حکومت کو بیک وقت چار وائرس کا چیلنج درپیش

08 نومبر 2014

فرزانہ چودھری
ملک کے مختلف شہروں میں پولیو، ڈینگی کے بعد کانگو وائرس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ پولیو کی ویکسین کرانے کے بعد بھی پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ لمحہ فکریہ ہے جبکہ پولیوکیخلاف مہم میں لاکھوں بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جا چکے ہےں اور ےہ سلسہ ابھی بھی جاری ہے۔اسی طرح ڈینگی بخار مےں مبتلا مرےضوں کی تعداد مےں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت ملک بھر سے پولےو کے تقرےبا 321ً کےس رپورٹ ہو چکے ہےں جبکہ پنجاب بھر سے تقرےباً828 ڈےنگی کے کےس رپورٹ ہوچکے ہےں۔ آجکل پولیو، ڈینگی کے علاوہ کانگو اور اےبولا وائرس کا چرچا بھی عام ہے ۔حکومتی سطع پر ایبولا وائرس سے بچنے کی انتظامات بھی کئے جا رہے ہیںاور عوام کے لےے اگاہی مہم بھی شروع ہو چکی ہے۔ ڈینگی وائرس کے بعد اب کانگو وائرس وبائی شکل اختیار کررہا ہے اور اس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ پنجاب میں محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ نے کانگو وائرس پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ لائیو سٹاک کی جانب سے تمام ضلعی حکومتوں کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔ محکمہ لائیو سٹاک کے مطابق کانگو وائرس مویشیوں پر پائی جانے والی چیچڑیوں کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ یہ بیماری مویشیوں کو متاثر نہیں کرتی تاہم یہ وائرس انسانوں کےلئے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
 پروگرام منےجر ٹی بی کنٹرول پروگرام اور سابق مےڈےکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالمجےد اختر نے بتا ےا ” کانگو وائرس گوالہ کالونی میں پایا گیا ہے۔ کانگو وائرس مویشیوں کے جسموں پر پلنے والی چیچڑیوں(ٹکس) میں پایا جاتا ہے۔ اس کےڑے میں کانگو وائرس پایا جاتا ہے جب یہ کیڑا جانوروں کو کاٹتا ہے تو کانگو وائرس اس میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس لئے کسی بھی جانور کے خون آلود گوشت کو ہاتھ مت لگائیں۔ اس کو دستانے پہن کر دھوئیں۔ یہ کیڑا (ٹکس) اگر انسان کو کاٹ لے یا پسو سے متاثر جانور کو ذبح کرتے ہوئے اس کا خون قصائی کے جسم پر لگے کسی زخم یا کٹ پر لگ جائے تو یہ وائرس اس کے خون میں شامل ہو جاتا ہے اور پھر یہ ایک انسان سے دوسرے انسان اور جانوروں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ کینسر سے بھی زیادہ خطر ناک مرض ہے۔ اس میں مبتلامریض ایک ہفتے کے اندر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اس میں مریض کے جسم کے خون میں منجمد ہونے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں جسم میں اندرونی اور بیرونی طور پر خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ خون کے خلیات کی کمی کانگو بخار کی خاص علامت تصور کی جاتی ہے۔ کانگو وائرس عموماً ایسے علاقوں میں زیادہ عام ہوتا ہے جہاں بھیڑ بکریاں یا مویشی پائے جاتے ہیں۔ اس وائرس کے کیسز سندھ اور بلوچستان مےں رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ اس مرض میں مریض کو بخار، سر اور پورے جسم کے جوڑوں مےں شدید درد، کمزوری، الٹیاں اور خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔ تین مغربی افریقی ملکوں سے پھےلنے والا ایبولا وائرس اس وقت آٹھ ممالک میں پایا جاتا ہے ۔ ایبولا وائرس کی علامات ملیریا‘ ٹائیفائیڈ بخاراور ڈینگی بخار سے کافی ملتی جتی ہیں اس لئے اس کی تشخیص کرنا کافی مشکل ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایبولا وائرس سب سے زےادہ چمگادڑوں کی خاص نسل فروٹ Fruit bat سے دیگر جانوروں میں اور پھر جانوروں سے انسہ میں منتقل ہوا۔ دیگر ممالک میں ایبولا وائرس کے اب تک 8400 سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں۔ 