عالمی فوجداری عدالت کا اسرائیل کیخلاف فریڈم فلوٹیلا پر حملے میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے سے انکار

08 نومبر 2014

ہیگ(آن لائن)ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے اسرائیلی فوج کے خلاف مئی 2010ء  میں غزہ جانے والے فریڈم فلوٹیلا پر حملے کے الزام میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے سے انکار کردیا ہے۔ اسرائیلی حملے میں دس ترک رضاکار جاں بحق ہوگئے تھے مگر آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اس حملے کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب تو کیا گیا تھا اور اس کی ٹھوس وجوہ موجود ہیں لیکن اس کے باوجود آئی سی سی کی چیف پراسیکیوٹر فتوح بن سودہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی ایسی تحقیقات نہیں کی جائیں گی کہ جس کے بعد جنگی جرائم کا ممکنہ مقدمہ چلایا جا سکے کیونکہ اسرائیلی کمانڈوز کا حملہ سنگین نوعیت کا نہیں تھا۔بن سودہ نے  ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام متعلقہ مواد کا بڑی احتیاط سے جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ یہ تمام واقعہ اتنی مناسب اور شدید نوعیت کا نہیں کہ جس سے آئی سی سی کے مزید اقدام کا جواز مل سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا۔یادرہے کہ ترکی کے امدادی رضاکاروں نے بحری جہازوں پر مشتمل فریڈم فلوٹیلا کے ذریعے اسرائیلی محاصرہ توڑنے اور غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینیوں کے لئے امدادی سامان لے جانے کی کوشش کی تھی لیکن اسرائِیلی بحریہ کے کمانڈوز نے 31 مئی 2010ء کو اس پر دھاوا بول دیا تھا۔