پرویز رشید کی عمران کو مذاکرات کی ایک اور پیشکش

08 نومبر 2014

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے ایک بار پھر تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے دروازے مذاکرات کیلئے کھلے ہیں۔ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے جواباً کہا ہے کہ مذاکرات کیلئے حکومت کا دروازہ تو کجا کوئی روشن دان بھی کھلا نہیں ہے۔ تاہم تحریک انصاف کے سینئر لیڈر عارف علوی نے کہا ہے کہ مذاکرات کی دعوت پبلک بیانات کے ذریعے نہیں باقاعدہ مراسلات کے ذریعے دی جانی چاہیئے۔ حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات 30 اگست کو دھرنوں کے شرکاءکے خلاف پولیس کی کارروائی کے بعد ختم ہوگئے تھے۔ مذاکرات کی نئی پیشکش حکومت کی طرف سے اس آس کے ٹوٹنے کے بعد آئی ہے کہ تحریک انصاف کا دھرنا خصوصاً عوامی تحریک کے علامہ طاہرالقادری کے دھرنا اٹھا لینے کے بعد خود بخود ختم ہو جائیگا تاہم مذاکرات کی نئی پیشکش اور قبولیت کو ابھی صرف ابتدائی رابطہ ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس پیشکش اور قبولیت کا مقصد سردست یہ ہوسکتا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف دونوں یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انکا موقف ضد پر مبنی نہیں بلکہ وہ سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں طے کرنے کے اصول پر یقین رکھتی ہیں۔ اگر حکومت کا مقصد مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہوتا تو اس پیشکش میں کم از کم یہ بات شامل ہوتی کہ حکومت تحریک انصاف کے تین یار چار مطالبات تسلیم کرچکی ہے اور باقی معاملات پر گفتگو ہوسکتی ہے۔ عمران خان بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم کے مستعفی ہوئے بغیر دھرنا ختم نہیںکرینگے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش میں انکے اس مطالبہ کا نوٹس لیا جانا چاہیئے تھا۔ کم از کم یہ کہا جاسکتا تھا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ کے سوا دیگر مطالبات پر گفتگو ہوسکتی ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے میڈیا سے گفتگو کے دوران تحریک انصاف کو جو دعوت دی ہے وہ مذاکرات کی کھلی دعوت ہے جسکا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت وزیراعظم نواز شریف کے استعفیٰ کے مطالبہ پر بھی غور کرسکتی ہے حالانکہ یہ گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حکمران مسلم لیگ ن کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش اگر سوچا سمجھا فیصلہ ہے تو یہ اس وقت آیا ہے جب سپریم کورٹ 2013ءکے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کرچکی ہے لیکن اس بنیاد پر کہ اس کیلئے مناسب ثبوت پیش نہیں کئے گئے اور یہ کہ انتخابی نتائج کی پڑتال کا کام الیکشن ٹربیونلز کا ہے سپریم کورٹ کا نہیں۔ مذاکرات کی پیشکش اس وقت آئی ہے جب عمران خان 30 نومبر کو ڈی چوک میں بڑے جلسے کی کال دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ محرم کے بعد شہر شہر جا کر لوگوں کو متحرک کرنے کے پروگرام کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔ وہ احتجاج کا اگلا پروگرام بھی دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔ انکی تقریروں میں اب محض انتخابی دھاندلی اور کرپشن کے موضوع کے علاوہ غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری اور ناانصافی کے موضوعات بھی شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ اس طرح یہ محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ ملک بھر میں عوام کے بنیادی مسائل کے حوالے سے حکومت کیخلاف مہم چلائیں گے اور مڈٹرم انتخابات پر زور دینگے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی والے بھی فرینڈلی اپوزیشن کا کردار اور ڈرائنگ روم کی سیاست کو چھوڑ کر اب عوامی سیاست میں آرہے ہیں۔ انہوں نے روزگار کو اپنا موضوع بنایا ہے اور وہ محنت کش کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں نظر آتے ہیں۔ عوامی تحریک کے علامہ طاہرالقادری بھی یہ کہہ کر گئے ہیں کہ وہ 16 نومبر کو واپس پاکستان آئینگے اور عوامی تحریک کی انتخابی سیاست کا آغاز کرینگے۔ اس طرح حکمران مسلم لیگ کی مشکلات میں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ پرویز رشید نے تحریک انصاف کو اسمبلی میں آنے کا بھی مشورہ دیا ہے لیکن عمران خان اس پر تیار نہیں ہیں۔ اگر تحریک انصاف کی چھوڑی ہوئی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کو اب اتنی مقبولیت حاصل نہیں رہی کہ وہ ان نشستوں پر انتخابات جیت سکے جو جاوید ہاشمی کی شکست سے ظاہر ہے۔ دھرنوں نے عوام میں سیاسی بیداری پیدا کردی ہے۔ وہ عمران خان کی بات سنتے ہیں کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت جتنی کم ہوئی حکومت پاکستان نے اس سے آدھی کے قریب قیمتیں کم کی ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں جو نو روپے تینتالیس پیسے فی لیٹر کمی کی ہے یہ انکے دھرنے کے باعث کی ہے۔ حکومت یہ کریڈٹ لیتی ہے کہ اس نے عوام کی خاطر پیٹرول کی قیمت میں کمی کی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ عمران خان کئی ہفتے سے دھرنے سے خطابات میں حکومت پر زور دے رہے تھے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کمی کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات میں کمی ہونی چاہیئے۔ لیکن پیٹرول کی قیمت میں کمی نہ حکومت نے کی ہے نہ دھرنوں نے بلکہ یہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ہوئی ہے۔ البتہ یہاں بھی حکومت نے ڈنڈی ماری ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں جو کمی ساڑھے اٹھارہ روپے ہوئی وہ پاکستان میں ساڑھے نو روپے کے قریب کی گئی۔ بجلی کے بلوں میں اربوں روپے کے اضافے پر عوام بہت پریشان ہیں وہ عمران خان کی اس بات کو بھی درست قرار دے رہے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئی تو آٹے کی قیمت کیوں بڑھ گئی۔ خود وزیراعظم نواز شریف نے گذشتہ روز یہ کہا کہ دھرنے والے الزامات لگانے کی بجائے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں۔ تو کیا مذاکرات کی حالیہ پیشکش کا مقصد تحریک انصاف کو ملک کی ترقی اور تعمیر میں حصہ لینے کی پیش کش کرنا ہے؟ ایسی پیشکش تحریک انصاف کو پہلے بھی ہو چکی ہے۔ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے متعلق حکومت کی طرف سے کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ اس لیے مذاکرات کی حالیہ پیش کش بھی حکمران مسلم لیگ کی طرف سے وقت گزاری کا حصہ سمجھی جائے گی جب تک حکومت مذاکرات کیلئے ٹھوس اور قابل قبول ایجنڈا نہیں دیتی۔عوامی تحریک کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کے بعد یہ تصور کرنا کہ تحریک انصاف بھی خاموشی سے گھر چلی جائیگی سیاسی سوچ نہیں ہے اور نہ ہی استعفیٰ منظور کرنے سے احتجاجی تحریک ختم ہوگی۔ اس کا صرف حل یہی ہے کہ دونوں بات چیت کے ذریعے معاملہ کو حل کریں۔