10 اکتوبر 2014 تک 4033 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا کہ اگر اس وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لئے مزید اقدامات نہ کئے گئے تو جنوری 2015ء تک ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچنے کا احتمال ہے۔ اس وائرس سے بچنے کے لئے درجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں ہاتھ صابن سے دھوئیں اور صاف ستھرے کپڑے سے پونچیں گھر میں موجودہ زندہ چوہوں اور گھر میں کوئی جانورمر گیا ہے تو اس کو فوراً گھر سے باہر منتقل کر دیں کیونکہ مردہ جانوروں کی لاشوں سے بھی یہ مرض پھیل سکتا ہے۔ جانوروں اور متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کے دوران ہاتھ پر دستانے اور منہ پر ماسک چڑھا لیں تاکہ وائرس سے بچا جا سکے۔ امریکہ اور سپین میں بھی اس وائرس کے اکا دکا مریض پائے گئے ہیں ۔ پولےواور ڈےنگی کے کنٹرول بعد کانگو اور اےبولا وائرس سے بچاو¿ کے لئے حکومت بہترین اقدام کر رہی ہے امےد ہے پاکستان اس موذی وائرس سے بچا رہے گا“۔
شیخ زید ہسپتال کے چیئرمین اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر فرخ اقبال نے بتایا ”پولیو وائرس کو کنٹرول کرنے بلکہ اس کے خاتمے کے لئے حکومت پنجاب سرگرم عمل ہے۔ پولیو وائرس ان بچوں میں پایا گیا جہنےوں نے پولیو ویکسین کے قطرے نہیں پیئے تھے۔ آج کل ڈینگی بخار کے مرےض بھی ہسپتال مےںآ رہے ہےں مگر پجھلے سال کی نسبت رواں سال میں ڈینگی کے بہت کم مریض سامنے آئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو اس وائرس سے بچاﺅ کے بارے میں آگاہی ہو چکی ہے۔ حکومت نے بھی ڈینگی مچھر کے خاتمے کے لئے اپنی ذمہ داریاں خوب نبھائی ہیں اور لوگوں نے بھی بھرپور تعاون کیا ہے۔ گورنمنٹ کی سرویلنس ٹیمیں سروے کرتی ہیں اور جہاں پر ڈینگی لاروا ملتا ہے وہاں ذمہ دار افراد کےخلاف مقدمہ درج کیا جاتا ہے اور سزا کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈینگی بخار اس مرتبہ وبا کی صورت اختیار نہیں کر سکا۔ پنجاب کی نسبت کراچی میں زیادہ ڈینگی بخار کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بخار میں مبتلا جب بھی کوئی مریض آتا ہے اس کے علامات کی بنا پر ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ آج کل ڈینگی وائرس تھری اور ٹو کے مریض زیادہ ہیں۔ ڈینگی کے بعد کانگو اور ایبولا وائرس کے بارے میں آگاہی مہم بھی جاری ہے۔ کانگو ایک وائرل انفیکشن ہے۔ کانگو بخار کے مریض ابھی تک پنجاب میں رپورٹ نہیں ہوئے ہیں۔ کانگو سینٹرل افریقہ کی وائرل بےماری ہے۔ ایک ملک سے دوسرے ملک میں اس وائرل انفیکشن پھےلنے کی وجہ لوگوںکاادھر سے ادھر سفر کرناہے۔ کانگو بخار کی کوئی خاص دوائی نہیں ہے۔ اس کا علاماتی علاج کیا جاتا ہے۔کانگو مرض کی علامات میں مریض کو بخار کے ساتھ کمردرد، سردرد کمزوری اور غنودگی طاری ہوتی ہے۔ اس سے ملٹی آرگن فیلیئر ہو سکتا ہے۔ ایسے وائرس سے بچاﺅ کے لئے احتیاط اور پرہیز بہت ضروری ہے ۔ وائرل امراض کے حوالے سے پنجاب محکمہ صحت کی طرف سے ہمیں سرکلر جاری کر دےا جاتاہے اور لوگوں کی آگاہی کے لئے ہم ہسپتال میں ان موذی وائرسز سے بچاﺅ اور پرہیز کے بارے میں نوٹس بورڈ زپر اور جگہ جگہ پوسٹر لگا دیتے ہیں۔ ایبولا وائرس ابھی تک پاکستان میں نہیں آیا مگر اس کا خدشہ ضرور ہے۔ اس لئے محکمہ صحت کی طرف سے اس سے آگاہی کا سرکلر جاری ہو چکا ہے۔ ایبولا وائرس خطرناک قسم کا وائرس ہے۔ سعودی عرب میں اس وائرس کی تصدےق ہوچکی ہے اور اس ملک مےں بہت سے پاکستانی آباد ہیں اور بہت سے پاکستانی تجارت کی غرض سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ اس لئے اس وائرس کے ٹریول کرنے سے امکانات زیادہ ہیں۔ اس میں ہمےرےجک فیور ہوتا ہے۔ اس مرض میں مریض کو بخار، سر اور پورے جسم کے جوڑوں مےں شدید درد، کمزوری، الٹیاں اور خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف اور نرسز کو بھی اپنے بچاو کے لئے بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ اےسے مرےض کے علاج کے لےے دستانے، اےپرل پہناجائے اور ماسک استعمال کےا جائے اور جوتوںکو اچھی طرح کور رکھیں تاکہ مریض کا علاج کرنے والا اس وائرس سے متاثر نہ ہو سکے۔ مریض کے لواحقین کو بھی اس میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ابھی تک یہ مرض لاعلاج ہے۔ اےبولاا وائرس سے متاثر مریض کو صحتمند افراد اور دیگر مریضوں سے الگ تھلگ رکھنا پڑتا ہے۔“
