مائیگرین یا درد شقیقہ

08 نومبر 2014

انعم حمید
سر کا درد ایک ایسی بیماری ہے جس میں عموماً ہر کوئی مبتلا ہوتا ہے۔ سر میں درد کی لہر سی اٹھی اور آپ کی معمولی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور آپ معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھیں۔ بیشتر افراد زندگی میں کبھی نہ کبھی سر درد کا شکار ضرور ہوتے ہیں۔ ویسے اس کی وجوہات تو خاصی ہیں لیکن عام سر کا درد تیز دھوپ ‘ تیز روشنی‘ نیند کی کمی‘ تھکن‘ جسم میں شوگر کی سطح کا کم ہونا‘ بلڈ پریشر کم ہونا‘ تیز ہوا‘ شور‘ دھواں ‘ آلودگی، چاکلیٹ اورکولڈ ڈرنک کے زیادہ استعمال سے ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ غصہ کرنا ‘ بے صبری اورمقابلہ بازی بھی سردرد کا باعث بن سکتی ہیں۔
دنیا بھر میں بہت سے لوگ آدھے سر میں درد کی شکایت کرتے ہیں۔ یہ درد عام سر کے درد سے بالکل مختلف ہوتا ہے اس درد کو مائیگرین یا درد شقیقہ کہا جاتا ہے۔ عموماً لوگ اس مرض کی حقیقت سے آشنا نہیں ہوتے۔ اس مرض کے شکار اس درد میں کئی گھنٹے یا کئی دن تک مبتلا رہتے ہیں۔ مائیگرین کی شدت کافی زیادہ ہوتی ہے اور اس کا دورانیہ بھی کافی طویل ہو سکتا ہے یہ درد 2 گھنٹوں سے لے کر 72 گھنٹوں تک مریض کے لئے تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ اس مرض کے چار مراحل ہوتے ہیں پہلا مرحلہ ”پروڈروم“ جوتکلیف شروع ہونے سے کچھ گھنٹوں یا ایک دن پہلے بھی ہو سکتا ہے۔ دوسرا مرحلہ ”اورا“کہلاتا ہے۔ تیسرے مرحلے کو ”پین فیس“ کہا جاتا ہے جس میں مریض کو شدید درد ہوتا ہے۔ مائیگرین کا چوتھا اور آخری مرحلہ ”پوسٹ ڈروم“ کہلاتا ہے مائیگرین کا مرض عموماً دو سے تین فیصد لوگوں مےں موروثی ہوسکتا ہے۔ اور یہ تکلیف خاندانوں میں نسل در نسل چلتی رہتی ہے۔ مائیگرین کی اہم وجوہات میں ذہنی دباﺅ‘ فاقہ، چائینز کھانے، ہارمونز کی تبدیلی اورموروثیت قابل ذکر ہیں بعض اوقات نیند میں کمی کے شکار افراد کو بھی یہ مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کو زیادہ سونے سے آفاقہ ہو سکتا ہے۔ مائیگرین کے شکار افراد کو زیادہ روشنی اور آوازیں بری لگتی ہیں ۔ کیونکہ ایسی چیزیں ان کی تکلیف میں اضافے کا باعث بنتی ہیں اس مرض میں مبتلا کچھ افراد کے سر میں آدھے سر کا درد ہوتا ہے اور بعض میں پورے سرکا درد ہوتا ہے جو کہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے ایک اندازے کے مطابق مائیگرین کے شکار افراد میں خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ آج کل خواتین چونکہ دبلا پتلا رہنے پر زیادہ توجہ دیتی ہیں اور اس کے لئے ورزش کے ساتھ مختلف طریقے اختیار کرتی ہیں اور ادویات کا سہارا لیتی ہیں‘ بعض خواتین فاقے بھی کرتی ہیں جس کے نقصانات میں سے ایک اہم نقصان مائیگرین ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چائینز کھانوںمیں سوڈیم ملا ہوتا ہے جوسردرد کا باعث بنتا ہے۔ ماحول جہاں ہماری زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے وہیں اس سے چند بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں اکثر گھروں میں خواتین کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں کیا جاتا جس سے وہ ٹینشن اور ذہنی تفکرات میں مبتلا ہو کر مائیگرین جیسے خطرناک مرض کا شکار ہو جاتی ہیں۔مائیگرین کی اہم علامات میں متلی یا قے آنا اور مریض کو چیزیں دھندلی نظر آنا وغیرہ شامل ہیں۔ اس مرض کے شکار افراد کو عموماً علامات سے پتہ چل جاتا ہے کہ انہیں درد شروع ہونے والا ہے۔ اگر اسی وقت ہی علاج کر لیا جائے تو مریض کو آرام مل سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ مریض کو چاہئے کہ وہ اپنی عادات کو معمول کے مطابق تبدیل کرے وقت پر سوئے اور نیند پوری کرے تاکہ مائیگرین کے حملے سے بچ سکے۔ مائیگرین کے حملے کے دوران کئی مریض آنتوں کی سستی کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے درددور کرنے والی دوائیں ان کے خون میں دیر سے جذب ہوتی ہیں مائیگرین کے بعض مریضوں میں دوسروں کے مقابلے میں فالج کی زد میں آنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مائیگرین کی مکمل تشخیص بہت ضروری ہے کیونکہ یہ ایک نہیں بلکہ کئی جسمانی عوارض کا سبب بن سکتی ہے۔ مائیگرین سے فوری نجات حاصل کرنے کے لئے مریض کے پاس ہر وقت ایسی دوا کی موجودگی ضروری ہے جس کے استعمال سے اسے آفاقہ ہوتا ہو۔ لیکن اگر طبعیت زیادہ خراب ہو اور مائیگرین کی شدت میں زیادہ اضافہ ہو تو فوری طور پر معالج سے رجوع کر لینا چاہئے تاکہ اس مرض سے بچا جا سکے۔