امریکی الزامات اور حکومت کی حکمتِ عملی

08 نومبر 2014

واہ واہ --- کیا خوب دوستی ہے! کیا تعلقات ہیں! کیا کہنے! --- امریکہ زندہ باد! بہت یارانہ لگتا ہے؟ ایسے دوست کے ہوتے ہوئے کسی دشمن کی ضرورت ہی کیا ہے بلکہ کسی دشمن کی گنجائش ہی کہاں بچتی ہے۔ پاکستان امریکہ کا اتحادی، امریکہ کی سالمیت کی جنگ کا فرنٹ لائن فرینڈ، امریکہ کی خود ساختہ دہشت گردی کے خلاف اندھی جنگ کا ساتھی --- پاک امریکہ دوستی زندہ باد!
آج وہی دوست ہمیں طعنے دے رہا ہے بلکہ پینٹاگون کی طرف سے پاکستان پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان، بھارت اور افغانستان کے خلاف دہشت گردی کروا رہا ہے۔ کیا خوب! پاکستان کی مذمت اور امریکی سفیر سے احتجاج --- ظاہر ہے امریکہ کے خلاف اس سے بڑھ کر ہم کر بھی کیا سکتے ہیں لیکن امریکہ کو پاکستان پر اس قسم کے گھٹیا الزامات لگاتے ہوئے بالکل شرم نہیں آتی اور شرم بھی کیسے؟ امریکی قوم فطرتاً بے وفا ہے-- اس قوم کو اپنے مفادات کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا اور نظر آئے بھی کیوں؟ وطن پرستی کا تقاضا ہی یہی ہے کہ فقط اپنے ملک اور اپنی قوم کے مفادات کا تحفظ کیا جائے دنیا جائے بھاڑ میں۔ جو حکمران اپنے ملک و قوم سے مخلص ہیں انہیں صرف اپنے قومی مفادات کے سوا کسی سے کوئی غرض نہیں ہوتی، ان کی دوستیاں اور دشمنیاں سب اپنے ملک اور قوم کے مفادات کی خاطر ہوتی ہیں۔
لیکن پاکستان کو کم از کم ایک بات امریکہ کو باور کروانا چاہئے کہ امریکہ نے جو پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلا رکھی ہے اس کا کیا جواز ہے؟ مشرقِ وسطیٰ کے ہر ملک میں دیکھ لیں --- عراق، شام، لیبیا، یمن اور اب مصر میں بھی براہ راست امریکہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے لیکن کوئی اُسے پوچھنے والا، روکنے ٹوکنے والا نہیں کیونکہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے لہٰذا جو اس کے جی میں آتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ اُسے پتہ ہے کہ کوئی اس سے ٹکر لینے کی پوزیشن میں نہیں۔ دوسری طرف اسرائیل نامی امریکی داشتہ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کا امن تباہ کر کے رکھ دیا ہے اور فلسطینیوںکو مسلسل خون میں نہلانا اس امریکی داشتہ کا من پسند مشغلہ ہے۔ یہ امریکی کھیل جب تک روزانہ بیس پچیس فلسطینیوں کے خون کا ناشتہ نہ کر لے اسے چین نہیں پڑتا۔
افغانستان میں الگ امریکہ نے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں اور وہاں بھی اپنی مرضی کی حکومت قائم کر رکھی ہے جو گاہے بگاہے پاکستان سے ”اِٹ کھڑکا“ لگائے رکھتی ہے۔ دوسری طرف بھارت کو بھی اب امریکہ نے ہلہ شیری دے دی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بھارت نے پاکستانی سرحدوں پر ”منی وار“ کا آغاز کر دیا ہے اور پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان نے ایٹمی قوت حاصل کر لی ہے ورنہ امریکہ اور بھارت مل کر اب تک پاکستان کو ہڑپ کر چکے ہوتے۔ یوں تو پاکستان کے داخلی، خارجی، دفاعی اور دیگر حساس ترین معاملات میں امریکی مداخلت کا سلسلہ کم از کم گزشتہ چار دہائیوں سے جاری ہے۔ اور اس میں سب سے زیادہ اضافہ مشرف دور میں ہوا جب نائن الیون کا ڈرامہ رچایا گیا لیکن یہ بات ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کے حساس معاملات میں امریکی مداخلت کو اگر کسی حکومت نے روکا ہے یا روکنے کی کوشش کی ہے تو وہ میاں نواز شریف کی حکومت ہے۔ 1998ءمیں بھی امریکی صدر بل کلنٹن کے شدید ترین دباﺅ کے باوجود نواز شریف نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کئے اور پاکستان کو عالمی سطح پر ایٹمی قوت کے طور پر منوایا اور اب بھی امریکہ کو نظر انداز کر کے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے چین کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور دیگر منصوبوں کے لئے دعوت دی، اس بات کا غصہ بھی امریکہ پاکستان پر نکال رہا ہے۔
اب امریکہ کے آئندہ پروگرام کے مطابق افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد وہاں بھارتی فوجوں کو تعینات کیا جائے گا تاکہ پاکستان کا گھیرا مزید تنگ کیا جائے اور پاکستان کو مزید دباﺅ میں لایا جا سکے۔ ایسی صورت میں پاکستان کی دونوں سرحدوں پر بھارت ہمارا ناطقہ بند کرنے کے لئے بیٹھا ہو گا۔ ایران سے ویسے ہی ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں گویا پاکستان کو ہر طرف سے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے پاکستانی حکومت کو نہایت دانشمندی اور مصلحت اندیشی کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرنا پڑے گی۔ افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات کو دوستانہ اور برادرانہ بنانا ہوں گے، بھارت کو بھی مذاکرات کی میز پر لانا ہو گا اور امریکہ سے بھی بہت سنبھل کر کوئی دوستانہ پالیسی بنانا ہو گی۔ اب مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا بہت سخت امتحان اور آزمائش کا وقت ہے۔ دیکھئے حکومت اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے؟