ایڈیشنل ایم ایس سروسز ہسپتال ڈاکٹر کامران سعید نے بتایا ”ڈینگی اور ایبولا اس لئے خطرناک مرض کہلاتے ہیں کیونکہ دونوں وائرسز کی ویکسین ابھی بنی نہیں ہے۔ پولیو کی ویکسین ہے اور اس کا علاج بھی موجود ہے۔جن ممالک میں ایبولا وائرس پایا جاتا ہے ان میں اس مرض سے شرح اموات 70 سے 80 فیصد ہے اور ان ممالک میں ہیلتھ سسٹم بہترین ہے ۔ پاکستان کا ہیلتھ سسٹم بہتر تو ہے لیکن بہترین نہیں ہے۔ اس لئے خدانخواستہ یہاں پر ایبولا وائرس کی موجودگی پائی گئی تو پھر یہاں اس مرض میں مبتلا مریضوں کی شرح اموات 70 سے 90 فیصد ہونے کا خدشہ ہے۔ تین مغربی افریقی ملکوں لائبریا، سیرےالیون اور گےانا میں یہ وائرس پایا گیا۔ گھنٹوں کے سفر کے بعد لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ جاتے ہیں۔ اس لئے اندیشہ ہے کہ یہ وائرس پاکستان بھی آ سکتا ہے۔ ایبولا وائرس انسان کے جسم کی رطوبت اور پسینے سے پھیلتا ہے۔ پوری دنیا میں اس وائرس سے بچاﺅ کے لئے آگاہی مہم جارہی ہے۔ اس مرض کا علاماتی علاج کےا جا تا ہے اگر قے آ رہی ہے تو قے کی دوائی ، اگر بخار ہے تو بخار کی دوائی ، ہےضہ ہے تو اس کی دوائی دے دی جائے۔ خون زےادہ بہہ گیا ہو تو خون لگا دیا جائے۔ اس وائرس سے بچنے کا بہترین حل یہ ہے کہ جن افریقی ممالک میں یہ وائرس پھیلا ہوا ہے وہاں سے پاکستان آنے والے مسافروں کو ائر پورٹ اور سی پورٹ پر روک لیا جائے اور ان کو 21 دن قرنطینیہ میں رکھا جائے کےونکہ اس کی علامات 21 دن کے بعد ہی ظاہر ہونا شروع ہوتی ہےں۔ اس وائرس کے مریض کو بخار، سر اور پیٹ میں درد اور اہم علامت جسم کے کسی حصے میں خون رسنا ہوتی ہے۔ ایبولا وائرس سے متاثرہ مرےض کے جسم کی رطوبت بھی خطرناک ہوتی ہے۔ اگر یہ رطوبت کسی تندرست شخص کے زخم یا خارش والے حصے پر لگ جائے تو اس کے ذریعے وائرس اس شخص کے خون میں شامل ہو سکتا ہے۔ تھوک، خون، ماں کے دودھ، پیشاپ، پسینے اور فضلے اور جسمانی تعلقات وغیرہ سے بھی یہ ایک سے دوسرے فرد میں ےہ وائرس منتقل ہو جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس وبا سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے دنیا بھر کے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کیونکہ متاثرہ ملکوں سے آنے والے افراد اس وائرس کے پھیلاﺅ کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لئے صفائی کا خاص خیال رکھیں، بازار کی پکی چیزیں مت کھائیں۔ گھر کے ہر کونے میں سورج کی روشنی آنے کا انتظام کریں۔ پاکستان میں ایبولا وائرس پھیلنے کے خدشات موجود ہیں کیونکہ بیرون ممالک سے پاکستان آنے والے مسافروں کا باقاعدہ معائنہ نہیں کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو اس موذی وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے ایبولا سے متاثرہ افریقی ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کا ائےر پورٹ پر ہی معائنہ لازمی قرار دےا جائے۔اس مرض کا آغاز افریقہ میں جنگلی جانوروں سے ہوا۔ یہ وائرس ان جانوروں کے جسم میں موجود ہوتا جو انہیں تو کچھ نہیں کہتا تاہم ان جانوروں کا گوشت کھانے والے افراد اس وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایبولا سے مرنے والے کی نعش کواچھی طرح ڈس انفیکٹ کر کے دفنانا چاہئے تاکہ وائرس ختم ہو جائے کیونکہ اس وائرس کے متاثرہ شخص کی موت کے بعد بھی یہ وائرس زندہ رہتا ہے۔ بیرون ممالک میں تو اس وائرس سے مرنے والے شخص کو جلا دیا جاتا ہے۔ کانگو وائرس بھی اس فیملی کا حصہ ہے۔ یہ بھی ہمےرےجک وائرس ہے۔ ڈینگی کا علاج موجود ہے۔ کانگو، ڈینگی بہت زیادہ خطرناک نہیں ہیں۔ جبکہ ایبولا سے ہونے والی اموات کی شرح70 فیصد ہے۔ ہماری کمیونٹی میں نئی بیماریوں کی آگاہی کے لئے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہم بہتر طریقے سے ان نئی اور خطرناک بیماریوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں“۔