلاءو ججز اور اہل علم کی تعلیم و تربیت کا مقصد تھا لہٰذا -1:
 کلیتہ الدعوة و اصول الدین
 -2 کلیتہ الشرعیہ و القانون
 -3 کلیتہ اللغتہ العربیہ قائم ہوئے تھے۔
 وکلا اور ججز کی شرعی (قانونی) نظام عدل کی تعلیم و تربیت اس عہد میں ہوئی تھی ڈاکٹر حسان یا دوسرے لفظوں میں سعودی عرب جہاں فیصل مسجد کا بانی ہے تو وہ بین الاقوامی یونیورسٹی کا بھی بانی ہے۔ بعدازاں ڈاکٹر محمود احمد غازی اس کے وائس چانسلر بنے۔ اس عہد میں وائس چانسلر کو ”صدر“ یونیورسٹی کا نام ملا تھا صدر جنرل مشرف کے روشن خیال عہد میں ڈاکٹر انوار صدیقی صدر بنے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے اساسی مقصد کو پس پشت ڈالا اور دیگر دنیاوی علوم کی تدریس کے شعبے قائم کر دئیے تھے ہمارے خیال میں یہ انتہائی غلط کام ہوا تھا کیونکہ یہ یونیورسٹی بنیادی طور پر نظام عدل کو اسلامی بنانے کے لئے مطلوبہ افرادی قوت یعنی وکلا اور ججوں کی تعلیم و تربیت کا ادارہ ہے بہرحال ڈاکٹر حسان کے بعد طویل مدت تک پاکستانی افراد اس یونیورسٹی کے کرتا دھرتا رکھے تھے ملک معراج خالد اور پروفیسر فتح محمد ملک اس کے ریکٹر رہے تھے۔
 صدر زرداری کے عہد میں سعودی عرب کی محمد بن سعود یونیورسٹی ریاض کے وائس چانسلر جناب ڈاکٹر احمد الدروویش کو صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بنا کر مدعو کیا گیا تھا جبکہ ان کی تنخواہ پاکستان نہیں سعودی حکومت دیتی ہے۔ غیر ملکی اور پاکستانی طلبہ کے تعلیمی وظائف بھی اکثر سعودی حکومت دیتی ہے یہ فیوض و برکات ڈاکٹر احمد الدروویش کو صدر یونیورسٹی بنانے اور ان کی ذاتی توجہ اور محبت کا ثمر ہے۔
 جامعتہ الامام 9 اساتذہ بھجوانے کی منظوری دے چکی ہے۔ ہماری تاحال ڈاکٹر احمد الدروویش سے ملاقات نہیں مگر نوائے وقت میں برادرم جاوید صدیق نے ان کی ایک تحریر کا ترجمہ شائع کیا تھا اس کے مطالعہ سے ڈاکٹر الدروویش کی علمی ثقاہت سے آگاہی ہوئی تھی۔
ہم ماضی بعید میں یونیورسٹی استاد بننے سے بہت پہلے محترم ڈاکٹر طاہرالمنصوری سے واقف تھے۔ سنا ہے ماشاءاللہ وہی باذوق پاکستانی یونیورسٹی میں ایک شعبے کے نائب صدر ہیں۔
چند ہفتے پہلے قائداعظم یونیورسٹی اور نمل یونیورسٹی اسلام آباد میں اقوام متحدہ کی مدد سے کلچرل فیسٹیول منعقد ہوئے تھے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں بھی ایسا ہی کلچرل فیسٹیول فیصل مسجد کے زیر سایہ منعقد ہوا تھا۔ کیا یہ سازش تھی یا محض غلطی کہ کچھ طلبہ و طالبات نے اقوام متحدہ کے کلچرل فیسٹیول میں فیصل مسجد کے زیر سایہ اسرائیل کا سٹال لگا دیا جہاں اسرائیل کے بارے میں معلومات اور بہتر امیج کا ماحول تھا جونہی یونیورسٹی انتظامیہ کو خبر ہوئی یہ سٹال فوراً ختم کروا دیا گیا تھا۔
فیسٹیول کے آغاز میں جو افتتاحیہ ہوا تھا۔ اس میں فلسطینی مسلمانوں کی بھرپور حمایت ہوئی تھی اسرائیلی مظالم کی بھی شدید مذمت ہوئی تھی مگر دلچسپ معاملہ یہ ہوا کہ چند عناصر نے اس سٹال کے فوٹو بنا کر اسے نجی میڈیا کو بھجوا دیا اور پھر نجی میڈیا اور اخبارات میں خود شور مچایا گیا تھا یونیورسٹی انتظامیہ کو اسرائیلی سٹال لگانے کی اجازت کے الزام سے دوچار کیا گیا تھا حالانکہ عملاً یونیورسٹی انتظامیہ نے نہ اس کی اجازت دی اور جونہی خبر ملی سٹال کو بند کروا دیا تھا۔
 ڈاکٹر طاہر منصوری جو ہماری دانست میں فکر و دانش مودودی سے کچھ کچھ متاثر تھے نے تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر ان معاملات کی تحقیق کی اور پھر یونیورسٹی انتظامیہ کو اس معاملے میں بے گناہ اور پاک و صاف قرار دے دیا ہے مگر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کو کئی عشروں سے یرغمال بنانے والی طلبہ تنظیم اور اس کے کچھ سرپرستوں نے اس معاملہ کو انتہائی غلط انداز دیا ہے ان کے ایسا کرنے سے یونیورسٹی کی بین الاقوامی ساکھ خراب ہوئی ہے ہم نے بہت غور کیا کہ خود کو دین اور اسلامی نظام کے نفاذ کے داعی بتانے والوں کی زیر اثر طلبہ تنظیم نے ایسا منفی کردار کیوں اپنایا؟ صرف ایک ہی بات سمجھ آتی ہے کہ کسی طریقے سے ڈاکٹر احمد الدروویش کو صدر کے منصب سے علیحدہ کروایا جائے اور صدر کے منصب پر جماعت اسلامی کے ذہن سے قریب تر کسی فرد کو متعین کروایا جائے۔
ممکن ہے مصر میں صدر محمد مرسی کے اقتدار سے اخراج اور جنرل عبدالفتاح السیس کی حمایت میں سعودی کردار کی ناپسندیدگی ظاہر کرنے کے لئے ایک سعودی فقیہہ و مجتہد پروفیسر ڈاکٹر احمد الدروویش کے خلاف یہ سب محاذ آرائی کی گئی ہو لیکن ہم متنبہ کرتے ہیں کہ خدانخواستہ اگر یہ سازش کامیاب ہوئی تو ریاض اور اسلام آباد میں سرد مہری آئے گی۔ ڈاکٹر احمد الدروویش خود نہیں آئے تھے انہیں پاکستانی حکومت نے خود سعودی حکومت سے حاصل کیا تھا ان کے آنے سے بہت سے دکھائی دینے والے اور بہت سے دکھائی نہ دینے والے فوائد اس یونیورسٹی کو حاصل ہو چکے ہیں کیا یہ فوائد پاکستانیوں کو حاصل نہیں ہو رہے اور غیر ملکی طلبہ کی صورت مسلمان دنیا کو حاصل نہیں ہو رہے؟ ہم نہایت دکھ سے اس معاملے کو کالم کا موضوع بنا رہے ہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...