بلڈپریشر.... ایک موذی مرض

08 نومبر 2014

عائشہ لیاقت
 دورحاضر کاسب سے خطر ناک مرض بلڈ پریشر ثابت ہو رہا ہے۔ بلڈ پریشر کو چیک کرنے سے پہلے کم از کم دس منٹ آرام کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن پوری دنیا میں ڈاکٹروں نے اس بنیادی اصول کو وقت اور پیسے کے لئے بھلادیا ہے۔ ڈاکٹر اقبال احمد خان بلڈپریشر کے حوالے سے کچھ یوں تحریر کرتے ہیں کہ روزانہ کی زندگی گزار نے کے لئے اعتدال کے ساتھ بلڈ پریشر کا بڑھنا نہایت ضروری ہے تاکہ انسانی جسم کے اُن اعضاءکو خون کی سپلائی میں اضافہ ہو خون اپنے ساتھ جسم میں غذائیت اور آکسیجن لے کر جاتا ہے تاکہ عضو مکمل طور پر کام کر سکیں۔ ذہن اور جسم یہ کام دل کی دھڑکن یا نبض کو بڑھا کر کرتے ہیں۔ اس بات کو آپ یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے ہی آپ کے ذہن میں کوئی خیال آتا ہے اور وہ خیال ارادے میںتبدیل ہوتا ہے ویسے ہی دل کی دھڑکن میں ہلکا سا اضافہ ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ ایک فطری اورمثبت چیز ہے ۔ لیکن اگر خدانخواستہ پہلے ہی سے بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہو تو اس کے نتائج بھیانک ثابت ہوسکتے ہیں۔ بلڈ پریشر دو طرح کا ہوتا ہے ہائی بلڈ پریشر اورلوبلڈ پریشر ،ہائی بلڈ پریشرکو خاموش قاتل کہا جاتاہے۔ اس مرض میں آپ کی خوراک ہی آپ کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے اوراس طرح آپ کئی قسم کے پسندیدہ کھانوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ عام آدمی کو کم از کم مہینہ میں ایک بار ضرور بلڈ پریشر چیک کروانا چاہئے۔ بلڈ پریشر کا علاج کرنے سے قبل مرض کا اصل سبب دریافت کرنے کی کوشش کریں۔ اس مرض میں مبتلا فرد کو رات کو خصوصی طور پر پیشاب کی زیادتی ہوتی ہے اور معمولی بات پر بھی غصہ آجاتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا افراد کو ہر قسم کے معمولی نشہ سے پرہیز کرنا چاہئے نمک ،گرم اورتیز مصالحہ جات اورگوشت سے بھی مکمل پرہیز کرنا چاہئے۔ بلڈ پریشر میں جہاں کھانے میں مکمل احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے وہیں ایسی بہت سی چیزیں بھی ہیں جو انتہائی مزیدار ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کا بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ اس میں تربوز‘ امرود‘ کیلا‘ ٹماٹر ،انڈے کی سفیدی ،ڈارک چاکلیٹ، ہربل چائے اور کشمش جیسی غذائیں ہیں جن کا استعمال نہ صرف مریض کو بلڈ پریشرکے مرض سے کافی حد تک محفوظ رکھ سکتا ہے جبکہ فشار خون کی شرح بھی کم ہو جاتی ہے اور یہ غذائیں بلڈ پریشرکو معمول میں رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اب بلند فشار خون یا المعروف بلڈ پریشر کاعلاج ایک سادہ آپریشن کے ذریعے بھی ممکن ہوسکے گا۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ شور بھی بلڈ پریشرکا خطرہ بڑھانے میں اہم ثابت ہوتا ہے۔ جب انسان کا ساسٹولک پریشر (systolic Pressure) نارمل حد سے کم ہو جاتا ہے تو بلڈ پریشر گر جاتا ہے اور جب بلڈ پریشر گرتا ہے تو خون جسم کے وائٹل آرگنز مثلاً دل و دماغ گردے کو مناسب مقدار میں سپلائی نہیں ہوتا۔ اسے لو بلڈ پریشر کہتے ہیں۔ لو بلڈ پریشر کی اہم ترین علامت چکر آنا یا غش کھانا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے‘ نبض کی رفتار بہت سست ہوجاتی ہے متلی اور بے چینی کی صورتحال پیش آتی ہے تھکاوٹ اورگھبراہٹ محسوس ہوتی ہے اور ہلکا ہلکا سر میں درد اورآنکھوں کے سامنے اندھیرا آجاتا ہے۔ یہ مرض معدہ یا جگر کے کمزور ہونے کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ بلڈ پریشر کو روایتی طور پر دو اعداد و شمار میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ پہلا عدد سسٹولک پریشر ظاہر کرتا ہے جبکہ بعد والا ڈیسٹولک ہوتا ہے۔ سسٹولک پریشر وہ زیادہ سے زیادہ دباو¿ ہے جو دل کے سکڑنے کے دوران شریانوں پر پڑتا ہے جبکہ ڈیسٹولک پریشر وہ کم سے کم دباو¿ ہے جس کی پیمائش دل کی دھڑکنوں کے درمیان کی جاتی ہے۔ بالغ افراد میں140/90mm hg سے زیادہ بلڈ پریشر نہیں ہونا چاہئیے ۔ بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال‘ پروٹین سے بھر پور غذا کا استعمال معاون ثابت ہوتا ہے۔

ملیریا ایک متعدی مرض

ڈاکٹر محمد عرفان چودھریirfanch1972@gmail.com ملیریا بخار مچھر سے پھیلنے والا ایک ...