تماشا گری

08 نومبر 2014

ظفر علی راجا
تماشا پتلیوں کا ہو رہا ہے
جہاں ہم ہیں وہاں تھیٹر ہے کوئی
نچاتا ہے ہمیں ڈوری ہلا کر
پس پردہ تماشا گر ہے کوئی

گدا گری ایک لعنت

کراچی شہر میں گھر سے نکلتے ہی جگہ جگہ بھیک مانگنے والے نظر اتے ہیں جن میں عورت ...